مارشل لاء اور صدارتی نظام کی دستک!!

245

پاکستان میں قومی اسمبلی اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں تشدد آمیز واقعات میں موجودہ حکمران ٹولہ پیش پیش نظر آرہا ہے جس سے معلوم ہورہا ہے کہ ملک پر کسی مارشل لاء اور صدارتی نظام کی دستک دی جارہی ہے جس کے لئے آج کا موضوع بحث چنا گیا کہ صدارتی اور پارلیمانی نظام میں فرق کیا ہوتا ہے اور ان کی اہمیت یا نقصانات کیا ہوتے ہیں۔ صدارتی نظام براہ راست ہوتا ہے جیسا کہ امریکہ اور ایران، روس وغیرہ میں انتخابات ہوتے ہیں جس میں صدر بہت زیادہ بااختیار ہوتا ہے جو ایک ہی وقت میں حکومت، ملک اور فوجوں کا سربراہ کہلاتا ہے جس کی کابینہ زیادہ تر غیر منتخب لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جس کے سامنے پارلیمنٹ کمزور اور اپاہج رہتی ہے جو اپنے آرڈیننسوں،ایگزیکٹو آرڈروں سے قانون سازی کرتا ہے۔ عوام کو جواب دہ نہیں ہوتا ہے جس کو ہٹانا ناممکن ہوتا ہے جو عہدجدید کی ریاست کے مطابق ایک آمر حکمران کہلاتا ہے۔ صدارتی نظام زیادہ تر ان ممالک میں کامیاب رہتا ہے جہاں دوسرے ادارے مضبوط ہوں جیسا کہ امریکی کانگریس بجٹ اور مالیات پر قابض ہوتی ہے جو اعلان جنگ اور جنگ بندی کے اختیارات رکھتی ہے جس کے پاس مواخذے کے اختیارات ہیں یا پھر کسی ملک کی ایک قوم، نسل اور لسان پر مشتمل عوام ہو تو صدارتی نظام کامیاب رہتا ہے مگر ایسی عوام جو مختلف نسلوں، لسانوں ،تہذیبوں، مذہبوں، صوبوں اور اکائیوں پر مشتمل ہو وہاں صدارتی نظام مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے جیسا کہ پاکستان، ایشین اور افریقی یا دوسرے مماملک ہیں۔ صدارتی نظام کے برعکس پارلیمانی نظام حکومت میں عوام سب سے پہلے پارلیمنٹ کو منتخب کرتی ہے جس میں عوام کی مکمل نمائندگی ہوتی ہے جس کی کوکھ سے وزیراعظم اور صدر منتخب ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ سپریم کہلاتی ہے جس کو صدر، وزیراعظم، وزیر، مشیر، اہلکار اور دوسرے عہدیداران جواب دہ ہوتے ہیں جو ملک کا سب سے بڑا قانون ساز ادارہ کہلاتا ہے۔ پارلیمنٹ وزیروں، مشیروں اور اہلکاروں کا احتساب کرتی ہے۔ بعض آئینی اداروں کی تشکیل اور سربراہان کی نامزدگی کرتی ہے جو ملک کے وزیراعظم اور صدر کو ہٹانے یا مواخذے کے اختیارات رکھتی ہے۔ پارلیمانی نظام حکومت میں وزیراعظم، حکومت کا سربراہ عوام کو جواب دہ ہوتا ہے جبکہ صدر محدود اختیارات کا حامل ہوتا ہے جو روایتاً ملک کا سربراہ اور فوجوں کا سربراہ کہلاتا ہے مگر وزیراعظم کے مشورے کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا ہے۔ جنگ کی حالت میں بھی وزیراعظم اعلان جنگ یا جنگ بندی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ پارلیمانی نظام میں کابینہ منتخب نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے جس کے وزیر عوام کو جواب دہ ہوتے ہیں جس کے لئے پارلیمنٹ میں پارلیمنٹرین سوال اور جواب کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم پاکستان کی مختصر تاریخ میں کئی مرتبہ صدارتی نظام نافذ رہا ہے جس میں زیادہ تر صدر غیر قانونی اور غیر آئینی یا خودساختہ قانون اور آئین کی غیر موجودگی میں حکمران بنے رہے جس میں زیادہ تر جنرلوں کا ٹولہ ہے جو جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کی شکل میں خودساختہ صدور کہلاتے رہے ہیں جن کو عوام نے کبھی منتخب نہیں کیا تھا۔ جن کی ہٹ دھرمیوں سے ملک ٹوٹا یا پھر تباہ و برباد ہوا ہے جنہوں نے پانچ مرتبہ آئین پاکستان منسوخ اور معطل کیا تھا جس سے آئین پاکستان غیرموثر اور بے اختیار ہو کررہ گیا۔ آمرانہ غیر جمہوری صدارتی نظام میں پاکستان کو یکطرفہ پارلیمنٹ سے منظور کرائے بغیر افغان جنگ اور دہشت گردی کی جنگ میں دھکیل دیا گیا جس سے ریاست پاکستان ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور خون میں لت پت نظر آئی ہے۔ بہرکیف پاکستان میں صدارتی نظام بزورطاقت نافذ رہا ہے جس کے لئے آج بھی موجودہ مسلط حکمرانوں سے دوبارہ نافذ کرانے کے لئے پورے ملک میں اور اداروں میں تشدد آمیز واقعات رونماہورہے ہیں جس کا مشاہدہ ماضی میں ہوا ہے کہ جب چھ اکتوبر 1958ء کو سابقہ مشرقی پاکستان کی پارلیمنٹ میں تشددآمیز واقعات سے ڈپٹی سپیکر شاہد علی پٹواری کوپیپر ویٹ سے جان سے مار دیا گیا تو اس کا جواز بنا کر پاکستان کے آخری گورنر جنرل اور پہلے صدر میجر سکندر مرزا نے دوسرے دن سات اکتوبر 1958ء کو اپنے ڈپٹی وزیراعظم، وزیر دفاع اور فوجی کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کی مدد سے پاکستان کا 1956ء کا پہلا آئین منسوخ کر کے ملک پر مارشل لاء نافذ کر دیا جن کو جنرل ایوب خان نے بعدازاں 27اکتوبر 1958 کو عہدے سے ہٹا کر ملک بدر کر دیا جس کے بعد ملک پر غیر قانونی اور غیر آئینی حکمرانوں کا سلسلہ چل نکلا جوآئین کی غیر موجودگی میں اپنے ہی فوجی قانون کے تحت صدر بنتے رہے جس میں جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف قابل ذکر ہیں جو کبھی بھی عوام سے منتخب نہ ہوتے تھے مگر پاکستان کے صدر کہلاتے تھے جن کے دور میں پاکستان دولخت ہوا ،دہشت گردی کا شکار ہوا، پارلیمنٹ اور آئین کو منسوخ، معطل کیا گیا۔ جنرلوں نے آئین میں خودساختہ ترامیم کرڈالیں جس میں اپنے گناہوں کو آٹھویں اور سترہویں ترمیم میں چھپایا گیا آئین میں 58(2)B کی شق پیرا کی جس کے استعمال سے جونیجو ،بینظیر، نواز حکومتوں اور پارلیمنٹوں کو برطرف کیا گیا جن کے خلاف ملک بھر میں ایک طویل جدوجہد پر مشتمل تحریکیں پیدا ہوتی رہی ہیں جس نے مختلف اوقات میں آمروں اور جابروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ جنرل مشرف کے خلاف وکلاء تحریک پیدا ہوئی جو پورے ملک میں پھیل گئی۔ جس کے بعد جنرل مشرف ملک بدر اور ملک میں زرداری اور نواز سویلین حکومتیں معرض وجود میں آئین جن کے دور میں جمہوریت کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کے امکانات روشن ہوئے تھے کہ جس کا اسٹیبلشمنٹ نے 25 جولائی 2018ء کو گلا گھونٹتے ہوئے ملک پر ووٹوں کی لوٹ مار سے ایک خودساختہ حکومت مسلط کر دی جس کا ملکی اور قومی معاملات میں دور دور کا واسطہ نہیں ہے جس کے تین سالہ دور فسطائیت میں پاکستان دنیا کا پسماندہ اور کمزور ترین ملک بن چکا ہے جس کا شمار افغانستان اور نیپال جیسے ملکوں میں ہوتا ہے جس کی معیشت تباہ و برباد ہو چکی ہے۔ ترقیاتی منصوبے بند پڑے ہیں، ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہوتے ہوئے غیر ملکوں سے گندم، آٹا، چینی ،کپاس، سبزیاں خریدنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ ملک میں اربوں اور کھربوں کا کرپشن پھیلا ہوا ہے۔ عدالتوں کو دبائو میں رکھا ہوا ہے۔ میڈیا پر پابندیاں عائد ہیں۔ افراط زر کا سیلاب بہہ رہا ہے ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان برپا ہے۔ پاکستان آج دنیا میں تنہا رہ گیا ہے۔ ایسے میں بھی پاکستان کو مزید برباد کرنے اور توڑنے کے لئے پھر سازشی صدارتی نظام کے لئے راستہ اختیار کیا جارہا ہے جس کے لئے ملک بھر کے اداروں میں مسلسل تشدد پیدا کیا جارہا ہے تاکہ وقت آنے پر موجودہ کاٹھ کاالو صدر عارف علوی کسی مارشل لاء کا اعلان کر دے جس کی آئین پاکستان میں اجازت نہیں ہے جس کی آڑ میں کسی صدارتی نظام کا اعلان کر دیا جائے جو موجودہ آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہو گا کیونکہ موجودہ آئین پاکستان میں پارلیمانی نظام بنیادی اصولوں میں شامل ہے جس کے آئین میں حقوق، اسلامی جمہوریہ اسلام، سرکاری مذہب، اردو قومی زبان ہے اس طرح ملک کا پارلیمانی نظام حکومت شامل ہے جس کو ہٹانے کے لئے آئین منسوخ کرنا پڑے گا جو پاکستان توڑنے کے مترادف ہو گا جو پھر کبھی دوبارہ بن نہیں بن سکتا ہے جس کے لئے چھوٹے صوبے انکار کر دیں گے جس سے فیڈریشن کے ٹوٹنے کے امکانات زیادہ ہیں اس لئے پاکستانی عوام کو فوری طور پر ایکشن لینا ہو گا کہ کہیں ماضی کی طرح کوئی ون یونٹ بن کر ملکی سلامتی کو خطرے میں نہ ڈال دیا جائے۔