قرضے لیکر رعایتیںدینا،عوام دشمنی ہے

251

امریکی ٹیلیویژن کی تاریخ میں وہ یادگار دن تھا جب اوپرانے اپنے شو میں آئے ہوئے 276مہمانوں میں سے ہر ایک کو ایک کار دینے کا مژدہ سنایا۔اور کار دی بھی۔ اس شو کو دنیا میں کڑوڑوں لوگوں نے دیکھا اور عش عش کرتے رہ گئے، کہ اتنی فیاضی کون کر سکتا ہے، جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔در اصل اس لمحہ کو یادگار کس چیز نے بنایا؟ وہ سخاوت کی اتنی بڑی مثال تھی اور اتنی زیادہ دولت کی تقسیم تھی۔ کہ دنیا کے امیر ترین ملک کے لیے بھی ایک اتنی زیادہ دولت بانٹنے کی انوکھی مثال تھی۔ حالانکہ صرف 276 کاریں ہی تو تھیں۔
اب اس فیاضی کی داستان کو حکومت پاکستان سے منسوب کریں کہ وہ اوپرا ونفیلڈکی طرح، ملک کے ہر بالغ باشندے کو ایک کار مفت دے دے۔کیا ایسا ممکن ہو سکتا ہے؟ اتنے زیادہ وسائل کا اکٹھا کرنا کسی بھی حکومت کے لیے نا ممکنات میں سے ہے۔آپ ٹھیک سوچ رہے ہیں۔ البتہ کیا صرف کسی شہر کی آبادی کو بھی نہیں؟ آپ کہیں گے، یہ بھی نا ممکن ہے۔کیا کسی شہر کے کسی ایک علاقہ کے لیے بھی؟ صرف ایک لاکھ کی آبادی کے لیے بھی ممکن ہے؟ اور اگر حکومت کار کے ساتھ پٹرول دینے کا بھی اعلان کرے، تو پھر کیسا؟ اگر حکومت ایسا کرے تو آپ ایسی حکومت کو کیا کہیں گے؟ اس حکومت کو سرکاری خزانہ کو استعمال کرنے کی سمجھ نہیں ہے ۔
مزے کی بات یہ ہے کہ عدیل عابد صاحب کی، اخبار میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں اس قسم کی فضول خرچی کے منصوبے بن چکے ہیں۔ان کا نام ہے میٹرو بس، اورینج لائین اور دوسرے عوامی ٹرانسپورٹ کے منصوبے، جو مسلم لیگ نون نے شروع کیے۔ مثلاً راولپنڈی۔اسلام آباد کی میٹرو بس کی تفصیل کو اوپرا کی مثال سے منطبق کر کے دیکھیں۔ اس بس سروس کے بنانے میں، حکومتی تخمینے کے مطابق 64 ارب روپے لگے۔اس کی تکمیل کے بعد اس پر ڈیڑھ لاکھ لوگ روزآنہ سفر کر سکتے تھے۔لیکن کیا ہوا؟ دوسال گذرنے کے بعد بھی، سن2016میں مسافروںکی تعداد اسی ہزار روزآنہ سے زیادہ نہیں بڑھی۔ یہ صرف ایک طرف جانے والے مسافروں کی تعداد تھی۔اگر اندازہ لگایا جائے کے یہ مسافر انہیں بسوں پر آئے بھی اور گئے بھی، تو تعداد صرف چالیس ہزار رہ جاتی ہے۔ جبکہ گنجائش ۷۵ ہزار کی تھی۔اب اندازہ لگائیں کہ اس سروس کا کل خرچ ، اگر یہ پوری سواریاں لیکر چلتی تو بھی 613 ہزارروپے فی سواری لاگت آتی تھی۔ اور اگر حقیقی تعداد سے تخمینہ لگایا جائے تو یہ لاگت گیارہ لاکھ پچاس ہزار بنتی ہے۔
