پلاننگ!

58

مجھے کبھی چودھری منظور اچھے لگتے تھے کبھی معقول گفتگو کرتے تھے معقولیت نے ان کو چھوڑ دیا یا انہوں نے معقولیت سے دامن چھڑا لیا؟ اس پر بھی سوچا اور محسوس ہوا کہ پاکستان کی سیاست تین چار خاندانوں کے گرد گھومتی رہی ہے، انہی خاندانوں کے نام پر سیاسی جماعتوں کے نام ہیں اور اسی خاندان کااس پارٹی پر کنٹرول، مشاہدہ تو یہی ہے کہ اس سیاسی جماعت کے سربراہ کے حکم پر ہی پتہ ہلتا ہے اب پی پی پی میں اعتزاز ہوں، چودھری منظور ہوں یا رضا ربانی سب ہی اس کے غلام ہیں جو جماعت کا سربراہ ہو اور ساری ہی بڑی جماعتوں کے سربراہ وڈیرے، ان کے بچے ملک سے باہر پڑھتے ہیں ان میں سے کوئی ڈاکٹر، انجینئر یا کوئی پروفیشنل نہیں بنتا، یہ نہ تو فوج اور پولیس میں جاتے ہیں، نہ بیوروکریسی کا حصہ بنتے ہیں اور نہ ہی کوئی کام کرتے ہیں، بلاول اور مریم نے کبھی کونسلر کا الیکشن بھی نہیں لڑا مگر وہ اپنی اپنی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور بہت فخر سے بیان دیتے ہیں کہ ان کا تعلق حکمران خاندان سے ہے، دنیا میں ایسا نہیں ہوتا یہ وراثت کا سلسلہ بادشاہتوں میں ہوتا ہے کہ باپ کے مرنے کے بعد بیٹا جانشین ہو جاتا ہے جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا، مگر پاکستان میں تو بادشاہت نہیں تھی یہ ملک تو بیلٹ کے ذریعہ ہی معرض وجود میں آیا تھا مگر فیوڈلز نے اس ملک میں ملا اور ملٹری کے ساتھ مل کر ایک غیر اعلانیہ بادشاہت تشکیل دے دی، جو نام نہاد جمہوریت کہلاتی ہے، اس وقت جو سیاست کی تشکیلات ہیں وہ یہ ہیں کہ پاکستان پر چند خاندانوں کا قبضہ ہے بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کے سبب نئی قیادت ابھری ہی نہیں، جوایک نرسری ہوا کرتی تھی طلباء یونین اور مزدور انجمن کی وہ بھی پابندی کی نذر ہو گئی، سو اس موروثی سیاست کے رہنمائوں کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں لہٰذا اب صورت حال یہ ہے کہ جماعت کا سربراہ ایک آمر کی طرح جماعت پر مسلط ہے اور اس کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا اور لطف کی بات ہے کہ جماعت کے ہر چھوٹے بڑے لیڈر پر لازم ہے کہ وہ اپنے ہر بیان میں جماعت کے سربراہ کا نام ضرور لے، اب پی پی پی کے ہر چھوٹے لیڈر پر واجب ہے کہ وہ بلاول کی مالا جپے، مسلم لیگ کے ہر چھوٹے رہنما پر واجب ہے کہ وہ نواز شریف پر سلام بھیجے اور تحریک انصاف کے تمام انصافین پر فرض ہے کہ وہ عمران پر درود پڑھیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ ایسا میثاق جمہوریت کی وجہ سے ہوا، مگر میرا خیال ہے کہ اس کی ابتداء بہت پہلے ہو چکی تھی، جنرل یحییٰ کے زمانے میں جب جماعت اسلامی نے تجویز دی تھی کہ جنرل یحییٰ کو امیر المومنین مان لیا جائے تو اس بات کو پذیرائی اس لئے نہ ملی کہ یہ بات جماعت اسلامی کی جانب سے آئی تھی اسی بات کو دوبارہ اس وقت دہرایا گیا جب جنرل ضیاء الحق نے حکومت پر قبضہ کیا اور اپنا اسلام نافذ کر دیا اور اس وقت بھی یہی بازگشت سنائی دی اسی بازگشت کا اعادہ نواز شریف کے زمانے میں بھی ہوا الطاف کو بھی قطب ابدال کے مرتبے پر فائزکر دیاگیا