ریتیلی مٹی کے نیچے سفر کرنے والا سانپ نما روبوٹ

253

سانتا باربرا: خشکی، سمندر اور ہوا میں روبوٹس غیرمعمولی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تاہم کسی ریگستان کے ریت میں روبوٹ کو داخل کرنا امرِ محال تھا جس کا کامیاب تجربہ امریکی انجینیئروں نے کیا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سانٹا باربرا اور جارجیا ٹیک نے مشترکہ طور پر ایک ایسا روبوٹ بنایا ہے جس کے اگلے سرے سے اسے آگے بڑھانے والا مٹیریئل باہر نکلتا رہتا ہے۔ اس کے بعد مٹی میں غوطہ لگانے کے لیے وہ اپنے منہ سے ہوا کی بوچھاڑ خارج کرکے مٹی کو ہٹاتا رہتا ہے اور اپنا راستہ بناتے ہوئے آگے بڑھتا رہتا ہے جس کا عملی مظاہرہ اس ویڈیو میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

اس سے قبل دنیا بھر میں سانپ نما رینگنے والے طرح طرح کے روبوٹ بنائے جاتے رہے ہیں، تاہم یہ نیا روبوٹ مٹی میں گھسنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ روبوٹ کو مٹی میں سفرکرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود ریت اور مٹی ہے کیونکہ ریت پرچلتے وقت انسانوں کو بھی مشکل پیش آتی ہے۔ اس طرح ریت کے اندر نفوذ بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔

مٹی والے سانپ روبوٹ کا ڈیزائن ہی اس کا سب سے اہم حصہ ہے۔ یہ ایک طرح کا لچکدار نرم روبوٹ ہے جو اپنے پورے وجود کو کھینچنے کی بجائے خود کو اپنے ’اگلے کنارے سے بڑھاتا‘ رہتا ہے۔ چونکہ روبوٹ سانپ کا اگلا حصہ ہی حرکت کرتا ہے تو اس طرح وہ تیزی سے  آگے بڑھتا ہے۔ اس کی نوک پر ایک نوزل ہے جس سے زوردار ہوا خارج ہوتی رہتی ہے اور مٹی کے ہٹاؤ سے راستہ بنتا رہتا ہے۔