امریکہ کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی نئی پالیسی کے اعلان کے بعد ملک گیر پیمانے پر خیر مقدم نے ان کی مقبولیت میں اضافہ کر دیا!

230

اس وقت ملک بھر میں دو انگریزی کے الفاظ زبان زدِ عام ہیںAbsolutely Not (قطعی نہیں)۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو عمران خان نے ایچ بی او کے اینکر پرسن کے سوال کے جواب میں دو ٹوک الفاظ میں دئیے جس میں اس نے پوچھا تھا کہ کیا پاکستانی حکومت امریکہ کو پاکستان میں اڈے قائم کرنے کی اجازت دے گی؟ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان نے لفظ ’’دو ٹوک‘‘ کو معنوی اور عملی طور پر جامہ پہنا دیا ہے۔ انہوں نے مہینوں سے جاری ابہام کو یک لخت دور کر دیا اور امریکی حکومت اور نیٹو ممالک کی حکومتوں اور مغربی میڈیاز کی پھیلائی ہوئی افواہوں کو چشم زدن میں مسترد کر دیا۔ نہ صرف ایک مرتبہ بلکہ دوسری مرتبہ واشنگٹن پوسٹ میں اسی حوالے سے ایک مضمون تحریر کر کے پھر واضح کر دیا کہ کسی کے ذہن میں کوئی شائبہ نہ رہے۔ پاکستان اور امریکہ تعلقات میں گزشتہ چوہتر برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس قدر واضح پالیسی میں تبدیلی آئی ہے۔ پہلی مرتبہ پاکستان کی تاریخ میں نہ صرف سویلین اور فوجی اسٹیبلشمنٹ دونوں ایک صفحے پر ہیں بلکہ تیسری بڑی طاقت عوام بھی اس نئی پالیسی کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ دکھائی دے رہے ہیں۔ عمران خان کی نئی پالیسی پر جس طرح کے جوش و خروش، پسندیدگی اور اعتماد کا اظہار پاکستان کے عوام کی طرف سے کیا جارہا ہے وہ دیدنی ہے۔ اگر کوئی دل گرفتہ ہے پاکستان میں تو وہ دو عورتیں ہیں ایک شیری رحمان اور دوسری مریم اورنگزیب۔ یہ وہ دو عورتیں ہیں جو بغض عمران کے عارضے میں مبتلا رہتی ہیں وہ بھی سال کے بارہ مہینے۔ انہیں عمران خان کے دبنگ اعلان میں باوجود سخت محنت کے کوئی عیب نظر نہیں آیا تو انہوں نے عورت کے حوالے سے پوائنٹ سکورنگ کرنے کی ناکام کوشش کی۔ شیری رحمن کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ اگر وہ کسی میت میں بھی جاتی ہیں تو اپنی ہیر ڈریسر اور میک اپ آرٹسٹ کو بلا کر لیپا پوتی کرواتی ہیں اور یہ ہی بات عمران خان نے بھی کہی تھی کہ جنسی جرائم بڑھنے کی ایک وجہ ان جیسی عورتوں کی بے راہ روی ہے۔ ظاہر ہے جس طرف اشارہ تھا ان کی ہی طرف سے جواب بھی آگیا۔ یعنی اتنا اہم ایشو جو پوری دنیا کی خبروں کا محور بنا ہوا ہے وہ ان دو عورتوں کو نظر نہیں آیا اور عورتوں کے کم لباس کا حوالہ لیکر وہ عمران خان پر تنقید کررہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک عورت شیری رحمن جس کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے یہ بخوبی جانتی ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کی چیئرمین بے نظیر بھٹو کی ننگی تصویریں چھپوا کر الیکشن کے زمانے میں پنجاب کے قصبے، گائوں، دیہاتوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پھینکوائی تھیں جبکہ دوسری خاتون مریم اورنگزیب کو بھی اس بات کا علم ہے کہ ان کے مائی باپ شریف برادران نے ہی یہ گھٹیا، غلیظ اور قبیح کام سرانجام دیا تھا لیکن اس کام میں ان دونوں عورتوں کو عورت کی توہین نظر نہیں آتی مگر بغض معاویہ میں وہ عمران خان پر الزام تراشی میں مصروف ہیں۔