ملالہ یوسف زئی ،اسلام کیلئے قابل شرم، پاکستان کیلئے قابل شرم!

73

ملالہ کے حالیہ انٹرویو کے حوالے سے میرے خیال میں ملالہ کو سب سے پہلے اپنی ماں سے پوچھنا چاہیے کہ اس نے ضیاء الدین یوسف زئی سے نکاح کیا تھا یا پھر بغیر نکاح کے ان کے ساتھ زندگی گزر رہی ہے ۔ملالہ کو اپنے والد ضیاء الدین یوسف زئی سے بھی پوچھنا چاہیے کہ اس کے سب بچے اسلام کی رو سے حلال ہیں یا حرام۔ ملالہ اپنے آپ کو پختون کہتی ہے اور یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ دوپٹہ اس لئے اوڑھتی ہے کہ یہ پختون روایت ہے لیکن بغیر نکاح کے کسی مرد کیساتھ جنسی تعلقات رکھنا کس قدر ناقابل برداشت عمل ہے تاریخ سینکڑوں سال کی اس بات پر گواہ ہے کہ پختون قوم اپنی خواتین کی کس طرح حفاظت کرتے ہیں وہ اسلام اور اس کی روایت پر کٹ مرنے والی قوم ہے۔ خدا میرا گواہ ہے کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں کسی پختون عورت سے اس طرح کی باتیں کھلے عام اور بین الاقوامی میڈیا پر نہیں سنیں۔ کتنی پختون خواتین کھیلوں میں حصہ لیتی ہیں کتنی عورتیں میڈیا اور اخبارات میں کام کرتی ہیں یہاں تک کہ ملالہ کی عمر کی لڑکیاں اکثر مباحثوں اور شوز میں حصہ لیتی ہیں لیکن کبھی کسی کے منہ سے یہ نہیں نکلا کہ مردوں کے ساتھ نکاح کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ویسے بھی تعلقات قائم رکھے جا سکتے ہیں۔ آفرین ہے ملالہ پر یا تو وہ بہت زیادہ اوورکانفیڈنٹ ہو گئی ہے یا اس کا ایمان ختم ہو گیا ہے۔ وہ اسلام کے اصولوں کو بھول گئی ہے یا اس کے ماں باپ نے اس کو بتایا نہیں کہ اسلام کے اصول کیا ہیں۔ یہ زنا ہے ،حرام کاری ہے اور اس کی سزااسلام میں موجود ہے یا تو ملالہ نے اسلام اور اس کی سنتوں سے اپنا تعلق ختم کر لیا ہے یا تو اس کے والد ضیاء الدین نے دولت بٹورنے کی خاطر اپنی بیٹی کو ہر قسم کی رائے دینے خصوصاً اسلامی اصولوں پر رائے دینے کیلئے آزاد چھوڑ دیا ہے۔ ضیاء الدین نے اپنی بیٹی ملالہ کو یہ نہیں بتایا کہ اس نے بھی اس کی ماں سے نکاح کیا تھا اور وہ اس نکاح کے نتیجے کی پیداوار ہے۔ نہ ضیاء الدین اور ملالہ کو یہ احساس ہے کہ انسان کو ایک دن مرنا بھی ہوتا ہے اور اس نے اللہ کے سامنے بروز قیامت پیش ہونا ہے۔ اگر ملالہ اس سے بھی انکاری ہے تو پھر معاملہ ختم۔ اس دنیا میں بڑے بڑے ستمگر اور قلندر آئے اور چلے گئے۔ بڑے بڑے حکمران آئے اور چلے گئے۔ نپولین بھی چلا گیا۔ ہٹلر بھی چلا گیا۔ کتنے نوبل انعام یافتہ لوگ اس دنیا سے چلے گئے کسی کو ان کا نام بھی یاد نہیں ہو گا۔ لیکن انسان کی باتیں یاد رہ جاتی ہیں۔ نظریات یاد رہ جاتے ہیں۔عقائد یاد رہ جاتے ہیں باقی سب نے اللہ کی طرف لوٹ جانا ہے۔
