دشمنانِ اسلام اور دشمنانِ پاکستان!

112

تیرہ جون، اتوار کی سہ پہر، ہزاروں سوگوارافراد جنازوں کے اس جلوس میں شریک ہوئے جو کینیڈا کے سب سے بڑے صوبے، اونٹاریو، کے شہر لندن کی سڑکوں پہ سے گذرتا ہوا اس قبرستان کی سمت جارہا تھا جس میں اس سے ٹھیک ایک ہفتے پہلے ہونے والے اسلام دشمنی کے ایک بدترین مظاہرہ میں ایک پاکستانی نژاد کے چار افراد بیرحمی سے قتل کردئیے گئے تھے!
کینیڈا میں سردی پڑتی ہے اور بلا کی پڑتی ہے لہذا کینیڈا کی طویل اور صبر آزما سردیوں کے بعد جب موسم میں ذرا سا بھی گداز اور گرمی آتی ہے تو ہم کینیڈا کے باسی اسے نعمت سمجھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اپنے گھروں سے باہر تازہ ہوا میں وقت گذارنا پسند کرتے ہیں۔
سلمان افضال اور ان کا کنبہ بھی اتوار، 6جون کی سہ پہر گداز موسم میں لوچدار ہوا کا لطف لینے کیلئے اپنے گھر سے چہل قدمی کیلئے نکلا تھا۔ وہ خود تھے، ان کی اہلیہ تھیں، ان کی والدہ تھیں اور ان کی بیٹی اور بیٹا، گویا ایک خاندان کی تین نسلیں بیک وقت محوِ خرام تھیں۔
سلمان اور ان کے اہل خانہ اس چہل قدمی کے دوران کیا سوچ رہے تھے یہ کوئی بھی نہیں جانتا لیکن ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ان میں سے کسی کے وہم و گمان میں دور دور تک اس خیال کا سایہ بھی نہیں پڑا ہوگا کہ وہ چہل قدمی چند لمحوں میں ان پانچ میں سے چار افراد کی زندگیوں کے چراغ بجھا دیگی!
پانچ میں سے وہ ایک تنہا زندہ بچا ہے، نو برس کا معصوم فائز افضال جس نے اس ناپختہ، کچی، عمر میں اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی بڑی بہن، اپنی ماں، اپنے باپ اور اپنی دادی کو ایک شقی القلب درندے کے ٹرک کے نیچے کچلتے اور جاں سے جاتے دیکھا۔
کیا قصور تھا اس معصوم بچے کا کہ اب وہ جب تک جئے گا، اور اللہ اسے عمرِ خضر عطا کرے اور ہمیشہ صحت کی دولت سے اس کا دامن بھرا رکھے، اس دلخراش سانحہ کی خراش اس کے دل میں چبھتی رہے گی، اسے کچوکے لگاتی رہے گی اور اسے عمر بھر ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ستاتی رہے گی!
وہ سب ایک ٹریفک لائٹ پر اس انتظار میں کھڑے تھے جب ایک درندہ صفت، سفید فام، جوان نے اپنا ٹرک جان بوجھ کر فٹ پاتھ پر چڑھایا اور پانچ میں سے چار بڑوں کو موت کی نیند سلاتا ہوا ہنستا اور قہقہے لگاتا ہوا وہاں سے فرار ہوگیا اور پھر پانچ چھ کلومیٹر دور ایک شاپنگ مال کے پارکنگ لاٹ میں جاکر ٹرک روکا اور فخریہ وہاں موجود لوگوں کو اپنا کارنامہ سنایا کہ وہ پولیس کو اس کی اطلاع دے سکیں!
