افغانستان سے فوجیوں کے انخلا کا عمل سست کیا جا سکتا ہے: امریکا

310

ترجمان پینٹاگون جان کربی کا کہنا ہے کہ طالبان کی کارروائیوں اور حاصل ہونے والے فوائد کے باعث افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا عمل سست کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ پینٹاگون حکام نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ افغانستان میں 20 سال تک القاعدہ کے خلاف لڑنے اور حکومت کو طالبان سے لڑائی میں مدد کے بعد صدر جو بائیڈن نے فوجیوں کے انخلا کا حکم دیا ہے جو تقریباً آدھا مکمل ہو چکا ہے۔

امریکی صدر کے احکامات کے وقت تقریباً اڑھائی ہزار امریکی فوجی اور 16 ہزار کنٹریکٹرز، جن میں سے زیادہ تر امریکی ہیں، افغانستان میں موجود تھے۔

پینٹاگون نے پہلے ہی اپنے کئی اہم اڈوں کو حکومتی افواج کے حوالے کر دیا ہے اور مختلف ساز و سامان سے لدے سینکڑوں کارگو جہازوں کو بھی ہٹا دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جان کربی نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائن برقرار رہے گی تاہم انخلا کے عمل کو صورت حال کی مناسبت سے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے اضلاع پر حملوں اور تشدد کی کارروائیوں کے بعد صورت حال تبدیل ہو رہی ہے۔ اگر کسی بھی دن یا ہفتے کے دوران فوجیوں کے انخلا کی رفتار میں تبدیلی کی ضرورت پڑی تو ہم اس ضمن میں لچک کا مظاہرہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ہر ایک دن کا مسلسل بغور جائزہ لے رہے ہیں، کہ صورت حال کیا ہے، ہمارے پاس کیا کچھ ہے اور ہم کیا کر سکتے ہیں، ہمیں مزید کن ذرائع کی ضرورت ہے اور ہم نے افغانستان سے نکلنے کے لیے کیا رفتار رکھنی ہے۔ یہ تمام فیصلے مطلوبہ وقت پر کیے جائیں گے۔

جان کربی کا کہنا ہے کہ امریکی افواج طالبان سے لڑائی میں افغان فوجیوں کی مدد کرتی رہیں گی۔ ہم اپنی استعداد کے مطابق افغان فوجیوں کا ساتھ دیں گے، لیکن جوں جوں واپسی کا عمل تکمیل کے قریب پہنچے گا یہ سلسلہ کم ہوتا جائے گا اور اس کے بعد دستیاب نہیں ہوگا۔