ضیاء الدین یوسف زئی نے مفتی پوپلزئی کے ٹوئٹ کا جواب دیا کہ میڈیا میں ملالہ کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ یقیناً ہر مرد اور عورت اپنے نظریات اور سوچ بدلنے کیلئے آزاد ہے۔ خصوصاً مغربی معاشرے میں۔ مغرب میں ہر مرد اور عورت کو اپنی رائے کے اظہار کی آزادی ہے کوئی بھی کسی کو اپنی رائے کا اظہار کرنے سے روک نہیں سکتا جس طرح ملالہ کو سوچ اور رائے کے اظہار کا حق ہے تو مجھے بھی یہ حق حاصل ہے۔ میں امریکہ میں اتنے سالوں سے رہ رہا ہوں میں بھی کسی کو رائے اور نظریات کے مطابق اپنے رائے دے سکتا ہوں۔ اظہار رائے کی آزادی کا حق مجھے بھی حاصل ہے۔
ملالہ کہاں پیدا ہوئی، پاکستان میں؟ لندن کہاں سے گئی؟ پاکستان سے ۔ملالہ کو گولی کس نے ماری؟ طالبان نے۔ طالبان نے گولی کیوں ماری؟ شائد ملالہ کے افکار اور نظریات کی وجہ سے۔ ملالہ لندن کس کی اجازت سے گئی؟ اس وقت کے پاکستانی حکمرانوں کی اجازت سے۔ اگر ملالہ پاکستان سے لندن نہ جاتی تو کیا ہوتا؟ اس کا جواب دینا اب بہت مشکل ہے۔ اس کو نوبل انعام کیوں ملا؟ بقول مغربی دنیا طالبان کے حملے اور اس کی جان بچ جانے کے انعام کے طور پر طالبان کو جواب دیا گیا۔ رہ گئی سکول اور لڑکیوں کی تعلیم کی بات اس سے بہت زیادہ لوگ ،ادارے، خواتین، تنظیمیں پوری دنیا میں تعلیم کیلئے کام کررہی ہیں لیکن سب کو نوبل انعام نہیں ملتا ہے۔ ملالہ کے والد ضیاء الدین یوسف زئی بہت ہوشیاری سے اپنی گیم کھیل رہے ہیں۔ ملالہ ان کے لئے سونے کی چڑیا ہے۔ انہوں نے اس کو ہر طرح کی آزادی دی ہوئی ہے لندن میں رہ کر ملالہ اسلامی معاشرہ اسلامی تعلیمات بھول گئی ہے وہ پاکستانی معاشرہ بھی بھول گئی ہے۔ وہ پختونوں کی روایت بھی بھول گئی ہے۔ اس کو یہ بھی یاد نہیں ہو گا کہ وہ پاکستان کی مٹی میں پلی بڑھی، کیا وہ کبھی پاکستان نہیں آئے گی؟ پاکستان کے اسلامی معاشرے میں اس قسم کے بیانوں پر سخت ردعمل موجود ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں جنسی بے راہ روی کی اجازت نہیں ہے۔ میں اتنے سالوں سے امریکی معاشرہ دیکھ رہا ہوں۔ جہاں یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ چالیس فیصد لڑکیاں بغیر شادی کے ماں بن جاتی ہیں مغربی دنیا میں ایسے قانون اکثریت سے موجود ہیں جہاں جنسی آزادی اور شخصی آزادی موجود ہے۔ امریکہ کے بعض سٹیٹ میں مرد مرد سے شادی کر سکتا ہے۔ عورت عورت سے شادی کر سکتی ہے لیکن اسلام کے اصول اس سے بالکل مختلف ہیں۔
اب ملالہ اور ضیاء الدین یوسف زئی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اسلام کی سوچ اور اصولوں کو اپنی زندگی کا نظریہ ٔحیات مانتے ہیں یا یورپ اور مغربی دنیا کی شخصی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کو اپنی دنیاوی زندگی کا حاصل اور مقصد بنانا چاہتے ہیں یقینا ’’چمک‘‘ اور اچیومنٹ اس ٹارگٹ میں موجود ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.