بیس برس پہلے نیویارک میں نائن الیون کا جو سانحہ ہوا تھا اس کے بعد سے مغربی ممالک میں اسلام اور مسلم دشمنی کی جو وبا پھوٹ نکلی تھی اس پہ تا حال کوئی بھی مغربی ملک اپنی ترقی اور تعمیر کے تمام تر اور مسلسل ڈھنڈورے پیٹنے کے باوجود قابو نہیں پاسکا ہے۔ کرونا کی جس عالمی وبا نے کووڈ 19 کے نام سے گذشتہ ڈیڑھ برس سے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اس پہ قابو پانے اور اس کے مہلک اثرات سے بچنے کیلئے ترقی یافتہ مغربی ممالک نے جو تگ و دو کی ہے وہ اپنی جگہ بلا شبہ لائقِ تحسین و توصیف ہے اور اس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ اگرچہ اس میں بھی ان تمام ممالک کی خود پرستی اور دنیا کے غریب ملکوں کیلئے ہمدردی اور ترحم کا فقدان صاف دکھائی دیتا ہے۔ ان امیر ممالک نے اپنی آبادی کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ویکسین جمع کرکے رکھی ہوئی ہے لیکن غریب ملکوں کیلئے ان کا دل نہیں پسیجتا۔
اب حاتم کی قبر پر لات مارتے ہوئے بڑی دھوم سے اعلان کیا گیا ہے، جی سیون کی برطانیہ میں ہونے والی تازہ سربراہی کانفرنس کے بعد، کہ غریب ممالک کو ایک ارب ویکسین ہدیہ کی جائینگی لیکن کب، کتنے عرصے میں، اس کا کوئی ذکر نہیں جبکہ بھارت جیسے ملک میں یہ وبا روزانہ ہزاروں جانوں کا نذرانہ لے رہی ہے اور اس کی شدت میں کوئی کمی نہیں آرہی!
دینے والے ہمدرد ملک چین جیسے ہوتے ہیں جو اب تک، خاموشی سے، دنیا کے غریب ممالک کوپچاس کڑوڑ، یعنی نصف ارب، ویکسین مفت دے چکا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں سرِ فہرست ہے اور اب تو پاکستان اپنے دوست چین کی مدد سے خود درونِ ملک اپنی ضرورت کی ویکسین بنا رہا ہے۔ الحمد و للہ کہ پاکستان نے جس کامیابی سے اس وبا پر قابو پایا ہے وہ مسلم دشمن نریندر مودی سرکار کو آئینہ دکھانے والی بات ہے لیکن بھارت جنتا پارٹی اور اس کے مسلم دشمن نیتا اپنی نفرت کے ہاتھوں اتنے اندھے ہوچکے ہیں کہ وہ اصل اور کھوٹ میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھے ہیں!
انسانی ہمدردی اور انسانیت کشی کے درمیان جو بہت واضح فرق ہے اسے سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت سے وہ مغرب اور اس کے نیتا بھی اتنے ہی محروم نظر آتے ہیں جتنی مودی سرکار جس کے یہ مغربی رہنما بڑے پرستار ہیں اور وہ صرف اس لئے کہ بھارت کی سرکار جتنی پاکستان دشمنی میں پیش پیش ہے اتنی ہی چین دشمنی میں بھی ہے اور یہی وہ قدر ہے جو اس میں اور اس کے مغربی مرٌیوں میں مشترک ہے!
