سی آئی اے اور افغانستان

58

افغان جنگ کے متاثرین اور اسمیں دلچسپی رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکی انخلا کے بعد اس ملک میں ایک نئی خانہ جنگی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا افغانستان کے ہمسایوں کو یہ فکر لا حق ہے کہ اس نئی محاذ آرائی نے پورے خطے کو ایک مرتبہ پھر طویل عرصے کیلئے غیر مستحکم کر دینا ہے دوسری طرف امریکہ کو جو ان گنت خدشات لاحق ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ نیٹو اور امریکی افواج کی واپسی کے بعد کابل حکومت کا دفاع کیسے کیا جائیگااور طالبان‘ القاعدہ اور داعش کی حرکات و سکنات پر کیسے نگاہ رکھی جائیگی بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے آخری امریکی سپاہی کی بحفاظت واپسی کا بندو بست کر دیا گیا ہے اسکا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اس مرتبہ ویت نام جنگ کے خاتمے کی طرح کسی امریکی فوجی کو دشمن ملک سے اُڑنے والے آخری جہاز سے لٹکنا نہیں پڑے گاسائیگائوںسے تیس اپریل1975 کو جو آخری امریکی جہاز اڑا تھا اس سے لٹکنے والے ایک فوجی کی تصویر دنیا بھر کے اخبارات نے شائع کی تھی یہ تلخ حقیقت امریکی نفسیات پر ایک انمٹ نقش کی طرح ثبت ہو چکی ہے ا مریکہ کسی بھی صورت اس عبرتناک انجام کا ایکشن ری پلے نہیں چاہتااسی لئے صدر بائیڈن نے پہلے انخلا کی تکمیل کیلئے گیارہ ستمبر کی تاریخ دی تھی پھر اچانک جولائی کے اوائل میں امریکی افواج کی واپسی کا اعلان کر دیا گیا ایسا کیو ں ہوااسکی وجہ اگر چہ کہ بائیڈن انتظامیہ نے نہیں بتائی مگر افغانستان سے متعلق ایک خبر میں لکھا ہوا تھا کہ اب جبکہ فوجوں کی واپسی کا عمل شروع ہو چکا ہے تو ایسے میں کسی امریکی فوجی کی ہلاکت ایک اشتعال انگیز واقع ہو گا ادھر طالبان اعلان کر چکے تھے کہ دوحہ معاہدے کے مطابق اگر اپریل کے اختتام سے پہلے تمام غیر ملکی افواج واپس نہ گئیں تو وہ ان پر حملے شروع کر دیں گے یہ حملے کیونکہ ابھی تک شروع نہیں ہوے اسلئے کہا جا سکتا ہے کہ فریقین میں ایک خفیہ معاہدہ ہو چکا ہے جسکی روح سے انخلا کی تاریخ تبدیل کر دی گئی ہے گویا طالبان نے امریکہ کو بحفاظت واپسی کیلئے تین ماہ کی مہلت دے دی ہے ۔
اس تصفیے کے بعد سی آئی اے کو یہ مشکل درپیش ہے کہ اگلے مرحلے میں افغانستان میں Intelligence gathering یعنی خفیہ معلومات کیسے اکٹھی کی جائیں گی بیس سال کی جنگ کے دوران دشمن کی جاسوسی اور سراغ رسانی اسلئے مشکل نہ تھی کہ سی آئی اے خود میدان جنگ میں موجود تھی اس نے وسائل اور سرمائے کا بے دریغ استعمال کر کے مقامی جاسوسوں کا ایک نیٹ ورک بنا رکھا تھا جو اسے ہر قسم کی اطلاع مہیا کر دیتا تھا کہتے ہیں بم پھینکنے سے پہلے اس جگہ کا پتہ لگانا ہوتا ہے جہاں بم پھینکا جاتا ہے سی آئی اے کو افغان جاسوس تو اب بھی میسر ہوں گے مگر انکی فراہم کردہ اطلاعات کا تجزیہ کرنے کیلئے اسے کسی ٹھکانے کی ضرورت ہے وہ ٹھکانہ اگر میدان جنگ سے دور ہوا تو پھر خفیہ اطلاعات پر ایکشن ہونے تک بازی مات ہو چکی ہو گی آجکل سی آئی اے کی ان مشکلات کا ذکر امریکی میڈیا پر ہو رہا ہے لگتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ رائے عامہ کو ا س دن کیلئے تیار کر رہی ہے جب طالبان کابل پر فتح کا جھنڈا لہرا دیں گے امریکہ کے منہ زور میڈیا نے ابھی سے کہناشروع کر دیا ہے کہ سی آئی اے اور پینٹا گون نے بیس برس تک یہ جنگ لڑی‘ دو کھرب ڈالر لگائے2400امریکی سپاہی ہلاک ہوئے ‘ نیٹو کا مالی اور جانی نقصان اسکے علاوہ ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ جس ملک میں