یہ دیوقامت جانور چار ہاتھیوں سے بھی زیادہ وزنی تھا!

81

بیجنگ: چینی اور امریکی سائنسدانوں کی مشترکہ ٹیم نے آج سے تقریباً 2 کروڑ 65 لاکھ سال قدیم ایک ایسے دیوقامت جانور کی باقیات دریافت کرلی ہیں جو موجودہ زمانے کے چار بڑے افریقی ہاتھیوں سے بھی زیادہ وزنی ہوا کرتا تھا۔

ریسرچ جرنل ’’کمیونی کیشنز بائیالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، اس قدیم و معدوم جانور کے رکازات (فوسلز) شمال مغربی چین کے صوبے گینسو سے دریافت کیے گئے ہیں۔ اسے ’’پیراسیریتھیریئم لنکشیائنس‘‘ (Paraceratherium linxiaense) کا سائنسی نام دیا گیا ہے۔

یہ دیوقامت جانور ’’ممالیہ‘‘ (میمل) تھا، یعنی اپنے بچوں کو دودھ پلایا کرتا تھا۔ اس کے رکازات دیکھ کر ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید یہ خشکی پر رہنے والا وہ سب سے بڑا ممالیہ تھا جو آج تک دریافت ہوا ہے۔

اندازہ ہے کہ یہ 24 ٹن وزنی تھا۔ اپنی آسانی کےلیے یوں سمجھ لیجیے کہ ایک ’’پیراسیریتھیریئم لنکشیائنس‘‘ کا وزن آج کے آٹھ سفید گینڈوں یا چار بڑے افریقی ہاتھیوں جتنا تھا۔

جسمانی اعتبار سے یہ مجموعی طور پر 26 فٹ کے لگ بھگ لمبا تھا، جبکہ کندھوں تک اس کی اونچائی 16 فٹ تھی۔

اتنا دیوقامت ہونے کے باوجود یہ بہت بے ضرر تھا اور اپنی لمبی گردن کو 23 فٹ تک بلند کرکے، درختوں کی اونچائی پر لگے ہوئے پتے اور پھل کھایا کرتا تھا۔

اس تحقیقی ٹیم کی قیادت چائنیز اکیڈمی آف سائنسز، بیجنگ کے پروفیسر تاؤ ڈینگ کررہے تھے جبکہ دیگر چینی اداروں کے علاوہ ایک امریکی ماہر، ڈاکٹر لارنس فلن بھی اس کام میں شریک تھے۔

ارتقائی نقطہ نگاہ سے ’’پیراسیریتھیریئم لنکشیائنس‘‘ اُن جانوروں کے گروہ سے تعلق رکھتا تھا جو بتدریج ارتقاء پذیر ہوتے ہوئے موجودہ دور کے گینڈوں میں تبدیل ہوگئے۔ اسی بناء پر یہ ’’بغیر سینگ والے گینڈوں‘‘ کا گروہ بھی کہلاتا ہے۔

پاکستان سے دریافت ہونے والا ’’بلوچی تھیریئم‘‘ (Baluchitherium) بھی اسی گروہ کا ایک رکن تھا اور تقریباً ساڑھے تین کروڑ (35 ملین) سے ڈھائی کروڑ (24 ملین) سال پہلے بلوچستان میں رہتا تھا، جو اُس زمانے میں سرسبز اور گھنے جنگلات سے بھرپور ہوا کرتا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.