سو مغربی حکومتوں نے کووڈ پہ تو قابو پالیا لیکن اس سے کہیں زیادہ پرانے اور بے انتہا مہلک اسلامو فوبیا پر آجتک کوئی مغربی ملک تمام تر پروپیگنڈا اور خود ستائشی دعووں کے باوجود قابو نہیں پاسکا بلکہ الٹا یہ ہوا ہے کہ یورپ کے کتنے ہی ممالک میں اسلام دشمن سیاسی جماعتوں کی مقبولیت اور عوامی پذیرائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک ملک، آسٹریا کی مثال تو ہمارے سامنے ہے جہاں دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت برسرِ اقتدار آچکی ہے۔ ابھی پچھلے مہینے جب اسرائیل کی صیہونی حکومت غزٌہ کے محصور اور مظلوم فلسطینیوں پر ستم ڈھارہی تھی اور رات دن بمباری کرکے عمارتوں کو ملبہ بنارہی تھی تو آسٹریا کے شہروں میں اسرائیل کی حمایت میں جلوس نکل رہے تھے اور اسرائیلی قومی پرچم سڑکوں اور مکانوں پر لہرا رہے تھے۔ لیکن وہ ممالک بھی اسلام دشمنی میں ایک دوسرے کو مات دینے کیلئے کوشاں دکھائی دیتے ہیں جہاں برائے نام متوازن جمہوری جماعتیں بر سرِ اقتدار ہیں۔ فرانس، جس کی اسلام دشمنی کی تاریخ پورے یورپ میں سب سے پرانی ہے، اپنے اسلامو فوبیا میں بھی پورے یورپ کی قیادت کررہا ہے اور اس کے مسلم دشمن صدر میکراں کوئی موقع نہیں گنواتے مسلمانوں اور اسلام کو مطعون کرنے کا!
کینیڈا کی شہرت پورے عالمِ مغرب میں اس حوالے سے معروف رہی ہے کہ یہ وہ واحد مغربی ملک ہے جس میں باہر سے آکر بسنے والوں کیلئے پوری آزادی کا وہ ماحول ہے جس میں ہر نیا تارکِ وطن اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنے مسلک کے ساتھ دوسرے تمام کینیڈین شہریوں کی طرح معمول کی زندگی بسر کر سکتا ہے اور اسے شہریت کے وہ تمام حقوق ملتے ہیں جو کینیڈا میں پیدا ہونے والے ہر شہری کا حق ہوتا ہے!
لیکن زہر اور منافرت کی وہ رو، وہ لہر، جس نے ڈونالڈ ٹرمپ کی منافرت اور عصبیت زدہ صدارت میں امریکی معاشرہ کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا تھا لگتا ہے کہ وہ اب سفر کرتے کرتے کینیڈا میں بھی داخل ہوگئی ہے اور یہاں بھی اس کے پجاری اور پرستار پیدا ہوچکے ہیں!
کینیڈا کے صوبہ کیوبک کی تو شہرت عرصۂ دراز سے اسلام دشمنی کی رہی ہے کیونکہ اس کی اکثریت فرانسسی نژاد ہے اور اسلامو فوبیا میں فرانس کی روش پر عرصۂ دراز سے کاربند چلی آرہی ہے۔ اسی صوبے میں چھہ برس پہلے صوبائی اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک قانون منظور کیا تھا کہ کسی بھی اقلیت کو عوامی جگہوں اور پبلک مقامات پر اپنی ثقافت کا پرچار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، یہ قانون کھلی اسلام دشمنی پر مبنی تھا کیونکہ مسلم خواتین کے حجاب سے مسلم دشمنوں کو بڑی چڑ تھی اور وہ اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے سو اس اسلام دشمنی نے وہ قانون بنوایا جس کی زد میں بیچارے سکھ بھی آگئے کہ ان کی وہ پگڑی جو ان کے مسلک اور عقیدیہ کا لازمی جزو ہے اس کا پہننا بھی ممنوع قرار پایا۔ گویا گندم کے ساتھ ساتھ وہاں گھن بھی پس گیا۔ یہ یاد رہے کہ کینیڈا کی تیسری سب سے بڑی جماعت، این ڈی پی کے موجودہ سربراہ جگمیت سنگھ سکھ ہیں اور لندن، انٹاریو کے اس خونی سانحہ کی سب سے کھل کر مذمت انہوں نے ہی کی ہے!
