۔۔۔ چھڑائو گے کب ان سے اپنی جان؟

240

قومی بجٹ کا ہر سال عوام ہوں کہ خواص سب کو ہی بے چینی سے انتظار رہتا ہے۔ کیسی کیسی امیدیں وابستہ کئے ہوتے ہیں لوگ حکومت ِوقت سے کہ وہ نئے بجٹ کے ذریعہ ان کی مشکلات کا کس کس طرح سے ازالہ کردیگی۔
یہ جو نیا بجٹ عمران خان کی حکومت نے قوم کیلئے اسمبلی میں پیش کیا ہے اس نے عوام کی بہت سی توقعات پوری کی ہیں۔ یوں کہنا چاہئے کہ بہت سے آنسو اس بجٹ نے پونچھ دئیے ہیں اگرچہ سب نہیں، اور ایمان کی بات یہ ہے کہ سب آنسو تو کسی بجٹ نے آجتک نہیں پونچھے اور دنیا میں یہ کہیں بھی ہونا ناممکن ہے کہ ایک بجٹ یا ایک پالیسی ہر ایک کو مطمئن کرسکے۔کسی نہ کسی کو تو شکایت رہ ہی جاتی ہے۔
پاکستانی عوام نے اتنے صدمے جھیلے ہیں اور مختلف حکومتوں کے ہاتھوں ایسے ایسے زخم کھائے ہیں کہ اپنی فطرت کے خلاف ان میں حکومت وقت سے توقعات کے باب میں بے پناہ صبر آگیا ہے اور یہ بہت اچھی علامت ہے کہ عوام اپنے ملک و قوم کی مشکلات اور مجبوریوں کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ حکومت کی بہت سی مجبوریاں ہوتی ہیں اور ہیں جو ان کی ہر توقع کو پورا کرنے سے روکتی ہیں اور ان کے خوابوں کی تعبیروں کی راہ میں بھی رکاوٹیں ڈالتی ہیں۔
پاکستانی عوام تو تدبر اور ذہانت کی سیڑھیاں چڑھ گئے اور بالغ نظر ہونے کا ثبوت انہوں نے مثبت طور پر پیش کردیا لیکن وہ چودھری جو ان سے ووٹ لیکر اور ان کے نمائندے کہلائے جانے کا حق لیکر قومی اسمبلی میں براجمان ہیں وہ اس بجٹ کی مخالفت برائے مخالفت کرنے کے جنون میں تنزلی اور زوال کی ایک ہی پل میں نہ جانے کتنی سیڑھیاں اتر گئے۔
دشمنی عمران کے سیاسی مخالفین کو اصل میں عمران سے ہے، اس کی ذات سے ہے اور دشمنی کی وجہ عمران کا یہ غیر متزلزل عزم ہے کہ وہ پاکستان کو لوٹنے والے چوروں کو احتساب کے شکنجہ میں جکڑ کر ہی دم لے گا اور انہیں ماضی کی طرح لوٹ مار کرکے صاف بچ کر نکل جانے کا موقع نہیں دے گا۔
یہ جو نواز لیگ کے ٹکٹ پر اسمبلی میں عوامی نمائندے بن کر بیٹھے ہوئے ہیں یہ عوامی نمائندے نہیں بلکہ عوام دشمن ہیں، یہ چور نواز اور چوروں کے صرف برائے نام شریف کنبے کے نمکخوار اور گماشتے ہیں جن کی تمام تر وفاداریاں نواز اور اس کی چوری سے وابستہ ہیں۔ نواز نے اپنی تین وزارتوں میں ایک ہی کام تو کیا ہے اور وہ یہ کہ ہر دور وزارت میں اس عوام دشمن نے مفاد پرستوں کی ٹولیاں تیار کیں جو اپنے آقا ہی کی طرح بے ایمان، زر کی اسیر اور ہوس پرست ہیں۔ ان کا کوئی دین ایمان نہیں سوائے اس کے کہ جب موقع ملے، جتنا ملے یہ قومی خزانے کو بھی لوٹیں اور قوم کے وسائل پر بھی دل کھول کے ہاتھ صاف کریں۔ عمران سے ان کی دشمنی اسی لئے تو ہے کہ وہ نہ خود بے ایمان اور چور ہے اور نہ ہی انہیں لوٹ مار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ سو عمران حکومت کے اس تازہ بجٹ کی مخالفت میں جو گری ہوئی حرکتیں انہوں نے کیں اور جس کھلی غنڈہ گردی کے مظاہرے پاکستانیوں نے، دنیا بھر میں اپنی آنکھوں سے ٹیلی وژن کے پردے پر دیکھے، اس سے ان ملت فروشوں کی جبینوں پر چاہے شکن نہ آئی ہو، اور یوں نہیں آئی کہ یہ بے غیرت اور بے شرم لوگ ہیں جنہوں نے ہوس زر میں اپنا ایمان اور سب کچھ بیچ دیا ہے، لیکن پاکستانیوں کی گردنیں شرم سے جھک گئیں۔
