پاکستان کی زراعت اور لینڈمافیا!

267

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کا دارومدار زراعت پر ہے جو ملک کا سونا کہلاتا ہے۔ اگر زرعی وسائل کو نفی کر دو تو پاکستان زیرو کے برابر آجاتا ہے۔پچھلے چالیس سالوں سے دیہی آبادیوں کو شہری آبادیوں میں تبدیل کیا جارہا ہے یہ جانتے ہوئے کہ اگر زراعت ختم ہو جائے گی تو پاکستان ایک بھوکا، ننگا ملک رہ جائے گا۔ یہاں آج پسماندہ زراعت کے باوجود ملک میں بے تحاشا گندم، گنا، کپاس اور دوسری اجناس ،پھل، فروٹ پید اہوتے ہیں جو اردگرد ملکوں کے لئے سمگلنگ کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اگر پاکستان میں بھی بھارت کی طرح زراعت کو فروغ دیا جاتا، جاگیرداری نظام ختم کر کے زمین صرف کسانوں، ہاریوں میں بانٹ دی جاتی تو آج پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ریاستوں میں شمار ہوتا مگر ایسا نہ ہوا۔ برطانوی عطا کردہ زمینوں اور جاگیروں کے مالکان کو برقرار رکھا گیا جنہوں نے ضرورت کے مطابق زراعت کی پیداوار کی جس کی بدولت پاکستان ایک زرعی ملک ہوتے ہوئے کھانے پینے کی اشیاء سے محروم ہو چکا ہے کہ وہ ملک جو گندم، گنا، کپاس، دالیں، سبزیاں اور پھل پیدا کرتا ہے اُسے بھارت سے گندم، کپاس، آڑو، افغانستان اور ایران سے ٹماٹر منگوانا پڑرہے ہیں جو ناقابل برداشت اعمال ہیں کہ پاکستان کو دنیا بھر میں کس طرح رسوا کیا جارہا ہے تاہم پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں عسکری اداروں کی رہائشی سکیموں، ڈیفنس سوسائٹیوں کی بھرمار ہے جس کی آڑ میں دوسرے لینڈ مافیائوں نے پورے ملک میں زمینوں پر قبضے کررکھے ہیں جو دیہی زرعی آبادیوں کو شہری آبادیوں میں بدل رہے ہیں جس سے پاکستان کی زراعت دن بدن سکڑ رہی ہے جس کی زد میں لاہور، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، پشاور، کراچی وغیرہ آچکے ہیں جن کے اردگرد زرعی زمینوں پر بنگلے، کوٹھیاں، پلازے تعمیر ہو چکے ہیں۔ وہ لاہور جو اپنی ہریالی میں مشہور تھا جس کے اردگرد لاکھوں ٹن اجناس، پھل، فروٹ پیدا ہوا کرتے تھے وہ آج شہری آبادی کا حصہ بن چکا ہے جس کی رنگ روڈ کی وجہ سے ہزاروں سالوں قدیم شہروں کے آثار قدیمہ ملیا میٹ ہو چکے ہیں۔ ملتان میں ڈیفنس ہائوسنگ سکیم کی خاطر ایک لاکھ آموں کے درخت کاٹ کر پھینک دئیے گئے جو دادوں نے لگائے تھے اب پوتوں نے کھانے تھے۔ روالپنڈی رنگ روڈ کے نام پر اربوں، کھربوں کی کرپشن سامنے آئی ہے جس کے آغاز سے پہلے رسہ گیروں، مافیائوں، وزیروں، اور مشیروں نے سینکڑوں ایکڑ زمینیں خرید لی جو ٹکے بھائو خرید کر رنگ روڈ کی بناوٹ میں سونے بھائو بیچیں گے جس سے لاکھوں ایکڑ زرعی زمین متاثر ہو گی۔ کراچی کا چھوٹا سا ڈیفنس ہائوسنگ اب دیو قامت بن چکا ہے جس سے سمندر خوفزدہ ہو کر بھاگ رہا ہے جس پر ڈیفنس ہائوسنگ سکیم دن بدن کئی گنا بڑھ چکی ہے جس سے لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ڈیفنس ہائوسنگ سکیم کسی عرب ملک سے نہ مل جائے۔ ظاہر ہے جب سمندر خشک ہو جائے گا تو وہ ڈیفنس کا حصہ ہو گا ۔