اب آپ کار دینے کی مثال کی طرف آئیں، تو اسلام آباد میٹرو سروس پر اتنا خرچ آیا جو سب مسافروں کو ایک ایک مہران VX دینے کے مترادف ہے جس کی2014میں قیمت 620ہزار تھی۔دوسرے لفظوں میں اگر ہر مسافر کو ایک کارمفت دے دی جاتی تو زیادہ فائدے میں رہتے۔اس سے بھی تشویش ناک بات یہ ہے کہ اگر میٹرو کے واقعی استعمال کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تویہ لاگت گیارہ لاکھ پچاس ہزار کے قریب بنتی ہے۔ یعنی اس قیمت میں ہر بندے کو سوزوکی کی Swift DLX دی جا سکتی تھی جس کی قیمت 2014 میں دس لاکھ چوالیس ہزار تھی۔یہ اندازے تو صرف میٹرو بنانے کے تھے۔ اس کے علاوہ حکومت نے پہلے دو سال روزآنہ اوسطاً پانچ لاکھ روپے کرایہ کم کرنے کی مد میں دیئے۔کیونکہ سفر کا کرایہ صرف بیس روپے رکھا گیا تھا۔ اس حساب سے، اگر بسیں پوری طرح بھر کر چلتیں تو روزآنہ 67روپے کا خسارہ فی مسافر ہوا۔لیکن اصل میں یہ خسارہ125روپے فی کس ہوا۔ اس حساب سے اگر حکومت ہر مسافر کو سوزوکی سوِفٹ کاربھی دیتی اور ساتھ125روپے پٹرول کے بھی تو بھی سودا مہنگا نہ ہوتا۔
گذشتہ پانچ سالوں میںجو مقامی ذرائع آمد و رفت کے دوسرے منصوبے تھے وہ اس سے بہتر نہیں بلکہ کچھ توبد تر تھے۔ میٹرو بس کی لاگت ذرا کم تھی، یعنی 130ارب روپے۔ اورجب لاہور کی اورینج ٹرین بنی تھی اس و قت اس کی لاگت کا تخمینہ165 ارب تھا۔ منصوبہ کے مطابق اس پر ڈھائی لاکھ لوگ سفر کرتے۔ اور روزآنہ اسے چلانے کا خرچہ175روپے فی مسافرہوتا۔ ان تمام اخراجات میں اس زمین کی قیمت شامل نہیں جو اس سلسلہ میں خریدی گئی۔ اور چند دوسرے اخراجات کو ملا کر دسیوں ارب روپے علیحدہ ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق، منصوبہ کی تکمیل ہو نے تک کل اخراجات سرکاری تخمینوں سے دو گنے ہو سکتے ہیں۔جب ان ذرائع پر ہونے والے اخراجات کو فی مسافر خرچ دیکھا جائے تو انکی قیمت ، سوزوکی سے کہیں زیادہ قیمتی کاروں کی فی مسافر قیمت سے بھی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ یعنی یہ منصوبے مکمل اقتصادی حادثہ ہیں۔ یہ منصوبہ نواز لیگ کے طرز حکومت کی غمازی کرتے ہیں۔ شوبازی زیادہ اور فائدہ کم۔ایسے اربوں کے منصوبے بنانے کا فائدہ قوم کو بنانے اور بنوانے والوں کو زیادہ ہوتا ہے اسی لیے اس قسم کے حکمرانوں کے پسندیدہ ہوتے ہیں۔اس لیے کہ اگر30ارب کا پرجیکٹ ہو اور اس پر دس فیصد کمیشن ملے (جسے ہمارے حکمران رشوت نہیں، ماں کا دودھ سمجھتے ہیں) تو تین ارب روپے مل جاتے ہیں۔اب آپ مسٹر زرداری کے دس فیصد کو بھی سمجھ سکتے ہیں کہ کتنی اوپر کی آمدنی ہوتی تھی۔ تین ارب روپوں کو مل بانٹ کر کھاتے تھے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ کھاتا تھا تو کھلاتا بھی تھا۔سرکاری منصوبوں اور ٹھیکوں سے کمیشن لینا نا جائز ہوتا ہے۔اسکی قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔
گزشتہ سال جب موجودہ پنجاب حکومت نے اعلان کیا کہ اورینج ٹرین 25 اکتوبر سے شروع ہو گی تو یہ بھی کہا کہ اس پر تقریباً نو کڑوڑ لوگ سفر کریں گے یعنی 245ہزار روزآنہ، اور اس سے عوام کو60.4 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ علاوہ ازیں، اورینج ٹرین سفر کی مسافت کم کرے گی، آلودگی اور ٹریفک میں کمی کرے گی۔27ریل گاڑیاں، جن میں ہر ایک میں پانچ ڈبے ہوں گے، ڈیرہ گوجراں سے علی ٹائون کا سفر کریں گی اس ۲۷ کلو میٹر کے ٹریک پر26سٹیشن ہوں گے۔اخبار نویسوں کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے۔ اور پاک ۔چین دوستی کا نشان۔اس منصوبہ کو 5.62 ارب روپے کی امداد دی جائے گی، اور ایک طرفہ کرایہ صرف چالیس روپے رکھا گیا ہے۔
نواز شریف کی حکومت کو اگر پورا ملک بیچ کر بھی انتخاب جیتنا پڑتا تو اسے کوئی عار نہیں ہوتی۔اربوں روپے کے منصوبے بنا کر کمیشن بنانا تو علیحدہ، اچھے بھلے منصوبوں کوجو اقتصادی طور پر اپنا بار خود اٹھا سکتے تھے، ان پر سرکاری امداد صرف سستی مقبولیت حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں تھا۔عوام تو رکشا، منی وین اور چاند گاڑیوں پر ساٹھ ستر روپے دے کر روزآنہ سفر کر رہے تھے، کیا وہ ایک تیز رفتار، آرام دہ اور ٹھنڈی گاڑی میں سفر کرنے کے لیے ایک سو روپے بھی نہ خرچتے؟ اگر ایک سو نہیں تو کم از کم رکشہ کے کرایہ کے برابرتو رکھتے؟ رکشہ، چاند گاڑی اور وین والوں کا روزگار تو ختم کیا ہی ، عوامی خزانہ پر جو قرضوں کا بوجھ ڈالا، اس کا کیا ہو گا؟ عوام جو کہ زیادہ تر ان باریک اقتصادی نقاط سے بے خبر ہیں، وہ تو میاں کے نعرے ماریں گے، ملک کا جو بھی بیڑہ غرق ہو! ہماری بد قسمتی ہے کہ میڈیا بھی ان معاملا ت کو سیاسی عینک سے دیکھتا ہے، اور عوام کو اصل حقائق سے بے خبر رکھتا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے اداروں میں قابل اقتصادی تجزیہ کار ہی نہ ہوں۔
آئے دن پاکستان میں ٹرینوں کے حادثے ہوتے ہیں۔ ان کی ایک بڑی وجہ ریل کے کرائے ہیں جو لاگت سے کہیں کم رکھے جاتے ہیں۔ صرف عوام میں سستی مقبولیت کے لیے۔ اگر ریلوے کو صحیح آمدنی ملے تو وہ کیوں نہیں اپنے نظام کو درست کرے گی؟ یہ سیاستدان انتخاب جیتنے کے لیے انسانی زندگیاں دائو پر لگاتے ہیں، اور انہیں شرم نہیں آتی۔
عوام میں جھوٹی مقبولیت اور سیاسی مخالفین کی گولہ باری سے بچنے کے لیے حکومتی حکمت عملی صرف بسوں اور ٹرینوں کے کرایوں کو غیر حقیقی سطح پررکھنے تک محدود نہیں، حکومتیں اور ضروریات زندگی میں بھی نا واجب رعایتیں دینے کی عادی ہیں۔ ان میں بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں بھی شامل ہیں۔20اپریل 2020 کی خبر کے مطابق، صرف معاشی سال 2007 اور2019 کے درمیان بجلی کے شعبہ میں، 3,220 ارب روپے کی امداد دی گئی۔ یعنی صارفین نے بجلی پر ہونے والے اخراجات کا بوجھ بالکل نہیں اٹھایا۔ یہ کیسے کاروباری فیصلے ہیں؟ جب آپ عوام کے سامنے اپنی صحیح اقتصادی حالت نہیں رکھیں گے توکیا حالات خراب سے خراب تر نہیں ہوں گے؟۔ نواز شریف یا تو جاہل مطلق تھا یابگڑے ہوئے نواب کی طرح تھا، کہ اسے سوائے اپنی کرسی کے کچھ اور نظر نہیں آتا تھا۔جب اس کے وزیر خزانہ اسے بتاتے تھے کہ سرکار بڑے بڑے ٹھیکے تو بنائیں، لیکن خزانہ تو خالی ہے۔ تو وہ ان کو کیا کہتا تھا؟ مجھے ہر حال میں الیکشن جیتنا ہے۔ جہاں سے ملے اور جیسے مل رقم لائو۔ اس کا وزیر خزانہ اسحاق ڈار، جی حضور کہہ کر قرض حاصل کرنے کی نت نئی چالیں چلتا تھا اور قرض پر قرض لیے جاتا تھا۔میاں صاحب کو قرض اتارنے کی فکر نہیں ہوتی تھی۔ وہ کہتے تھے اگر زیادہ ہی مشکل پڑی تو ملک کے قیمتی اثاثے جیسے ایر پورٹس، پی آئی اے، سٹیل مل، اور کیا کچھ بیچ دیں گے۔
ملک چلانے کے یہ طریقے نہیں ہیں۔ عوام کو ملک کے معاشی حالات سے آگاہ کرنا ہر با شعور سیاستدان کا فرض ہے۔ عوام کو غلط راہ پر چلانا اور ان کووہ سہولتیں دینا جو ملک کی برداشت سے باہر ہیں، ملک اور قوم کے ساتھ غداری ہیں۔ ملک کو قرضوں کے ایسے جنجال میں پھنسا دینا، جس کا بار آنے والی نسلوں کو بھی سنبھالنا پڑے، نا عاقبت اندیشی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی باپ بینک سے قرضہ لے لے کر فیملی کو بیرون ملک کی سیر کروائے، ان کو خوب شاپنگ کروائے، اور مہنگے ہوٹلوں میں رکھے اور دعوتیں اڑائے۔ اور جب قرضے واپس کرنے کا وقت آئے تو فیملی کو بے یار و مددگار چھوڑ کر دفعان ہو جائے۔یہ کسی ٹی وی شو کا گھٹیا ڈرامہ تو ہو سکتا ہے لیکن کسی بھی قوم کے ساتھ حقیقتاً ایسا کرنا نا قابل معافی جرم ہے۔
پاکستانی عوام تو تعلیم کے فقدان کی وجہ سے حکومتی پالیسیز کو سمجھ نہیں سکتے لیکن سیاستدانوں اور میڈیا کو تو شرم آنی چاہیے۔ مخالف سیاستدانوں کا فرض بنتا ہے کہ جب حکومت ایسی سستی شہرت حاصل کرنے کے ہتھکنڈے استعمال کرے تو وہ اس پر نکتہ چینی کریں، اور یہ کردار میڈیا کا بھی ہونا چاہیے، نا کہ یہ دونوں گروہ صرف حکومت کی مخالفت میں قوم کی بھلائی کے منافی پالیسیز کو بڑھائیں۔ہماری موجودہ حکومت سے بھی گزارش ہے کہ وہ ایک پروگرام کے تحت تمام subsidies یعنی رعایتوں کو بتدریج کم کرتی جائے۔ تا کہ ملک کے خزانے کو اورضروری منصوبوں پر لگایا جائے۔ ابھی پاکستان کو ہزاروں ابتدائی سکولوں، ثانوی اور ہائی سکولوں کی اشد ضرورت ہے، ملک میں ہر ضلع میں ضروری طبی سہولیات چاہییں۔لاکھوں گھرانوں کے پاس اپنی چھت نہیں ہے۔ ریلوے کا نظام بوسیدہ اور خطرناک حد تک اپنی عمر پوری کر چکا ہے۔ ابھی کتنی سڑکیں اور پُل بننے باقی ہیں۔ قومی فضائی کمپنی تک گروی ہو چکی ہے۔اگر ہم عوام میں سستی شہرت کے چکر میں پڑے رہے تو یہ مشکل فیصلے کون کرے گا؟ اب خدا کرے کہ عمران خان کو اگلے پانچ سال بھرپور عوامی حمایت کے ساتھ مل جائیں، تو وہ قوم کی عادتوں کو بھی بدلنے کے قابل بنا جائینگے۔اور ان غیر دانشمندانہ حرکتوں سے باز آئیں۔ملک میں ویسے ہی اتنا مالیہ اکٹھا نہیں ہوتا۔زیادہ ترعوام جو ٹیکس دینے کے اہل ہیں، ہر طریقہ سے ٹیکس کی ادائیگی سے بچتے ہیں۔ اس کے اوپر حکومت قرضہ اٹھا کر رعایتوں پر رعایتیں دے تو اسے کیا کہیں گے؟ یہ لمحہء فکریہ ہے، حضور!!