میرے پاس پہلا ہی راستہ بچا تھا! وہی چُن لیا!!!!!

267

وزیراعظم نے اب عوام سے فون کے ذریعہ براہ راست بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ بڑی توجہ سے مسائل سنتے ہیں۔ پھولن دیوی اور ان کی زر خرید غلام پوپلی ہم نام نے بھی بات کی ہے اور ماشاء اللہ بڑی خوبصورت زبان استعمال کی ہے۔ یہ عمران خان کا ہی بوتا ہے جو بڑے رسان سے جواب دیتے ہیں۔ انھوں نے تو حمّام خان کے لگائے ہوئے رکیک الزامات جو کسی مرد کے منہ سے بھی اچھے نہ لگیں لگائے گئے ہیںاور اپنی بے غیرتی کا اعلانیہ ثبوت دیاہے۔ صادق اور امین نے اس کا بھی کوئی جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔ یہ اعلیٰ ظرفی کی ایک بہترین مثال ہے۔
حال ہی میں پاکستان کے سب سے بڑے ڈاکوئوں کے گروہ کے سردار نے بھی وزیراعظم سے رجوع کیا ہے۔ معیشت پر بات کرتے ہوئے بائوجی نے اتنے رقت آمیز الفاظ میں نوحہ پڑھا کہ بے ساختہ آنسو نکل پڑے وہ تو حماد اظہر نے سمجھا بجھا کر روک دیا ورنہ دریا بہا دینے میں کوئی کسر نہ رہی تھی اور پھر ہچکیاں تو کئی دن تک بند نہ ہوتیں۔ ذہن سوچنے سے قاصر ہے فرشتے کہاں سے اتنی بے حس، بے غیرت ،بے حیا مٹی لائے تھے جس سے اس خاندان کی تخلیق ہوئی۔ اتنے اعتماد کے ساتھ تو کوئی سچ بھی نہ بول سکتا ہو جتنی دیدہ دلیری سے یہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ندامت کا ذرا سا بھی شائبہ چہرے پر نہیں ہوتا حالانکہ یہ ناہنجار لوگ جانتے ہیں کہ عوام بخوبی آگاہ ہیں ان کی نمک حرامیوں سے لیکن یہ بڑے ڈھیٹ لوگ ہیں۔ کہتے ہیں ’’ووٹ کو عزت دواور ووٹر کو دھکا دو‘‘ان کی سب سے بڑی غلطی تمہیں ووٹ دینا اور اپنے آپ کو کنگال کرنا ہے۔ بار بار کیا بیان کیا جائے جو عوام پر گزری اور گزررہی ہیں۔ ن لیگ کا ایک عہدیدار جس پر ایک ہی کیس میں 700سو ارب کی چوری کا کیس ہے( اس کا انگوٹھا کسی پامسٹ کو دکھایا جائے تو وہ بتا دے گا کہ جرائم پیشہ کا انگوٹھا ہے) باقی اور غبن ہے۔جوڑنے پر پتہ نہیں کتنا ارب ہے جو ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ پھولن دیوی نے رانا ثناء اللہ کو ن لیگ کا سب سے بڑا شیر کہا ہے۔ یعنی منشیات سے پیسہ کما کر یہ ڈان اربوں کا مالک ہے۔ سب سے بڑا گیڈر اپنے بھائی کے دامن میں منہ چھپا کر بھاگ لیا اور وہاں سے ٹھینگا دکھارہا ہے۔ اس بھگوڑے گیدڑ کی بیٹی نابینا ہے جو اسے شیر کہہ رہی ہے۔ پھولن دیوی شیر وہ ہیں جو اس وقت ملک کے حالات سے پامردی سے لڑرہے ہیں اور بائیس کروڑ عوام ہاتھوں میں جوتیاں پکڑے تمہارے بائو جی کے استقبال کو حاضر ہیں۔ عوام سے گزارش ہے کہ اپنے پرانے جوتے چپل سنبھال کر رکھیں۔ ایئر پورٹ کے باہر لے کر جانے ہیں۔ محلے کے موچیوں سے بھی رجوع کر لیں۔ ان کے پاس بہت مل جائیں گے۔ کیوی، پالش اور گدھوں کا بھی انتظام کر لیں۔ حکمرانوں اور برسراقتدار اشخاص کو آنکھیںاور کان کھلے رکھنے چاہئیں۔ دوست اور دشمن کو پہچاننا چاہیے۔ کاسہ لیسی کرنے والوں سے دور رہیں کیونکہ ایسے لوگوں کی وجہ سے بڑی بڑی سلطنتیں زیر و زبر ہو گئیں ہیں۔ انہوں نے اپنی عیاریوں سے باپ سے بیٹوں کو مروایا ، بیٹوں سے باپ اور بھائیوں کو مروادیا۔ آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور اپنے حلوے مانڈے قائم رکھے۔ کئی حکمران ایسے گزرے ہیں کہ اگر انہیں صحیح مشیر اور مخلص لوگ مل جاتے تو بہت سی حکومتیں تباہ ہونے سے بچ جاتیں۔ تاریخ میں بہت سی ایسی مثالیں مل جائیں گی خود پاکستان کے ماضی قریب اور ماضی بعید کو کنگھالا جائے تو بہت سے چھپے راز سامنے آجائیں گے۔
جو زخم بھر چکے ہیں انہیں مت کریدنا
جو اپنا گھر تھا کیسے لٹا یہ نہ پوچھنا!