مسلم دشمنی کا ایک مظاہرہ آج سے چار برس پہلے کیوبک شہر میں ہوا تھا جہاں ایک جنونی انتہا پسند نے ایک مسجد پہ حملہ کرکے نو نمازیوں کو ایک پل میں شہید کردیا تھا اور درجنوں دیگر نمازی زخمی ہوئے تھے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ دو برس پہلے نیوزی لینڈ میں بھی ایسے ہی ایک جنونی نے وہاں ایک مسجد پر حملہ کرکے پچاس نمازیوں کو شہید کردیا تھا جس کے جواب میں نیوزی لینڈ کی حکومت نے فوری قانون سازی کی تاکہ پھر کسی اور جنونی اور اسلام دشمن کو ہمت نہ ہوسکے کہ وہ مسلمانوں کو اپنی نفرت کا ہدف بنائے۔ نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم، جیسینڈا آرلینڈ کی اس بر وقت کارروائی نے نہ صرف انہیں عالمی سطح پر قدآور بنادیا بلکہ جس طرح انہوں نے اپنے مسلمان شہریوں کے قلوب کی تالیف کی اس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ان کا گرویدہ کردیا!
اے کاش کہ کینیڈا میں بھی 2015میں، جب کیوبک کی پارلیمان نے مسلم دشمن قانون سازی کی تھی، اس اقدام کی مذمت کی جاتی لیکن اس وقت کینیڈا میں قدامت پرست پارٹی کی حکومت تھی جس کے قائدین نے نہ صرف اس اسلام دشمنی کی کوئی مخالفت نہیں کی بلکہ اس طرح کے منافرت بھرے بیان دئیے جنہیں دہراتے ہوئے شرم آتی ہے۔ مثال کے طور پہ اس دور کے وزیرِ دفاع نے کیوبک کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ایسے قوانین بننے چاہئیں جو بقول ان کے ایسی حیوانی رسوم کو متروک قراردے سکیں۔ بہ الفاظِ دیگر، ان کی دانست میں حجاب بربریت اور درندگی کی علامت ہے!
ظاہر ہے کہ اسلام دشمن سیاسی قیادت اسلاموفوبیا کی ہمت افزائی کرتی ہے۔ بڑا شکر ہے کہ کینیڈا کے موجودہ وزیرِ اعظم، جسٹن ٹروڈو، ایسی منافرت سے پاک اور صاف ہیں بلکہ ان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد تو کینیڈا کے مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا تھا کہ وہ اپنے مرحوم والد، پئیر ٹروڈو کی طرح کھلے دل اور بالغ نظری کیلئے شہرت رکھتے ہیں۔ اس دردناک واقعہ کے بعد جسٹن ٹروڈو نے کھل کر اس کی مذمت کی اور اسے دہشت گردی سے تعبیر کیا۔ ان کی دیکھا دیکھی دیگر کینیڈین سیاسی رہنماؤں نے بھی اس خونی واقعہ کی مذمت اور مسلمانوں سے اپنی ہمدردی کے اظہار میں بیانات دئیے۔
لیکن بات اب صرف زبانی جمع خرچ تک نہیں رہنی چاہئے۔ اب بیانات کا وقت گذر چکا اور عملی اقدامات کی گھڑی آپہنچی ہے۔ دیکھنا ہے کہ کیا مناسب قانون سازی کرنے کا بھی کینیڈا کے سیاسی رہنماؤں میں اتنا ہی بھرپور جذبہ ہے جتنے زور شور سے انہوں نے زبانی اس بربریت کے واقعہ کی مذمت کی ہے؟
کہتے ہیں نا کہ پڈنگ کے ذائقہ کا فیصلہ تو اسے کھانے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے تو بالکل اسی طرح اس کا فیصلہ کہ کینیڈا کے برسرِ اقتدار سیاسی رہنماوٗں اور حزبِ اختلاف کے قائدین میں اسلام کیلئے کیا جذبات ہیں اور مسلمانوں کے وہ کتنے دوست ہیں اس قانون سازی کو دیکھ کر کیا جائے گا جس میں مزید تاخیر کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کینیڈا کے مسلمان، بیک آواز، یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے ورنہ وہ اپنے آپ کو اپنے اس وطنِ ثانی میں بھی اتنا ہی غیر محفوظ سمجھنے کیلئے موردِ الزام نہیں ٹہرائے جاسکتے جس عدم تحفظ کے جذبے نے انہیں اپنا وطن چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور کیا تھا!
