’’Absolutely Not‘‘ویلڈن عمران خان، قوم کو آپ پر فخر ہے

237

پاکستان کی تاریخ میں شائد ایسا موقع کم ہی آیا ہو گا جب کسی سربراہ نے امریکہ کو کہا ہو ’’Absolutely Not‘‘۔ آپ لیاقت علی خان کے وقت سے شروع کریں۔ لیاقت علی خان مرحوم نے روس کی دعوت مسترد کر کے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا۔ سیٹو، سینٹو پتہ نہیں کتنے معاہدے امریکہ اور پاکستان کے درمیان ہوتے رہے پھر مشرقی پاکستان میں جنگ کی خوفناک گھڑی آئی، شرابی یحییٰ خان ستو پی کر بحری جہاز کا انتظار ہی کرتا رہا گیا جو آج تک نہ پہنچا۔ پھر بھٹو کی سازش سے بنگلہ دیش بن گیا۔ بھٹو اگر پولینڈ کی قرارداد نا پھاڑتا تو شائد آج صورت حال مختلف ہوتی۔ یحییٰ خان نے بنیادی غلطی کی اگر 25مارچ کو گرفتاری کے وقت مجیب الرحمن کسی ان دیکھی گولی کا شکار ہو جاتا تو بنگلہ دیش کی صورتحال آج مختلف ہوتی۔ پتہ نہیں کیوں بھٹو نے مجیب الرحمن کو جانے دیا وہ اس پر غداری کا مقدمہ بھی چلا سکتا تھا اور اس کو جیل میں رکھ کر بھارت اور بنگلہ دیش سے رعایتیں لے سکتا تھا لیکن ایسا بھی بھٹو نے نہ کیا بعد میں مجیب کو اس کے ہی فوجیوں نے گولی مار دی۔ پھر روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں۔ امریکہ نے مجاہدین تیار کئے بعد میں نائن الیون ہوا اور افغانستان کی تباہی کا آغاز ہوا۔ پرویز مشرف اس جنگ میں ہر طرح شامل ہوئے نتیجہ کے طور پر پاکستان میں روز دھماکے ہونے لگے۔ ان چند سالوں میں ۷۰ ہزار سے زیادہ پاکستانی شہید ہوئے۔ ملک کی معیشت تباہ ہوئی لیکن پاکستان میں بڑے بھائی، چھوٹے بھائی حکومت کرتے رہے اور لوٹ مار کی انتہا کر دی، زرداری اور نواز شریف دونوں نے مل کر پاکستان کو لوٹا اور امریکہ کے آگے سر جھکاتے رہے۔ باراک اوبامہ سابق امریکی صدر نے صدر زرداری سے بات کی تو میں ڈر رہا تھا کہ زرداری سخت رویہ اختیار کرے گا لیکن مجھے دیکھ کر حیرت ہوئی۔ بجائے مجھ سے احتجاج کرنے کے وہ بے نظیر کے قتل کا قصہ لیکر بیٹھ گیا کہ میری بیوی کو بھی طالبان نے مروایا حالانکہ پرویز مشرف سابق صدر پاکستان کے مطابق آصف زرداری بے نظیر کے قتل میں ملوث ہے۔
اتنے سالوں بعد امریکہ افغانستان کی جنگ سے کچھ نہ حاصل کر سکا۔ کتنے حکمران لائے گئے حامد کرزئی، اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ لیکن حالات جوں کے توں رہے۔ امریکن فوجیوں کے تابوت آتے رہے۔ میرا خیال تھا اسامہ بن لادن کو مارنے کے بعد امریکہ کو فوری طور پر اپنی پالیسی تبدیل کر لینی چاہیے تھی۔ اس کو Do More پاکستان سے کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ امریکہ نے اپنی سکیورٹی کو اتنا سخت کر دیا تھا کہ اس کے بعد سوائے ایک دو چھوٹے چھوٹے واقعات کے علاوہ اور کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ ایک بوسٹن میں رشین لڑکے نے کیا، دوسرا نیویارک میں کرنے کی کوشش کی گئی اس کے علاوہ امریکہ محفوظ ہے۔ ہوم لینڈ سکیورٹی بہترین کام کررہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ امید نہ تھی کہ وہ اس طرح بے عزت ہو کر وائٹ ہائوس سے نکالا جائے گا۔ اس نے وہ کرنے کی کوشش کی جو آج تک امریکہ کی تاریخ میں نہیں ہوا۔ ان کی اسمبلی پر حملہ ہوا، لوگ اس کے اندر گھس گئے لیکن ٹرمپ نے یہ بالکل صحیح محسوس کر لیا تھا کہ اب افغانستان میں اپنے فوجی رکھنے کا کوئی فائدہ نہیںاسی لئے اس نے فوج کو افغانستان سے نکالنے کی ایک ڈیڈ لائن دے دی تھی لیکن ٹرمپ ہار گیا جوبائیڈن نے ملک کا اقتدار سنبھالا لیکن بجائے جوبائیڈن امریکہ کو سمیٹنے اورمحفوظ کرنے کے اندرونی ترقی کے منصوبوں کے علاوہ باہر کی دنیا میں اپنا رول ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تازہ ترین روسی صدر پوٹن سے ملاقات، ایران سے تعلقات کی بحالی، جوبائیڈن امریکہ کے وقار کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔ وہ بہت تیزی سے کام کرنا چاہ رہے ہیں۔ ایک تو بحیثیت نائب صدر وہ امریکہ کے حکومتی نظام کی ہر چیز سے واقف ہیں دوسرے وہ ٹرمپ کی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ دنیا کی نمبرون طاقت ہر حال میں رہے، ان کو چائنہ سے شدید خطرات ہیں، ان کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں چائنہ آئندہ دس سالوں میں امریکہ کو بہت پیچھے چھوڑ جائے گا۔ اب عمران خان کے انٹرویو کا پس منظر دیکھئے، امریکہ میں عمران خان جب جلسے سے خطاب کررہے تھے تب انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ میں پاکستان کا سر کسی کے آگے جھکنے نہیں دوں گا بطور سیاستدان ہمیشہ عمران خان نے فوجی حل کی افغانستان میں مخالفت کی وہ ہمیشہ سیاسی حل پر زور دیتے رہے اقتدار میں آنے کے بعد بطور وزیراعظم انہوں نے یہ محسوس کر لیا پاکستان کی بقا اور معیشت چین سے وابستہ ہے۔امریکہ نے ہمیشہ اپنا کام نکل جانے کے بعد منہ پھیر لیا ہے۔ تاریخ ایسے بہت سے واقعات سے بھری پڑی ہے دوسرے وہ چین کے ساتھ مل کر بھارت کو سبق سکھانا چاہتے ہیں کشمیر کو ایک الگ ملک بناناچاہتے ہیں۔ سی پیک سے وہ اپنے ملک میں معاشی استحکام چاہتے ہیں۔ ان کو یہ بھی اندازہ ہے کہ آئندہ کی سپرپاور چین ہے۔ امریکہ سے ان کو اب کوئی دلچسپی نہیں، نہ معاشی ایڈ کیلئے اور نہ فوجی امداد کیلئے۔ چین پاکستان کی ہر ممکن فوجی امداد کررہا ہے۔ اس نے بھارت کی چکن نیک پر پیر رکھاہوا ہے کسی وقت بھی سات صوبے بھارت سے الگ ہو سکتے ہیں۔ دوسرے سکھوں کو شہ دی جارہی ہے کہ بھارت کی ٹوٹ پھوٹ بہت قریب ہے۔ امریکی اداروں کو اب پاکستان کو بھول جاناچاہیے۔ اب پاکستان کبھی بھی امریکی دبائو میں نہیں آئے گا۔ اورنہ کوئی اڈے وغیرہ دے گا۔ چاہے عمران خان حکمران ہو یا کوئی اور چائنہ ایسا کرنے نہیں دے گا۔ ’’Absolutely Not‘‘ پر اب امریکی میڈیا ،منصوبہ سازوں کو ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان آپ سے بہت دور چلا گیا ہے۔ امریکہ کو پاکستان کو بھول جانا چاہیے۔ وہ ایک ڈرائونا خواب تھا۔ القاعدہ اب امریکہ پر کوئی بھی کارروائی کرنے کی ہمت نہیں کرے گی۔ طالبان بھی اب القاعدہ سے دور رہیں گے اور اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کے لئے امریکہ سے لڑائی فائدہ مند نہیں ہو گی۔