وزیر مالیات کی بجٹ تقریر، جو ایوان کے اراکین کی سہولت کیلئے پہلے سے پرنٹ ہوجاتی ہے اس کی کاپیاں پھاڑ کر حکمراں تحریک انصاف کے اراکین کے منہ پر ماری گئیں۔ گالم گلوچ اس کے علاوہ تھی۔
یہ ہے کردار اور اخلاق کا وہ نمونہ جو دنیا کے سامنے ان عوامی نمائندوں نے پیش کیا۔ خود تو ان کم ظرفوں کی کوئی عزت نہیں، کوئی نام نہیں، لیکن اس اسمبلی کا تو ایک نام ہے، ایک وقار ہے، ایک دبدبہ ہے جس کے ایوان میں ان شیطانوں نے اپنا اصل روپ دنیا کو دکھایا۔
جہاں تک میری ذات کا سوال ہے تو میں تو پاکستانی سیاست کے ان گماشتوں کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ میں جب دفتر خارجہ میں ڈائریکٹر جنرل تھا تو مجھے ایک اضافی منصب جو سونپا گیا تھا وہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے ڈائریکٹرجنرل کا تھا تو ان تین برس میں مجھے یہ موقع ملا کہ میں اپنی قوم کے ان خود ساختہ عوامی نمائندوں کو بہت قریب سے دیکھ سکوں اور بخدا جو بہت سے روپ میں نے دیکھے وہ بہت بھیانک اور کریہہ تھے۔ ان میں ایسے بے ضمیر بھی تھے جو اپنے ذاتی مفاد کیلئے ملک و قوم کا سودا کرنے میں پل بھر کی بھی دیر نہیں کرتے۔
میرا شرم سے سر جھک گیا ایک مسیحی پاکستانی کا ٹوئیٹ پڑھ کے جس میں اس نے کمال متانت اور شائستگی کے ساتھ اس طرف توجہ مبذول کروائی کہ وزیر مالیات کی تقریر کا آغاز بسم اللہ الرحمان الرحیم سے ہوتا ہے۔ اس تقریر کو پھاڑ کر حزب اختلاف کے اراکین نے قرآنی آیات کی بے حرمتی کی۔ یہ کام اگر کسی غیر مسلم نے کیا ہوتا تو اس کے خلاف بلا توقف توہین دین اور توہین رسالت کا مقدمہ بن جاتا۔ اس مسیحی نے سوال کیا کہ کیا اب ان اراکین اسمبلی کے خلاف توہین رسالت یا توہین قرآن کا مقدمہ دائر کیا جائے گا؟
میں نے یہی سوال اپنی ایک ثلاثی میں پاکستانی عوام سے بہت سادگی سے کر لیا ہے اور اسی سے آج کے کالم کا عنوان بھی مستعار لیا ہے۔ دیکھئے میرا سوال اپنی قوم سے کیا ہے:؎
جمہوریت کے یہ جو ہیں منہ بولے پاسبان
خود ساختہ ہیں اور ہیں تہذیب ناشناس
اہل وطن چھڑاؤگے کب ان سے اپنی جان؟
اور اسی سوال سے منسلک یہ دوسری ثلاثی بھی سن لیجئے؎
کس نے کہا شریفوں کا مسکن ہے پارلیمان؟
کنجڑے قصائیوں کی یہ آماجگاہ ہے
ہرگز نہیں یہ اہل وطن کے شایان شان
پاکستان کی قومی اسمبلی کے ان تہذیب و شائستگی سے عاری اراکین کا مقدمہ اب پاکستانی عوام کی عدالت میں ہے اور ہمیں امید ہے کہ عوام کی عدالت انہیں وہ قرار واقعی سزا دیگی جس کے یہ دریدہ دہن اور بد اطوار سزاوار ہیں۔ جمہوریت کے اصل پاسبان تو عوام ہوتے ہیں اور اگر ان کی نمائندگی ایسوں کے ہاتھ میں چلی جائے جو اس کے کہیں سے بھی حقدار نہیں کہ عوام انہیں اپنی نمائندگی کا شرف عطا کریں تو پھر انہیں اسمبلیوں سے نکال دینے میں ہی عوام کی نجات اور جمہوریت کی بقا مضمر ہے۔