القاعدہ کو ختم کرنے اور جمہوریت قائم کر نے گیا تھا وہاں وہ اپنی قائم کردہ حکومت کا دفاع تک نہیں کر سکتا افغان جنگ کے متاثرین اور اسمیں دلچسپی رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ طالبان کی فتح کا یہ دن جلد یا بدیر آنے ولا ہے اس دن امریکہ کا نامۂ اعمال اسکے ہاتھ میں ہو گا اس دن سوویت یونین کی طرح امریکہ کو بھی اپنے زخم چاٹنے پڑیں گے امریکہ اس دن کو ٹالنا چاہتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کر کے اس لمحے سے فرار حاصل کرنا چاہتا ہے مگر سی آئی اے غیر متوقع طور پر یہ کہہ رہی ہے کہ کابل حکومت کا طویل عرصے تک دفاع نہیں کیا جا سکتا ایک تازہ خبر کے مطابق اسوقت سی آئی اے افغانستان کے آس پاس کوئی ٹھکانہ ڈھونڈنے کیلئے ہاتھ پائوں مار رہی ہے اسے کسی ایسے سفینۂ نجات کی تلاش ہے جہاں سے وہ جہاز اڑا کر گھنٹوں میں نہیں منٹوں میں افغانستان پہنچ جائے
سات جون کے نیو یارک ٹائمز کی ایک خبر کے مطابق امریکی سفارتکار ابھی تک پاکستان اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کیساتھ رابطے میں ہیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان امریکہ کو اڈے نہیں دے گا لیکن امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن کے سفارتکار ابھی تک پاکستان سے مایوس نہیں ہوئے اس خبرکے مطابق پاکستان نے کوئی اڈے دینے کیلئے یہ شرط رکھی تھی کہ افغانستان میں کسی بھی جگہ حملے سے پہلے ٹارگٹ کی منظوری پاکستان سے لی جائیگی یہ شرط کیونکہ سی آئی اے کو منظور نہ تھی اسلئے بات نہ بن سکی اس خبر میں یہ بھی لکھا ہے کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز ان ہی گتھیوں کو سلجھانے کیلئے گذشتہ ماہ ایک غیر اعلانیہ دورے پر اسلام آباد گئے جہاں انہوں نے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے انہی امور پر بات چیت کی اسکے علاوہ سیکرٹری آف ڈیفنس Lloyd Austin بھی کئی مرتبہ پاکستان کی عسکری قیادت سے افغانستان میں اگست کے مہینے سے ملٹری آپریشنز کرنے کیلئے سہولتیں حاصل کرنے پر بات چیت کر چکے ہیں پاکستان کے میڈیا نے آجکل امریکہ سے ہوائی اڈوں کے بارے میں ہونیوالے مذاکرات پر چپ سادھ رکھی ہے اسلام آباد میں ایک جمہوری حکومت ہونے کے باوجود اتنے اہم مسئلے پر حزب اختلاف اور عوام کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا صرف وہی خبریں دی جا رہی ہیں جنہیں ضروری اور فائدہ مند سمجھا جاتا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو اڈے مہیا کرنے کے بدلے بڑی پر کشش مراعات دینے کی یقین دہانی کرائی ہے اسلام آباد کے رپورٹر صابر شاکر نے تیرہ جون کے ٹی وی شو میں کہا ہے کہ امریکی پیشکش اتنی فائدہ مند ہے کہ عسکری حکام اسکے بارے میں سوچ بچار کر رہے ہیںکابل حکومت کے بچائو کیلئے امریکی سفارتکار تاجکستان‘ کرغیزستان اور ازبکستان کے حکام سے بھی بات چیت کر رہے ہیں مگر انہیں ابھی تک کامیابی اسلئے حاصل نہیں ہوئی کہ روس نے ان ریاستوں سے دفاعی معاہدے کر رکھے ہیںاور ولادیمیر پیوٹن نے ان ریاستوں کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے امریکہ کی ان سفارتی ناکامیوں کے بارے میں اخبار نے لکھا ہے کہ افغان جنگ کی پیچیدگیوں نے کئی ممالک سے گفت و شنید کو خاصا مشکل بنا دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کی ترغیبات پاکستانی حکام کو راضی کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اسکا پتہ امریکی انخلا کے مکمل ہونے کے بعد ہی چلے گا!!!

Leave A Reply

Your email address will not be published.