تھا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ تسلسل بس یونہی تھا بات یہ ہے کہ یہ FEELERSہوتے ہیں یہ جاننے کے لئے کہ اس بات کو کتنی قبولیت ملتی ہے اور یہ بھی کہ تواتر کے ساتھ ایک بات عوام کے ذہن میں ٹھونسنا، ضیاء الحق کے زمانے میں جبر کے ساتھ بات منوانا آسان ہو گیا، میڈیا نے طالبان کو اتنا FANTICIZEکیا کہ لوگ سمجھنے لگے کہ شائد سلطنت عثمانیہ کا احیاء ہونے جارہا ہے اور طالبان کی حکومت ساری دنیا پر قائم ہو جائے گی، یہ ساری کار گزاری فوجی ذہن کی تھی مغرب اس صورت حال کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا اور سائنسی انداز میں نواز شریف اور بے نظیر کو میثاق جمہوریت DRAFTکر کے دے دیا، اس وقت بھی ہم نے لکھا تھا کہ پاکستان میں دو جماعتی نظام لانے کی کوشش کی جارہی ہے مگر اس سے قبل فوج بہت کامیابی سے نواز شریف اور بے نظیر کو MUSICAL CHAIRُپر بٹھا کر اس کی ریہرسل کر لی تھی اس سیاسی دھینگا مشتی کے بعد میثاق جمہوریت کا مذاق پاکستان میں آزمایا گیا اور جب ان دونوں جماعتوں نے فوج کو آنکھیں دکھانا شروع کیں تو ایک بے عقل انسان جس پر اسی کی دہائی سے کام ہورہا تھا پاکستان پر مسلط کر دیا گیا، اس کا مطلب میں یہ لیتا ہوں کہ ایک منصوبے کے تحت پاکستانی فوج کے اشاروں پر چل رہا ہے اس دوران ڈھنڈورا یہ پیٹا گیا کہ ملک میں جمہوریت ہے ایک نظام ہے اور یہ سب مذاق، نہ جمہوریت کی طرح جمہوریت نہ نظام سا نظام، آئین گیا بھاڑ چولہے میں، جب بھی کسی کو باندھنا ہو تو آئین کی کچھ شقیں نکال کر دکھائی جاتی ہیں اور پھر اس کو گاربیج کین میں پھینک دیا جاتا ہے اور آئین کا بھی ایک تماشہ ہے یہ آئین ایک شوق کی وجہ سے تلوار کی طرح دہشت گردوں کے ہاتھ میں ہے اور مسلسل چالیس سالوں سے استعمال ہورہی ہے یہ کسی خاص ایجنڈے کے بغیر نہیں ہو سکتی۔
کبھی یہ بھی سوچا جا سکتا ہے کہ نواز شریف نے ’’سی پیک‘‘ متعارف کراکے مغرب کو چونکا دیا اور اس نے سوچنا شروع کیا کہ شائد پاکستان ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور وہ بفر زون نہیں رہے گا نواز شریف فوج کو بھی آنکھیں دکھارہے تھے، کبھی عالمی طاقتیں چاہتیں تھیں کہ پاکستان فوج میں کمی کرے مگر سی پیک کو بند کرنے کی شرط عالمی طاقتوں نے اپنی خواہش میں ترمیم کر لی، جنرل باجوہ کو واشنگٹن میں اکیس توپوں کی سلامی بے سبب تو نہ تھی، یہ بات درست ہے کہ پاکستان کے فیصلے سے باہر ہوتے ہیں لائن آف کنٹرول پر ہمارے دو چار جوان مررہے تھے مگر صرف ایک جھڑکی سے یہ جھڑپیں رک گئیں ۔اسلاموفوبیا کا راگ بھی ایک تماشا ہے دہشت گردی کی علامت کے طور پر دنیا کے سامنے ناموس رسالت پر جب تک قتل کئے جاتے رہیں گے اس وقت تک سوالات اٹھتے رہیں گے اسلاموفوبیا بھی مغرب کی نکالی ہوئی ٹرم ہے جب بھی پاکستان کو UNSTABLEکرنا ہو گا ایک دو خاکے یا کارٹون بنوا دئیے جائیں گے اور آگ لگے گی پاکستان کو، بات یہ ہے کہ پاکستان پر فوج کا غیر اعلانیہ تسلط ہے اور یہ عالمی طاقتوں کی مرضی سے ہے جب تک فوج کی باوقار واپسی نہیں ہو گی اس وقت تک پاکستان کے یہی مسائل رہیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.