پاکستان کی قومی اسمبلی کا منظر !گالیوں کا بازار سجا ہے دیکھو!

265

ماں، بہن کی برہنہ گالیاں، ہاتھوں کی مدد سے کئے گئے ننگے اشارے، ایک دوسرے کی کتابوں کے ذریعے مار کٹائی، یہ پاکستان کی قومی اسمبلی کا منظر ہے!
’’پاکستانی لوگ کوڑا کرکٹ ہیں‘‘۔ یہ وہ جملہ ہے جسے ہم نے انگلش سے اردو میں ترجمہ کیا ہے جسے ہمیں گزشتہ ہفتے اپنے بچوں سے سننا پڑا۔ (Pakistanis are trashy people)۔ یہ جملہ ہمیں اس وقت سننا پڑا جب ہم لائونج میں بیٹھے اے آر وائی پر قومی اسمبلی کے مناظر دیکھ رہے تھے ۔اراکین اسمبلی ایک دوسرے پر بجٹ کی کتابیں ماررہے تھے، ٹی وی چینل کی وجہ سے بیپ لگا کر غلیظ گالیوں کو چھپایا جارہا تھا اور وحشیوں کی طرح سے ایک دوسرے پر لپک رہے تھے۔ امریکہ میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے والے بچوں کو ہم بڑے فخر سے پاکستانی ثقافت اور اقدار کے بارے میں بتاتے ہیں اور ہر ہر موقع پر انہیں مثال دیتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ پاکستانی اقدار امریکی اقدار کے مقابلے میں نہ صرف مختلف ہیں بلکہ بہتر ہیں۔ جب تک وہ بچے تھے تو وہ باتیں سنتے بھی تھے اور عمل بھی کرتے تھے مگر اب سوشل میڈیا کے دور میں یہ یکطرفہ وعظ نہیں چلتا۔ قومی اسمبلی کے وہ مناظر جنہیں بیپ لگا لگا کر چھپایا گیا تھا نشریات کے لئے، بچوں نے انہیں سوشل میڈیا سے نکال کر ننگی گالیوں کے ساتھ دیکھا۔ وہ تمام غلیط اشارے جسے ٹی وی چینلز نے نشر نہیں کیا تھا وہ بھی سب کچھ سوشل میڈیا پر موجود ہے۔
جب بچے یہ پوچھ رہے تھے کہ نیشنل اسمبلی تو کسی ملک کاآئینہ ہوتا ہے اور اس میں ملک بھر کی کریم موجود ہوتی ہے تو یہ کیسی قومی اسمبلی ہے؟ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں انہیں دینے کے لئے کوئی جواب یا تاویل نہ بچی تھی۔ حق تو یہ ہے گزشتہ ہفتے کے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے گھٹیا اور رذیل مناظر دیکھنے کے بعد ہمارے پاس بچوں کے لئے کسی بھی قسم کی پاکستانی اور اسلامی اخلاقیات پیش کرنے کا جواز نہیں رہ جاتا۔ ان حرکتوں کو انفرادی یا جاہل انسان کی سرگرمیاں قرار دے کر بھی جواز نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ مقدس ایوانوں کے یہ اراکین لاکھوں ووٹرز کے ووٹوں سے منتخب ہو کر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں آئے ہیں۔ کیا یہ واقعی پاکستانی قوم کے ترجمان ہیں؟
ہمارے سیاستدانوں کے یہ رویے کچھ نئے نہیں ہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے ہم یہ ہی کھیل تماشا دیکھتے آئے ہیں خاص طور پر اخلاق سے گری ہوئی گھٹیا حرکات اور سازشیں نواز لیگ کا وطیرہ اور خاصہ رہی ہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ نواز لیگ کے سابق وزیر دفاع خرم دستگیر کے والد نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو کتیا سے تشبیہہ دی تھی۔ اسی طرح سے انتخابات کے زمانے میں جب نواز لیگ حکومت میں تھی اور ان کا پیپلز پارٹی کیساتھ سخت مقابلہ تھا تو میاں صاحبان کی منظوری کے ساتھ بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کی برہنہ تصاویر یعنی ان کا چہرہ کسی اور عورت کے الف برہنہ جسم کے ساتھ جسپاں کر کے چھپوائی گئیں اور پھر انہیں سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے پنجاب کے گائوں دیہاتوں میں عوام الناس کے دیکھنے کیلئے گرائی گئیں تاکہ وہ پیپلز پارٹی سے متنفر ہو جائیں۔ پھر اس پچھلے الیکشن کے بعد حلف اٹھانے کے بعد جب پہلی مرتبہ وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی میں تقریر کرنے آئے تو نواز لیگ کے اراکین نے شور شرابہ کر کے ان کی تقریر کو سننے نہ دیا۔ اس دن سے لے کر آج تک ان کا شور شرابہ جاری ہے اور خیال ہے کہ اگلے سات برسوں تک جب تک یہ حکومت رہے گی ان کی ہلڑ بازی جاری رہے گی۔ تبدیلی اب یہ آئی ہے کہ تین سالوں تک ان اراکینِ نواز شریف کے سدھرنے کا انتظار کرنے کے بعد تحریک انصاف کے اراکین نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ بھی حزب اختلاف اور اپوزیشن کی اسمبلی میں تقریر کے دوران اسی طرح سے شور شرابہ کریں گے۔ لہٰذا جب انہوں نے شوکت ترین کی بجٹ تقریر کے دوران مسلسل ہلڑ بازی جاری رکھی اور ایوان مچھلی بازار بنائے رکھا تو اس کے بعد جب حزب اختلاف کے لیڈر(مجرم) میاں شہباز شریف تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو ایوان اقتدار کے ممبران نے ان کی تقریر کو سننے نہ دیا اور ہلڑ بازی جاری رکھی یعنی اگر تم ہمیں نہ کھیلنے دو گے تو ہم تمہیں بھی نہ کھیلنے دیں گے اور اس کے نتیجے میں یہ ساری گالم گلوچ ،مچھلی بازار اور مارا ماری کے مناظر ساری دنیا نے دیکھے تو بچوں کاتجزیہ تو درست ثابت ہوا نہ کہ’’ یہ لوگ کوڑا کرکٹ ہی ہیں‘‘۔