لیکن ہمارے لئے تو حیرت کا ایک اور سبب ان دنوں وہ فیصلہ بنا ہوا ہے جو چند دن پہلے ملک کی عدالت عالیہ کی اس بنچ نے کیا جس کی سربراہی پاکستان کے چیف جسٹس بنفس نفیس فرمارہے تھے۔ مقدمہ ان ناجائز زمینوں پر بنے ہوئے مکانات اور عمارتوں سے متعلق تھا جو کھیل کود کے میدانوں اور پارکوں کیلئے مختص کی گئی تھیں لیکن جنہیں سندھ کی بے ایمان، چور اور عوام دشمن حکومت کے کارندوں نے زر کثیر کے عوض ان کو بیچ دیا جنہوں نے ان پر تجارتی اور رہا ئشی عمارات بنائیں اور اربوں کھربوں کمائے۔ چیف جسٹس سمیت پاکستان کے ہر ذی ہوش کو معلوم ہے کہ سندھ کی لینڈ مافیا پاکستان کے سب سے بدنام ڈاکو زرداری کی سرپرستی میں آج تک کام کررہی ہے۔ سندھ کی ناکارہ اور کرپٹ ترین حکومت زرداری کے چیلے چاٹوں اور گماشتوں کی ہے اور اس کے اشاروں پہ ناچتی ہے۔
جناب چیف جسٹس نے فیصلہ صادر فرمایا کہ ان ناجائز زمینوں پر بنی ہوئی عمارتوں کو فوری مسمار کردیا جائے اور کچھ عمارتیں اور مکانات اس فیصلے پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پہ گرا بھی دئے گئے۔ دنیا جانتی ہے، اور ہر بچے کو اسکول میں ابتدا سے یہی تعلیم دی جاتی ہے کہ انصاف اندھا ہوتا ہے لیکن ایسے معاملات میں جہاں ان غریبوں کی عمر بھر کی کمائی ان مکانوں میں لگی ہو اور وہ ان کے گرائے جانے کی صورت میں بے گھر اور بے در ہوگئے ہیں کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ جناب چیف جسٹس یہ فیصلہ سنانے سے پہلے اس کے عواقب کے متعلق ایک لمحہ کو سوچ بچار کرلیتے؟
عدالت کو انصاف کرنا ہے تو ان بے ایمانوں اور بدمعاشوں کی موٹی گردنوں میں رسہ ڈال کر انہیں سر عام گھسیٹنے کا فیصلہ سنائے جنہوں نے وہ زمینیں ناجائز طور پہ الاٹ کیں اور اربوں روپے کمائے۔ عدالت کو تمام حقائق کا بخوبی علم ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ یہ سارا کھیل، لوٹ مار کا یہ بازار گرم کیا ہوا کس کا ہے۔ پکڑنا ہے تو اس ڈاکو زرداری کی گردن میں رسہ ڈالو جو آج بھی سندھ حکومت کے پہرے میں اپنے بلاول ہاؤس میں داد عیش دے رہا ہے اور موجودہ نظام اپنے تمام تر نعروں اور دعووں کے باوجود تا حال اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکا۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ موٹی مچھلیاں جال کو توڑتی اور اس کا مذاق اڑاتی ہوئی صاف بچ کے نکل جائیں اور وہ مجبور اور ناتواں چھوٹی مچھلیاں جو پہلے ہی زرداری جیسے شارک کا شکار ہوچکی ہیں ایک بار پھر ایسے لٹیں کہ ان کا سب کچھ ہی ڈوب جائے اور وہ سڑک پر آجائیں؟
میں ڈرتا ہوں اس وقت سے جب پاکستان کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوکے چھلکنے کے قریب آجائے گا۔ اس لمحہ میں پھر اختیارصرف اور صرف عوام کے ہاتھوں میں ہوگا اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسے لمحے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ جہاں قوم آج کھڑی ہے، بلکہ جہاں اسے پہنچا دیا گیا ہے، وہ لمحہ عوام سے زیادہ ان کو دعوت فکر دے رہا ہے جو ارباب اختیار و اقتدار ہیں، ڈرو اس وقت سے جب اختیار تمہارے ہاتھ سے نکل کر ان ہاتھوں میں چلاجائے جن کا فیصلہ تاریخ ساز ہوتا ہے۔ وہی تو وہ وقت ہوگا جس کیلئے فیض احمد فیض نے آگاہ کردیا تھا کہ اس وقت تخت گرائے جائینگے اور تاج اچھالے جائینگے۔