سنگا پور کے وزیراعظم ’’لی کوان یو‘‘ نے کہا میرے پاس دو راستے تھے۔
(1)ایک یہ کہ میں کرپشن میں پڑ جاتا اور میری فیملی دنیا کی امیر ترین فیملی شمار ہوتی
(2)دوسرا یہ کہ میں ملک کی خدمت کرتا اور اسے دنیا کی بڑی معاشی طاقت بناتا میں نے دوسرا راستہ چنا۔
پاکستان کے سابق تاحیات نااہل وزیراعظم نواز شریف نے کہا میرے پاس بھی یہی دو راستے تھے۔ مگر دوسرا راستہ چونکہ سنگاپور کے وزیراعظم نے چن لیا تھا۔ اس لئے میرے پاس پہلا ہی راستہ بچا( ہائے رے اس خاندانی فقیر کی مجبوری)گرگٹ سات رنگ بدلتا ہے لیکن حضرت انسان کتنے رنگ بدلتے ہیں اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ بھگوڑے کو جب سزا ہوئی تو چودھری نثار( وزیرداخلہ) کا کہنا تھا کہ ’’میاں سانپ‘‘ میرے مشوروں پر عمل نہیں کرتے تھے‘‘وہ ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں ’’بہت سادہ طبیعت تھی ہر بات سنتے تھے اور عمل بھی کرتے تھے‘‘۔
جیسے ہر سیاستدان اپنے بیان سے منحرف ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ اس کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ بہرحال اس سارے ڈرامے میں چودھری نثار کا اہم کردار ہے۔ وہ وزیر داخلہ تھے۔ اربوں، کھربوں ڈالر کے لندن میں فلیٹ، پپو، گڈو اور ببلی کے نام خریدے جارہے تھے۔ ایف آئی اے اتنی بڑی لانڈرنگ پر خاموش تھا۔ انہوں نے وزیر داخلہ کو مطلع نہیں کیا؟؟ پھر وزیر داخلہ نے انہیں کارروائی سے روک دیا؟ کیوں آخر کیوں؟ ایک صحافی کا سوال تھا کہ ایف آئی اے، نیب، عدالتیں سب آپ کے انڈر تھیں پھر آپ کی یہ خاموشی؟ ملکی خزانے سے اتنی بھاری رقوم لندن میں انویسٹ ہورہی تھیں۔اینکر نے پوچھا کہ آپ نے پوچھا نہیں کہ اتنے مہنگے فلیٹ نابالغ بچوں کے نام پر کن اثاثوں سے خریدے جارہے تھے تو چودھری نثار نے کہا پارٹی کا کوئی ممبر دوسرے ممبر کے اثاثوں کے بارے میں استفسار نہیں کر سکتا۔ چودھری نثار فارغ البال تو تھے فاطر العقل نہیں ،تو کیا یہ سب ان کی ملی بھگت سے ہوا؟۔ ان کا کتنا حصہ بنا۔ اس کی بھی انکوائری ہونی چاہیے۔ موصوف ایک اعلیٰ فوجی عہدے دار کے بیٹے اور ایک فوجی بڑے افسر کے بھائی ہیں؟ ان پر کیوں ہاتھ نہیں ڈالا گیا۔ ان کے اثاثوں کی بھی تحقیق ہونی چاہیے۔ یہ سرمایہ کسی کے باپ کا نہیں تھا۔ اس غریب ملک اور اس کے نادار انسانوں کا تھا۔