کینیڈا ایک ایسا ملک ہے!!

249

مغربی ممالک میں مسلمانوں کی ہلاکتوں کے واقعات کیا کبھی کبھار ہونیوالے عارضی نوعیت کے ایسے حادثات ہیں جنہیں اہل مغرب کی انسان دوستی ‘ ہمہ گیر مساوات اور اقلیتوں کیلئے کشادہ دلی جیسے معاشرتی رویوں کے تناظر میں سمجھنا چاہیئے یا ان بہیمانہ وارداتوں کی جڑیں اہل مغرب کی صدیوں پرانی اسلام دشمنی کے اس دور کی یادگار ہیںجب صلیبی جنگیں دو صدیوں تک جاری رہیں تھیں جب صلاح الدین ایوبی نے مصر‘ شام اور حجاز کو متحد کیا ‘ دنیائے اسلام کو جہاد کا پیغام دیا ‘ متعدد ریاستیں یورپی عیسائیوں سے بازیاب کرائیںاور کئی معرکتہ الآرا جنگوں کے بعد بلآخر 1187 میں حطین کے مقام پر مسیحی فوجوں کو شکست فاش دیکر بیت المقدس کو آزاد کرایا اسکے بعد آٹھ سو برس تک یروشلم مسلمانوں کے تسلط میں رہا تین ابراہیمی مذاہب کیلئے قدرو منزلت اور عقیدت و احترام کا حامل یہ تاریخی شہرصدیوں سے باعث نزع چلا آرہا ہے گزشتہ مہینے بھی یہیں سے جنم لینے والے ایک تنازعے نے ڈھا ئی سو سے زیادہ فلسطینی مسلمانوں کی زندگیوں کے چراغ گل کر دئے آجکل مغرب میں مسلمانوں کیلئے پائے جانیوالے تعصب اور بغض و عناد کی وجہ محض مذہبی کدورت ہی نہیں اسکی کئی دیگر جووہات بھی ہیں بیس برس پہلے نیو یارک اور واشنگٹن کی عمارتوں پر حملے کے بعد صدر جارج ڈبلیو بش نے جس شدت اور زورو شور کیساتھ مسلمانوں کے خلاف طبل جنگ بجایا تھا اسکی باز گشت آج بھی سنائی دے رہی ہے جارج بش کی لگائی ہوئی اس آگ کے شعلے امریکہ اور یورپ سے ہوتے ہوے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ تک جا پہنچے ہیںلگتا یہ ہے کہ یہ شعلے اب دھیمی آنچ پر ہیں مگر انکی حدت میں گوروں کی پوری ایک نسل جوان ہو چکی ہے پندرہ مارچ 2019 کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مسجدوں میں Brenton Tarrent نامی جس شخص نے اکیاون مسلمان شہیدکئے تھے اسکی عمر انتیس سال تھی اورچھ جون کو کینیڈا کے شہر لندن میں Nathaniel Veltman نامی جس شخص نے ایک ہی مسلمان خاندان کے چار افراد کو شہید کیا اسکی عمر بیس برس تھی کرائسٹ چرچ کے جنونی کے دل میں ابلنے والے نفرت اور غصے کے لاوے کی شدت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اس قتل عام کو انٹر نیٹ پر بھی دکھایا تھا اور کینیڈین دہشت گرد ویلٹ مین نے بھی یہ حملہ اچا نک نہیں کیا تھا لندن کی پولیس کے ایک حالیہ بیان کے مطابق وہ اس واردات کی منصوبہ بندی کر کے آیا تھا اونٹاریو کے جنوب مغرب میں واقع شہر لندن کے میئر Edward Holder نے کہا ہے کہ بد نصیب افضال فیملی اکثر شام کے وقت چہل قدمی کیا کرتی تھی
ٹورنٹو میں رہنے والے ایک صحافی دوست نے بتایا ہے کہ لندن میں گزشتہ چند سالوں سے گندمی رنگ کے لوگوں نے گھر اور کاروبار خریدنے شروع کئے ہیں اسکا کہنا ہے کہ جب گھروں کی قیمتیں کینیڈا کے دوسرے شہروں میں خاصی زیادہ تھیں تو تارکین وطن نے لندن میں نسبتاّّ کم قیمت کے گھر خریدنے شروع کئے اگر چہ کہ عرب مسلمان تین دہائیوں سے اس شہر میں رہ رہے تھے مگر انکی تعداد اتنی زیادہ نہ تھی لندن کی مقامی سفید فام آبادی جس کی نقل و حرکت زیادہ تر اپنے شہر تک ہی محدود رہتی ہے اور جو بہت کم بڑے شہروں کا رخ کرتی ہے چند سالوں سے مہاجرین کی ایک بڑی تعدادکو اپنے شہر میں آباد ہوتا دیکھ رہی تھی اس مقامی آبادی کا ایک بڑا حصہ کم مراعات یافتہ اور محروم طبقے سے تعلق رکھتا ہے یہ لوگ کینیڈا میں رہنے کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں میرے دوست کی رائے میں انہیں کسی ایسے لیڈر کی تلاش ہے جو انہیں تارکین وطن سے نجات دلا سکے میں نے اسکی تائید کرتے ہوئے کہا کہ میں نیو یارک سٹیٹ کے جس بالائی حصے میں رہتا ہوں اسے آج تک ٹرمپ کنٹری کہا جاتا ہے سابق امریکی صدر کا فین کلب ملک کے طول و عرض میں دیہاتی علاقوں میں پھیلا ہوا ہے ان سفید فام انتہا پسندوں کو یقین ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال نومبر میں الیکشن جیتا تھا اور جو بائیڈن الیکشن چوری کر کے صدر بنا ہے یہ لوگ یہ بات سننا بھی گوارا نہیں کرتے کہ جنوبی اور وسط مغربی ریاستیں جہاں ریپبلیکن پارٹی چھائی ہوئی ہے کی بتیس عدالتوں نے الیکشن میں دھاندلی کے مقدمات مسترد کر دئے ہیں
ٹورنٹو کے دوست کیساتھ میری گفتگو میں اسوقت اختلاف رائے کا عنصر غالب آگیا جب اس نے کہا کہ کینیڈا کے معاشرے نے اس بہیمانہ واردات پر شدید رد عمل دکھایا ہے اور اس ملک میں انصاف زندہ ہے میں نے کہا کہ امریکہ اور کینیڈا کے اکثر بڑے شہروں میں تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے ا س میں مسلمانوں کے علاوہ دنیا کے ہر ملک کے لوگ شامل ہیں ان بڑے شہروں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ پڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل ہے یہاں مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کی عزت و احترام کا کلچر طویل عرصے سے پنپ رہا ہے مگر شہروں سے دوردیہاتی علاقوں میں صورتحال بالکل مختلف ہے وہاں سفید فام ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں مگر غیر ملکیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ان علاقوں میں اقتصادی سرگرمیوں میں کمی کی وجہ سے یہاں کارپوریٹ کلچر جڑیں نہیں بنا سکا اسلئے یہاں باہر سے آنیوالوں کو بڑا سنبھل کر رہنا پڑتا ہے میرا رہائشی شہر بنگ ھیمٹن جو نیویارک سٹی سے دو سو میل کے فاصلے پر ہے میںمکانوں کی قیمتیں شہری علاقوں کی نسبت تقریباّّ نصف ہیں گزشتہ پانچ چھ سالوں میں یہاں پاکستان اور بنگلہ دیش کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بڑے شہروں سے آکر آباد ہوئی ہے صرف دو سال پہلے یہاں صرف ایک مسجد ہوتی تھی اب چار ہیں میرے ہوٹل میں کام کرنے والے ایک بوڑھے پلمبر نے ایک مرتبہ مجھ سے نہایت دکھ بھرے لہجے میں کہا تھا کہ وہ اس شہر میں پیدا ہوا یہیںجوان ہوا‘ اس نے ہمیشہ اس شہر کو اپنا گھر سمجھا مگر یہ اب اسکا نہیں رہا اسکے یہ الفاظ آج تک میرے کانوں میں گونج رہے ہیں کہ ’’ یہ شہر اب تم جیسے پڑھے لکھے اور امیر لوگوں کا ہو چکا ہے‘‘ میں نے اسے کہا کہ یہ شہر ہمیشہ تمہارا رہے گا اسے تم سے کوئی بھی نہیں چھین سکتا اور دوسری بات یہ کہ میں بھی تمہاری طرح ہفتے میں چھ دن کام کرتا ہوں سچ مگر یہ ہے کہ جسطرح اہل پشاور کو تیس لاکھ افغانیوں کے آنے بعد اپنا شہر پرایا لگتا ہے اسی طرح مغربی ممالک کے لوگ بھی شام‘ عراق ‘ افغانستان اور دوسرے مسلم ممالک سے آنیوالے لوگوں کو دیکھ کرتلملا اٹھتے ہیں مگر انکا بس نہیں چلتا کیونکہ قانون کی حکمرانی اور اسکی پہنچ سے بچنا ممکن نہیں اس معاشرتی نظام کو صرف وہی چیلنج کرتے ہیںجنکے غصے‘ نفرت اور انتقام کی جنوں خیزی برداشت کے بند توڑ کر سڑکوںپر امڈ آتی ہے!!
( کینیڈا کے المناک واقعے پر مزید گفتگو اگلے کالم میں ہو گی)