یہ ’’ڈائنوسار پرندہ‘‘ نہیں تھا، چھپکلی تھی!

108

لندن: سائنسدانوں کی ایک عالمی ٹیم کا کہنا ہے کہ پچھلے سال میانمار سے دریافت ہونے والا رکاز، جسے ’’سب سے چھوٹے ڈائنوسار پرندے‘‘ کا لقب بھی دیا گیا تھا، اصل میں ایک چھوٹی سی چھپکلی تھی جو آج سے تقریباً دس کروڑ سال پہلے پائی جاتی تھی۔

پچھلی دریافت کا اعلان عنبر میں محفوظ ایک کھوپڑی کی بنیاد پر کیا گیا تھا جبکہ اسے Oculudentavis khaungraae (اوکیلوڈینٹاوِس خاؤنگرائی) کا سائنسی نام دیا گیا تھا۔

صرف چند ملی میٹر جسامت والی یہ کھوپڑی خاصی مضبوط تھی جس میں باریک لیکن نوک دار دانت تھے جبکہ اس کی آنکھیں گویا اُبلی پڑ رہی تھیں۔

لیکن اب ماہرین کی بین الاقوامی ٹیم نے میانمار کے اسی علاقے سے بالکل یکساں جسامت اور کھوپڑی والا ایک اور رکاز (فوسل) دریافت کیا ہے جو خاصی مکمل حالت میں ہے۔

اس نئے رکاز کے مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ جس معدوم جانور کو پچھلے سال پرندہ سمجھ لیا گیا تھا، وہ دراصل ایک چھوٹی سی چھپکلی تھی۔

مزید موازنہ کرنے پر یہ بھی معلوم ہوا کہ پچھلے سال دریافت ہونے والی کھوپڑی شاید کسی وجہ سے کچل کر تھوڑی سی پچک کر، چھوٹے پرندے کی چونچ جیسی شکل اختیار کر گئی تھی جس سے ماہرین کو غلط فہمی ہوئی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.