نیوی کا ادارہ بھی ختم ہو جائے گا تو پاکستان کی بحیرہ عرب کی وجہ سے کسی نہ کسی عرب ملک سے سرحد ملے گی جس کی پڑوسن ڈیفنس ہائوسنگ سوسائٹی ہو گی۔ جس طرح لاہور ڈیفنس بھارت کا پڑوسی بن چکا ہے۔کراچی میں ایک اور مافیا وارد ہو چکا ہے جو عسکری ادارے کے نام پر بحریہ ٹائون کہلاتا ہے جس کا مالک ملک ریاض ہے جس نے راولپنڈی ،لاہور کے بعد کراچی میں تباہی مچارکھی ہے جس کو عسکری اداروں کے علاوہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی ہر طرح کی مدد حاصل ہے جو مقامی آبادیوں کو بے آباد کر کے اپنا بحریہ ٹائون بناتا چلا جارہا ہے جن کے خلاف ایک سو سے زیادہ فوجداری اور دیوانی مقدمات درج ہیں جنہوں نے غریبوں، بے بسوں اور بے اختیاروں کی زمینوں پر بزور طاقت قبضے کررکھے ہیں جس پر عدلیہ بھی خاموش ہے حالانکہ کراچی بحریہ ٹائون پر سپریم کورٹ نے 460ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا جس کی ادائیگی میں موجودہ عمران مسلط حکومت پیش پیش ہے کہ جب برطانوی عدالت نے ملک ریاض پر منی لانڈرنگ کے سلسلے میں 90ملین پونڈ کا جرمانہ عائد کیا تو یہ رقم تمام خرچوں کی ادائیگی کے بعد نوے ملین پونڈز حکومت پاکستان کے حوالے کی گئی جس میں آدھی رقم واپس پاکستان سٹیٹ بینک میں جمع کی گئی تھی تاکہ حکومت عام عوام کو یہ رقم دے جن کے پیسوں کو استعمال کر کے منی لانڈرنگ کی گئی تھی لیکن حکومت پاکستان نے یہ رقم عوام پر خرچ کرنے کی بجائے بحریہ ٹائون کے ملک ریاض کو واپس کر دی ہے جو ایک بہت بڑا قومی جرم ہے جو ناقابل معافی ہے۔ بہر کیف پاکستان کی زرعی زمینوں کو سرکاری اور غیر سرکاری عسکری اور غیر عسکری لینڈ مافیا تباہ و برباد کررہے ہیں۔ مقامی کاشتکاروں ،کسانوں اور ہاریوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بیروزگار کیا جارہا ہے۔ ملک کو تاحیات بھوک، ننگ میں مبتلا کیا جارہا ہے جن کے پاس زراعت کے علاوہ دسرا کوئی وسیلہ نہیں ہے جس سے وہ اپنا روزگار پیدا کر پائیں جس سے لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں ہے جب پاکستان خودساختہ فاقوں کا شکار ہو جائے گا جس کے باشندے اپنی کوٹھیوں، بنگلوں، محلوں اور مکانوں میں بنا روٹی مر جائیں گے جن کے پاس زراعت کے علاوہ دوسرا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے جن کی زندگی کا دارومدار زراعت پر ہے۔ بہرحال کراچی بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض جن کو مرکزی اور سندھ حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے جنہوں نے بحریہ ٹائون کے اردگرد کی زمینوں پر بزور طاقت قبضہ کررکھا ہے جو ہزاروں مر بع میل کے علاقے پر محیط ہے انہوں نے مقامی سندھی، بلوچی صدیوں سے آباد باشندوں کو بزور طاقت بے گھر کر دیا ہے جس کی ذمہ دار مرکزی اور سندھ حکومت ہے جو ایک ناقابل برداشت عمل ہے جس کی کھل کر مذمت کرتے ہوئے بحریہ ٹائون کی انتظامیہ کا گھیرائو کرنا چاہیے تاکہ فلسطینیوں کی طرح سندھیوں اور بلوچوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے سے صہیونی طرز کی طاقتوں کو روکا جائے جو مقامی لوگوں کو ریڈانڈین بنارہی ہیں۔