نئی بیماری خوفناک ہے لیکن آگاہی کیسے دیں؟

217

ٹی وی کے تجزیہ کارعمران ریاض عموماً بڑے سلجھے الفاظ میں اور زیادہ نمک مرچ لگائے بغیر اپنی رپورٹ دیا کرتے ہیں، لیکن ابھی کچھ دن پہلے، انہوں نے انڈیا میں ایک اور خوفناک بیماری کے پھیلنے کی سنسنی خیز خبر سنائی اور ایسے کہ آدمی خوفزدہ ہو جائے۔ عمران نے بتایا کہ انڈیا میں ابھی کووڈ سے سخت جنگ جاری ہے کہ ایک اور بیماری جسے کالا فنگس (کھمب) کا نام دیا جا سکتا ہے جو فنگس سے پھیلتی ہے اور اس کے مریض کا ہلاک ہو جانے کا چانس کووڈ سے کہیں زیادہ ہے۔یعنی54فیصد مریض نہیں بچتے۔وہ پھیل رہی ہے۔ اس کا صرف ایک علاج ہے کہ مریض کی آنکھیں نکال دی جائیں۔انہوں نے پھر بتایا کہ کشمیر میں جنگ آزادی کو دبانے کے لیے بھارتی حکومت نے خاص چھرے والے کارتوس منگوائے جن کے استعمال سے کشمیریوں کی آنکھیں جاتی رہتی تھیں۔ اللہ نے شاید اس کا بدلہ ان بھیڑیوں سے لیا ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ عمران ریاض نے یہ خبر بی بی سی سے لی۔ اسی کی 19مئی 2021کی ایک رپورٹ ہے کہ ابھی جب کہ انڈیا کووڈ19سے نبرد آزما ہے، اور اسے ایک اور خطرناک بیماری نے آ لیا ہے جو انتہائی برُی اورغیر معمولی فنگل، چھوت کی بیماری ہے جو انڈیا کودوہری مصیبت سے دو چار کر رہی ہے۔اس بیماری کا نام ہے mucormycosis۔ جسے کالا فنگس بھی کہتے ہیں، اسے کووڈ کے مریضوں میں اور وہ جو اس بیماری سے بچ گئے تھے، ان میںپایا گیا ہے۔ اس سال مارچ تک دنیا میں 41 مریض پائے گئے ہیں جن میں سے 70 فیصد انڈیا میں ہیں۔ اب تک ان کی تعداد اور بڑھ چکی ہو گی۔
یہ mucormycosis بیماری ہے کیا؟ اس بیماری کا منبہ کھمب ہوتی ہے جو ایسی زمین پر ہوتی ہے جہاں سبزیاں اور پھل گل سڑ رہے ہوں۔ یہ بیماری ایسے لوگوں کو لگتی ہے جن کی قوت مدافعت کمزور پڑ چکی ہو، یا کھال خراب ہو گئی ہو۔ کچھ ایسی دوائیاں بھی ہیں جو قوت مدافعت کو کم کرتی ہیں۔ اور جلد کی خرابی کسی حادثہ یا سرجری سے ہو سکتی ہے۔یہ بیماری انسانوں کو تین طریقوں سے لگ سکتی ہے: کہ بیماری کے جراثیم کو سانس سے جسم میں لیجایا جائے، یا خوراک کے ذریعے اور یا پھر جسم پر لگے زخموں سے۔روز مرہ کی زندگی میں ہم ہزاروں جرثومے اپنی سانس کے ذریعے اپنے اندر لے جاتے ہیں مگر ہمارے اندر کی قوت مدافعت ان کو اثر انداز نہیں ہونے دیتی۔ لیکن وہ لوگ جو کووڈ 19 سے نبرد آزما ہو رہے ہوتے ہیں، ان پر اس نئی بیماری کے جراثیم آسانی سے داخل ہو جاتے ہیں۔اور ان کی سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں میں چلے جاتے ہیں۔ناک ان کا پہلا مسکن ہوتا ہے ۔ وہاں سے وہ آنکھوں میں جاتے ہیں اور اندھا کر دیتے ہیں۔ یا دماغ میں جا کر سر درد یا بے ہوش کر سکتے ہیں۔یہ جلد پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
سوائے انڈیا کے اور ممالک میں اس بیماری کو کم ہی دیکھا گیا ہے۔اس کی ایک وجہ ہے کہ یہ کووڈ سے پہلے بھی یہ بیماری انڈیا میں عام تھی۔ اور ایک لاکھ کی آبادی میں14 کیس ہوتے تھے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق 94فیصد متاثرہ افراد ذیابیطس کے مریض تھے۔جب ذیابیطس قابو سے باہر ہو جائے تو اس بیماری سے متاثر ہو سکتے ہیں ۔چونکہ ذیابیطس کے مریضوں کو کووڈ بھی آسانی سے ہو جاتا ہے، اور ان کو جو دوائی دی جاتی ہے اس سے انہیں فنگس کی بیماری بھی آسانی سے ہو جاتی ہے۔جب ماحول میں غلاظت ہو تو یہ بیماری پھلتی پھولتی ہے۔یہ ہی حالات انڈیا میں اس بیماری کے پھیلنے کا سبب معلوم ہوتے ہیں۔بد قسمتی سے نصف سے زیادہ مریض ہلاک ہو جاتے ہیں اور جو بچ بھی جائیں تو زندگی بھر کے لیے مریض بن جاتے ہیں۔اگر مرض کی تشخیص جلدی ہو جائے تو کچھ ہو سکتا ہے لیکن انڈیا کے حالات میں ایسا ہو نا مشکل ہے۔بیماری کا علاج آپریشن ہے جس سے متاثرہ اعضا ، جیسے آنکھیں،ان کو نکالنا پڑتا ہے۔
پاکستانیوں کو اس بیماری سے بچنے کے لیے پہلے ہی حفاظتی تدابیر کر لینی چاہیئں۔شوگر کے مریضوں کو اپنی شوگر پر قابو پانا چاہیے۔ او ر ماحول کی صفائی کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے۔عمران ریاض نے خبر بنانے کے جنون میں، اس خبر کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جو اس راقم کی نظر میں غیر ذمہ وارانہ فعل تھا۔ ابھی تو بھارت میں بھی یہ بیماری اتنے کم لوگوں کو متاثر کر رہی ہے کہ اس کی خبر تک اخباروں میں نہیں۔ غالباً یہ بیماری عا لمی ادارہ صحت کے ریڈار پر بھی نہیں، جو غالباً اس لیے کہ یہ ایسی بیماری نہیں کہ جس کی اطلاع ان کو دینا ضروری ہو، جیسے کووڈ19۱، پولیو، ہیضہ، اور دیگر متعدی بیماریاں۔ یا جیسے افریقہ میں ییلو فیور، وغیرہ۔
ذرائع ابلاغ پر تحقیق بتاتی ہے کہ بہت زیادہ خوفزدہ کرنے والے پیغامات سننے والوں کو منجمد کر دیتے ہیں اور وہ ایسے پیغامات کو رد کر دیتے ہیں۔ اس لیے بجائے خوف پھیلانے کے بہتر ہے کہ ایسی خبر اس طریقے سی دی جائے کہ مقصد مطلع کرنا ہو نا کہ سنسنی پھیلانا۔
پاکستان میں اکثر عوام تعلیم یافتہ نہیں اور جو پڑھے لکھے ہیں وہ بھی صحت سے متعلق معلومات کو اہمیت نہیں دیتے اور اگر ان کو ایسی معلومات دی بھی جائیں تو انہیں غیر متعلق سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔کیونکہ زیادہ لوگ جب تک خود اپنی آنکھوں سے کسی بیمار اور اس کی حالت کو نہیں دیکھتے، وہ اس بیماری کی خبر سے متاثر نہیں ہوتے۔اب آپ دیکھیں کے جب حکومت نے ملک میں لاک ڈائون لگایا تو اس کے خلاف بہت زیادہ چیخ پکار نہیں ہوئی اور اس کی وجہ حکومت کی آگاہی کی مہم سے زیادہ وہ گھر گھر سے اٹھتے جنازے ہیں جو عوام کو کووڈ 19کی سنگینی کا یقینی ثبوت دے رہے ہیں۔
پاکستان میں ذرائع ابلاغ میں رحجان ہے کہ وہ عوام میں صحت کے مختلف مسائل پر معلومات پہنچاتے رہتے ہیں۔ ٹی وی چینلز، ریڈیو ، اخبارات اور رسالوں میں معلوماتی پیغام دئے جاتے ہیں۔ جو تھوڑے سے لوگوں کو فائدہ دیتے ہیں۔ اس لیے کہ ان ذرائع کی پہنچ بہت محدود ہوتی ہے۔ مثلاً ٹی وی پر جب ایسا پروگرام دکھایا جا رہا ہو تو اس وقت کتنے لوگ اس کو دیکھ رہے ہوتے ہیں؟ یہ نشریات کے وقت پر منحصر ہے۔ کیونکہ اگر ایسے وقت میں دکھایا جائے جب لوگ کام کاج میں مصروف ہیں تو اس کا فائدہ بھی کم ہی ہو گا۔ ٹی وی کے مقابلے میں ایسے پیغامات دینے کے لیے ریڈیو کی افادیت اور بھی کم ہے۔ اکثر لوگ کار میں ریڈیو سنتے ہیں اور وہ بھی زیادہ تر موسیقی کے پروگرام یا خبریں۔اگر انکے درمیان میں کوئی مختصر پیغام دے دیا جائے تو ممکن ہو گا کہ کوئی سن لے۔اخبار اور رسالے زیادہ دیر تک قاری کی نظروں میں رہ سکتے ہیں، لیکن اس کی افادیت بھی اس بات پر منحصر ہے کہ پیغام کو کیسے پیش کیا گیا؟ اگر تحریر کے ساتھ کوئی دلچسپ تصویر بھی ہو تو وہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کر تی ہے۔ دوسرے یہ کہ کوئی ایسے الفاظ جو قاری میں پڑھنے اورمزید جاننے کا شوق پیدا کریں۔