دیکھنا ہے کہ کینیڈا کی قیادت اس ذمہ داری سے کیسے عہدہ برا ہوتی ہے جسے اب مزید ٹالا نہیں جاسکتا۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ باہمی رواداری اور ترحم کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا وہ اپنی اس ذمہ داری سے پہلو تہی کرکے ان اسلام دشمن طاقتوں اور نفرت کے شکار جنونیوں کی ہوس کو مزید ہوا دینے کا جرم کرینگے جو اس خونی سانحہ پر بھی خوشی سے اپنی بغلیں بجا رہے ہیں!
اسلام دشمنوں سے تو عالمِ اسلام پچھلے ایک ہزار برس سے، اس وقت سے جب کیتھولک کلیسا کی سربراہی میں صلیبی جنگوں کا آغاز ہوا تھا، نبرد آزما رہا ہے اور یہ سلسلہ نہ جانے کب تک چلے گا لیکن ہم پاکستانیوں کیلئے ایک اور صبر آزما امتحان اس پاکستان دشمن نیوز میڈیا سے نبٹنے کا بھی ہے جو باہر کی دنیا میں تو ایک عرصہٗ دراز سے پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کیلئے جانا پہچانا ہے لیکن عمران کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے پاکستانی نیوز میڈیا کی اپنی صفوں میںچھپے ہوئے لفافہ صحافیوں کی ریشہ دوانیاں دن دونی اور رات چوگنی ہوچکی ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا انگریزی زبان کا اخبار، ڈان، جو قائدِ اعظم علیہ رحمہ کی ترغیب اور سرپرستی میں شروع ہوا تھا، اب عمران دشمنی میں پیش پیش ہے لیکن اس سے بڑا دشمن جنگ نیوز گروپ ہے جس کے بے شرم مالک میر شکیل الرحمان عمران دشمنی اور نواز اور زرداری نوازی میں پاکستان دشمنی کی سرحدیں بھی پار کرجاتے ہیں۔ اس کا تازہ ترین مظاہرہ وہ افواہ ہے جو جنگ گروپ نے اس عنوان سے پھیلائی کہ پاکستان کے صدرِ مملکت کی جانب سے بھیجے گئے آم کے ٹوکرے چین اور امریکہ اور بہت سے اور ملکوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے!
دفترِ خارجہ نے اس کھلے جھوٹ اور افترا کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے وضاحتی بیان جاری کرنے میں پل بھر کی تاخیر نہیں کی کہ آموں کے تحفے جو ہر سال بھیجے جاتے ہیں، کووڈ کی وجہ سے نہ پچھلے سال بھیجے گئے نہ اس سال لیکن بھارتی اخبارات اور دیگر ذرائع پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے اس سنہرے موقع کو کہاں گنواتے سو انہوں نے اس افترا کو بڑھا چڑھا کر تشہیر دی کہ پاکستان کے دوست ممالک بھی اس کے آموں کو قبول کرنے سے معذور ہیں!
اسلام دشمنوں کو بے نقاب کرنا پورے عالمِ اسلام کی ذمہ داری ہے تاکہ، جیسا کہ عمران خان نے درست کہا، اس سیکیولر دہشت گردی کا قلع قمع کیا جاسکے۔ لیکن ان پاکستان دشمنوں کاسدِ باب کرنا ہر اس پاکستانی کا فرض ہے جسے اپنے ملک اور قوم سے محبت اور ہمدردی ہے۔ ضمیر فروش اور ملت کی عزت کو نیلام کرنے والے بے ضمیروں کے منہ سے نقاب اتارنے کا وقت بھی آپہنچا ہے!
أأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأ

Leave A Reply

Your email address will not be published.