بدکاری

237

مذاہب میں بدکاری کی الگ الگ تعریفیں ہیں۔ انگریزی میں اس کا ترجمہ WRONG DOINGہو گا۔ WRONG DOINGکو اخلاقیات سے نہیں جوڑا گیا، یہ لفظ جرم کا متبادل ہے اور ہر وہ عمل جرم ہے جو کسی فرد اور معاشرے کو کسی بھی انداز میں نقصان پہنچائے اور ظاہر ہے کہ جرم کی نوعیت مختلف ہوتی ہے انتباہ، جرمانہ، جیل، سزائے موت، وغیرہ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ان سب سزائوں کی نوعیت الگ الگ ہی ہوتی ہے دیکھا جاتا ہے کہ WRONG DOINGکی نوعیت کیا ہوتی ہے اور سزا کا تعلق اسی حساب سے ہوتا ہے، وہ سارے جرم جن کو اخلاقیات سے جوڑ دیا گیا ان پر بھی قانون کے PHILOSOPHERSنے بہت سوچا، مثلاً جھوٹ جس کو ہمارے معاشرے میں نظر انداز کیا جاتا ہے اس پرکئی عشروں تک DEPATEرہی اور آخر کار طے پایا کہ ایسا جھوٹ جس سے کسی فرد کو یا معاشرہ کو نقصان ہو وہ قابل سزا جرم تصور کیا جائے گا، جس جھوٹ سے کسی فرد یا معاشرہ کو زک نہ پہنچے ایسا جھوٹ بولا جا سکتا ہے آپ نے اپنے ہمسائے کے بارے میں جھوٹ بولا کہ وہ شائد چور ہے شائد یہ ہمارے معاشرے میں قابل قبول ہو مگر مغربی معاشرہ میں یہ جرم تصور کیا جائے گا اور آپ کا ہمسایہ آپ سے ہرجانے کا مطالبہ کر سکتا ہے اس جھوٹ سے اس کی شہرت کو نقصان پہنچا، ہمارے ہاں یہ کہہ کر معاملہ ختم ہو جائے گا کہ وہ تو لپاڑیا ہے۔
ہمارے دین میں جھوٹ، بددیانتی، کم تولنا، ذخیرہ اندوزی، غیبت، حسد، ملاوٹ، سود وغیرہ معاشرتی برائیاں ہیں اور ان کی مذمت ہی کی گئی ہے اور یہ سمجھا گیا کہ تنبیہ اور نصیحت سے ان برائیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے، سو مذکورہ بالا تمام باتوں پر تنبیہ اور نصیحت کو ہی کافی سمجھا گیا، حد تو چوری پر جاری ہوئی یا زنا الجبر پر، گویا جھوٹ ،بددیانتی، ذخیرہ اندوزی، غیبت، حسد، کم تولنا، ملاوٹ وغیرہ قابل سزا نہیں، ہم معاملات کا تجزیہ نہیں کرتے، تجزیے کچھ راز کھولتے ہیں اور فی زمانہ بات کو بین السطور بھی پڑھا جاتا ہے، عرب میں طبقاتی نظام موجود تھا جو کسی نہ کسی شکل میں آج بھی موجود ہے اس وقت معاشرے کے کم سے کم تین طبقات تھے، ایک تاجر پیشہ جو متمول تھے ان کے پاس کنیزیں غلام اور بے تحاشہ دولت تھی، دوسرے غلام جو بازار سے خرید کئے جاتے تھے ان سے بیگار لیا جاتا تھا، تیسرے ڈاکو جو لوگوں کو لوٹ لیتے تھے، امراء کے پاس لاتعداد کنیزیں ہوتی تھیں تو بسااوقات ان کے پاس کسی کامال چوری کرنے کا کوئی سبب تھا ہی نہیں، چوری تو ننگے بھوکے ہی کرتے ہیں اور زنا بالجبر بھی اکثرو بیشتر ان سے ہی سرزد ہوا، یہ عجیب بات ہے کہ وہ سارے کام جو امیر کرتے تھے ان پر کوئی حد جاری نہ ہوئی اسلام میں ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، کم تولنے، بددیانتی، اور جھوٹ بولنے پر کوئی حد جاری نہیں کی گئی، یہ کافی سمجھا گیا کہ ان کو سمجھا دیا جائے انتباہ کیا جائے یا پند و نصیحت سے کام چلا لیا جائے حالانکہ یہ سارے جرم سماج کو کھا جاتے اور کسی مہذہب معاشرے میں ان کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ ایسا نہیں تھا کہ عرب کے سارے قبائل رسول ﷺ کے مطیع ہو گئے تھے یہ عرب کی قبائلی رسم تھی کہ جب کوئی قبیلہ دسرے قبیلے پر حاوی آجاتا تو مردوں کو قتل کر دیا جاتا عورتوں کو کنیزیں بنا لیا جاتا اور بچوں کو بیچ دیاجاتا، فتح مکہ کا منظر کچھ ایسا ہی ہے مکہ فتح ہوا تو مکہ سمیت آس پاس کے سارے قبائل نے رسول ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی کچھ سردار اتنے خودسر اور ARROGANTتھے کہ انہوں نے اطاعت کے لئے اپنی شرائط رکھ دیں اور وہ شرائط مان بھی لی گئیں، اطاعت میں خوف کا عنصر موجود تھا اور رسول ﷺ بھی کوئی UPRISINGنہیں چاہتے تھے ایسا بالکل نہیں ہوا کہ عرب معاشرہ راتوں رات مہذب ہو گیا، امیر اور غریب کا فرق باقی رہا اور سماج پر امیروں کا غلبہ بھی، حد کے سلسلے میں یہ بات دیکھی جا سکتی ہے، وہ سارے جرائم جو امیروں سے سرزد ہوتے تھے ان پر کوئی حد جاری نہیں کی گئی، حد ان جرائم پر جاری کی گئی جو غریب افراد سے سرزد ہوتے ہیں۔
ہندوستان میں بدکاری عموماً زناکاری کو کہا جاتا تھا اور عام روش یہ ہوتی کہ عزت کے نام پر پردہ ڈال دیا جاتا تھا، بہت ہوا تو منہ کالا کر کے گدھے پر بٹھایا اور گلی گلی گھمایا اور بس، ہندو مت کی رو سے بلادکار کوئی بہت بڑا جرم تصور نہیں کیا جاتا ہے گناہ تصور کیا جاتا ہے، تقسیم سے پہلے کی روش اب بھی برقرار ہے، SODOMITE AND CATAMITEہندوستان کے شمالی علاقوں کا چلن ہے اور یہ لت ایران سے افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں کو ملی اور کسی حد تک یہ ان کے کلچر کا حصہ ہے رحیم یار خان میں علاقے کا ملک اپنے ساتھ ایک نوخیز بچہ ضرور رکھتا ہے، مسجد میں یہ وبا عام تھی مگر چھپ چھپا کر، مگر جب سے جنرل ضیاء الحق کے دور میں ملائیت کو فروغ ملا اس نے لواطت کو فروغ دیا، حال ہی میں مفتی عزیز الرحمان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی اور اس کے بعد کئی اور ویڈیوز، یہ کوئی نئی بات نہ تھی دینی حلقوں میں یہ بات زیر بحث رہی ہے کہ قرآن میں قوم لوط کا ذکر ہے اور عذاب کا، مگر کچھ احادیث کا حوالہ دے کر یہ کہا جاتا ہے کہ لواطت مستحب ہے۔ مفتی عزیز الرحمان کی حمایت میں جو ویڈیوز آرہی ہیں ان میں کہا جارہا ہے کہ عہدِ رسالت میںبھی صحابہ اس عمل سے گزرے یہ بھی کہا گیا کہ آخر وہ انسان تھے اوران میں بھی بشری کمزوریاں تھیں اس سے قبل انہی علماء نے ناموس صحابہ کے نام پر ہزاروں مار دئیے اور ایک حشر اٹھائے رکھا، افغانی کلچر میں لواطت معاشرے کا حصہ ہے، قبائلی علاقہ جات کے رسوم اور سوسائٹی کے NORMSاس سے مختلف نہیں، پنجاب کے شمالی علاقوں میں بھی یہ وباء موجود ہے۔
کچھ عرصے سے پاکستان میں RAPE CASESمیں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور عمران حکومت نے اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے، عمران نے ایک امریکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ریپ میں اضافے کا سبب خواتین کا کم کپڑے پہننا ہے، مختصر لباس Temptکرتا ہے، عمران نے یہ بیان دے کر ریپ کی تمام ذمہ داری victimپر ڈال دی اور شریک جرم بن گئے ہیں اور یہ شرمناک ہے یہ سرکار کی سوچی سمجھی پالیسی معلوم ہوتی ہے کہ بچیوں، بچوں اور خواتین کے ریپ پر آنکھیں بند کر جائیں اور جہالت کا وحشت ناک ناچ بلاخوف جاری رہے، اس کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ ملک کی خواتین کی 54فیصد کو گھروں میں محبوس کر دیا جائے، لواطت پر بھی آنکھیں بند کر لینا اور ان افراد کو سزا سے بچا لینا مدرسوں میں بچوں کا ABUSEکرتے ہیں لواطت کو فروغ دینے کے مترادف ہے طالبان، القاعدہ اور داعش کے لوگ غاروں میں رہنے کے عادی ہیں اور ان کی کوئی خانگی زندگی نہیں ہوتی اور لواطت ان کے لئے کوئی شرمناک عمل نہیں، پاکستانی معاشرے کو تیزی سے افغانی طرز معاشرت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