پاکستان میں پڑھنے کا رحجان دن بدن کم ہوتا جارہا ہے۔ لوگ اخبار اور رسالے یا تصویروں کے لیے دیکھتے ہیں اور یا اشتہاروں کے لیے۔جو نوجوان طبقہ ہے، اسے اپنے موبائل سے ہی ساری ضرورت کا مواد مل جاتا ہے جس میں صحت سے متعلق اگر کوئی ہلکی پھلکی وڈیو ہو تو وہ شاید دیکھ لیں۔ورنہ موبائل کے ناظرین کے سامنے اتنا زیادہ تفریحی مواد ہوتا ہے کہ اس میں معلوماتی ، خصوصاً صحت کے بارے میں، کوئی مواد دیکھے جانے کا امکان تقریباً صفر ہی ہو گا۔
اب رہ گئے چو راہوں پر بڑے بڑے بل بورڈ۔ ان کو بلا شبہ ہزاروں لوگ دیکھتے ہیں اور کئی بار۔ لیکن ان کی افادیت بھی محدود ہے، کیونکہ ان پر بہت زیادہ پیغامات نہیں دیئے جا سکتے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ تین سے زیادہ پیغام دینا ناظرین کو اکتا دیتا ہے اور وہ ان کو یاد بھی نہیںرکھ سکتے۔ اس کے علاوہ یہ کافی مہنگاذریعہ ہے۔حکومت اتنا بجٹ بھی نہیں دے سکتی کہ ہر گلی محلہ اور ہر شہر کے مصروف چوراہوں پر بل بورڈ لگا دے۔ ان بل بورڈ کی افادیت اس لیے بھی کم ہوتی ہے کہ نصف آبادی تو ان پر لکھے کو پڑھ بھی نہیں سکتی۔
پیغام پہنچانا ہی کافی نہیں، اس کو ایسے الفاظ میں میں بیان کرنا جو قابل فہم ہوں، بھی بہت ضروری ہے۔ اگر لکھا ہو:’’ کووڈ۔۱۹ ایک موذی بیماری ہے۔ اس سے حفاظت کے لیے ماسک پہنیں۔ اور چھ فٹ کا سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔چھینکتے یا کھانستے وقت منہ کو اپنے بازو سے ڈھکیں۔ ‘‘ اب یہ چار پیغام ہو گئے۔ لیکن اگر پڑھنے والے کو یہ نہیں پتہ کہ ’موذی‘ یا ’حفاظتـ‘ ’ماسک‘ اور ’سماجی‘ فاصلہ سے کیا مراد ہے تو پیغام بیکا ر ہو گیا۔اسلئے ضروری ہے کہ ایسے پیغامات میں ایسی زبان اور الفاظ استعمال کیے جائیں جو عوام آسانی سے سمجھ سکیں۔ اگر پیغام عوام کی علاقائی زبان میں ہو تو امکان ہے کہ پڑھنے والے سمجھ کر پڑہیں گے۔ اگر الفاظ کے ساتھ تصویر بھی بنی ہو تو پیغام اور بھی واضح ہو سکتا ہے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں تعلیم کم ہے، اور جو تعلیم یافتہ ہیں وہ بھی پڑھنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے، ان کو بذریعہ وڈیو پیغامات دئے جائیں اور وہ بھی ہلکے پھلکے انداز میں۔ تا کہ ناظریں تھوڑا سا مسکرائیں بھی اور بات بھی سمجھ آ جائے ۔ اس کے علاوہ کسی بھی مہنگے ذریعے کو استعمال کرنے سے پہلے اشتہار کو اپنے ہدف ناظرین کو دکھا کر تسلی کر لیں کہ وہ ان کو سمجھ آ رہا ہے اور وہ اس کا مطلب سمجھتے ہیں۔یہ ذرائع ابلاغ نہ صرف مہنگے ہیں بلکہ یک طرفہ بھی۔ ان کے ذریعے پیغام لینے والوں کے پاس ایسا موقع نہیں ہوتا کہ اگر ان کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تو وہ سوال کر سکیں۔ اس لیے سب سے موثر طریقہ دو بدو گفتگو ہے۔ اگر ہر محلہ اور بستی کے سر کردہ اور سماجی قائدین کو بٹھا کر تفصیل سے آگاہی دے دی جائے، تو اس سے بہتر صحیح معلومات پہنچانے کا کوئی اور طریقہ نہیں۔ ایسی صورت میں بھی وڈیو اور تصاویر کے استعمال سے اپنے ضروری پیغامات کو واضح کرنا اشد ضروری ہوگا۔