امریکی مخبروں کے نام ظاہر کرنے پر پینٹاگون کی مترجم کوقید کی سزا

310

 واشنگٹن: امریکی حکومت نے عراق میں  امریکا کے لیے کام کرنے والے مخبروں کے نام ظاہر کرنے پر پینٹا گون کی مترجم پر 23 سال قید کی فرد جرم عائد کردی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق پینٹا گون میں مترجم کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے والی 62 سالہ مریم تھامپسن نےلبنان کی تنظیم حزب اللہ کو عراق میں امریکا کے لیے کام کرنے والے مخبروں کے نام فراہم کیے تھے۔

ملزمہ نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ اس نے لبنانی نژاد شخص کو امریکا کی خفیہ معلومات فراہم کی تھی۔ جس نے اس معلومات کو واشنگٹن کی جانب سے ’دہشت گرد‘ قراردی گئی لبنان کی طاقت ور تنظیم حزب اللہ  کو منتقل کردیا تھا۔

امریکی محکمئہ انصاف کے شعبے برائے قومی سلامتی کے سربراہ جون ڈیمرس کا اس بارے میں کہنا ہے کہ تھامپسن کی سزا سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف امریکی عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی بلکہ اپنے ساتھ کام کرنے والے دفتری ساتھیوں اور فوجیوں کی زندگی کوبھی خطرے میں ڈالا۔

ایف بی آئی کے کاؤنٹر انٹیلی جنس ڈیویژن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایلن کوہلیر کا کہنا ہے کہ ’تھامپسن کی سزا ان تمام لوگوں کے لیے واضح پیغام ہے جنہیں قومی دفاع کی معلومات  سونپی گئیں ہیں اور وہ اپنے ذاتی اور دوسروں کے مفادات کے لیے انہیں افشا کردیتے ہیں، یہ کوئی کمال نہیں بلکہ ایک سنگین جرم ہے۔‘

عدالتی دستاویزات کے مطابق لبنانی نژاد امریکی شہری تھامپسن غیر ملکی فوجی اڈے میں بہ حیثیت مترجم کام کر رہی تھیں، اور 2017 میں ایک ویڈیو ایپ کے ذریعے لبنان کی حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے ان کے رومانوی تعلقات استوار ہوئے۔ جس نے انہیں حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ کی جانب سے ایک انگوٹھی بھی دی تھی۔