مومنہ شناسی

222

امریکی شاعرہ مایا اینجلو نے کیا خوب کہا تھا کہ ’’خود میں کسی ان کہی داستاں کو محفوظ رکھنے سے بڑھ کر کوئی کرب نہیں‘‘۔ آج صوفی مومنہ کی یاد نے مجھے غیر معمولی پن کی حالت میں لے جا کر قلم کشائی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ سلیم احمد(مرحوم) کا یہ شعر میری اس کیفیت کو واضح کر سکتا ہے:۔
آج میں منزل نہیں ہوں، راہ کا پھیلائوں ہوں
آج ہے میرا سفر اندر سے باہر کی طرف!
ایسی کیفیت محض اس لئے نہیں کہ آج مومنہ کی شہادت کا دن ہے بلکہ سارا سال صوفی مومنہ سے باتیں کرنے اور سیکھنے کے بعد جب 10جون کا دن آتا ہے حادثے کی آواز کلیجہ چیر دیتی ہے۔ زخم ہرا ہونے لگتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا واقعہ مرہم بن جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کو اپنے والد حضرت عباسؓ سے بہت محبت تھی۔ ان کے انتقال پر یہ غم سے بے حال ہو گئے۔ ایسے میں ایک بدو آیا اور انہیں گلے لگا کر تحکم کے لہجے میں بولا ’’اے عبداللہ! عباس کو تم سے بہتر رفیق مل گیا( یعنی اللہ) اور تمہیں عباس سے بڑی نعمت حاصل ہو گئی(یعنی صبر)۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے اتنی پرتاثیر تعزیت کسی نے نہیں کی۔
دلیل بھی حسنِ اظہار کی محتاج ہوتی ہے اور حسنِ اظہار کہتے ہیں کہ بات ذہن کی گرفت میں آنے کی بجائے ذہن کو اپنی گرفت میں لے لے۔ مومنہ کی تحریروں میں مخفی ذہنی افتاد اور معنویت نے مجھے علم کی نئی جہتوں سے متعارف کروایا اور بتایا کہ کلام کو اس کے ظاہر سے ہٹا دینا کلام کا انکار ہے لیکن کلام کو اس کے ظاہر تک محدود کر دینا متکلم کاانکار ہے۔ یہاں میں شاید کچھ مشکل بات کہنے کی جسارت کروں گا کیونکہ یہ مومنہ کی زبان تھی اور مومنہ کی بات کا فہم مومنہ کی فہم و فراست ایسا ہی ہونا چاہیے۔ یہاں یہ بات کرنا بھی نہایت موزوںہے کہ ذہین انسان میں علم کے حصول کے لئے اس کا فہم ہی واحد ذریعہ نہیں بلکہ یہ صرف ایک چینل ہے، ذہن میں اور اس کے باہر فہم کے ساتھ ساتھ بے شماور دوسرے ذرائع بھی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ذہن کی کئی آنکھیں ہیں مگر افسوس ہم نے ایک آنکھ کے سوا باقی تمام آنکھوں میں تیزاب ڈال کر انہیں اندھا کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ آسان بات ذہن کی کسی ضرورت کو پورا نہیں کرتی جبکہ مشکل بات ذہن کی کسی بڑی ضرورت کو پورا کر دیتی ہے۔ صوفی مومنہ کا ایمان تھا کہ حقیقت حوالہ نہ بنے تو صورت کا علم جہل ہے اور صورت حوالہ نہ بنے تو حقیقت کا علم وہم ہے۔ ہر کوئی مومنہ جیسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ یہ یکتائی کا کیا تصور ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جنہوں نے صوفی مومنہ کو دیکھا، اس سے ملے، اس کی تحریروں میں اس کا عکس دیکھا وہ جان گئے کہ مومنہ کی صحبت کن افراد پر مشتمل تھی، کون لوگ مومنہ کی صحبت میں بیٹھا کرتے تھے، سقراط، افلاطون، امام غزالیؒ، حضرت فرید الدین عطاء، حکیم سنائی، مولانا رومؒ، حافظ، ڈیکارٹ، کانٹ، ڈلوزے، ہائیڈیگر، غالب، میر اور اقبالؒ ایسے عظیم لوگ جن سے مومنہ ہر وقت کسب فیض لیتی۔ ایسی محفل میں کسی سطح کی گفتگو ہوتی ہو گی اور ایسے سوالات جو درحقیقت سوالات تھے جیسے کہ جسم و روح کے فلسفے پر بحث،علم و اخلاق پہ بات، حقیقت و مجاز پر مباحث، جبر و قدر پہ بات وغیرہ تو کیا ہماری محفلیں ایسی ہیں؟ تو پھر تقابل کس بات کا یعنی جب بات دلیل کی بجائے ضد سے شروع کیا جائے گی تو نتیجہ ہماری موجودہ زبوں حالی ہی کی صورت میں سامنے آئے گا۔
صوفی مومنہ دیدہ ور تھی جس کی بصارت نے مجھے بینائی بخشی۔ مومنہ نے محض آنکھوں پر کبھی بھروسہ نہیں کیا تھا کہ بس اندھے ہی آنکھوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور غور و فکر کرنے والوں کے لئے بعض مقامات دید ایسے ہوتے ہیں کہ جہاں دل بھی پکار اٹھتا ہے کہ کاش آنکھیں بھی دیکھنے والی ہوتیں۔ صوفی مومنہ کے بقول انسان کو تخلیقی و تحقیقی ذہن کے ساتھ ساتھ گہرے احساسات سے بھی لبریز ہونا چاہیے کیونکہ انسان بڑے ذہن کے بغیر تو رہ سکتا ہے گہرے احساسات کے بغیر نہیں۔ سچا وہ ہے جسے دیکھ کر سچ سے محبت ہو جائے اور مومنہ اسمِ بامسمیٰ تھی اپنی جوانی ہی میں اس نے اپنے وجود کو اس مادی دنیا سے بلند کر لیا۔ ایسی جوانی ہی مبارک ہوتی ہے۔اقوام کو ایسی بیٹیوں کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں جگائے رکھیں۔ صوفی مومنہ ہماری نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہے مگر افسوس کہ جن ہاتھوں میں ہمارے ملک کی بھاگ دوڑ جانی ہے وہ تو محض کنگھی اور موبائل فون کا بوجھ اٹھانے کے سوا کوئی بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ مومنہ کی زندگی روحانیت کے نور سے روشن ہے جس سے ہمیں پہلے خود کو روشن کرنا ہو گا کیونکہ دوسروں کو بدلنے کا سفر خود سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے لئے ہمیں باقی کاوشوں کے ساتھ ساتھ صوفی مومنہ کی پر اثر شخصیت و کردار اور ذوق و شوق کو نوجوان نسل کے سامنے لانا ہو گا کیونکہ آدمی کی آخری پہچان یہی ہے کہ اس کا ذوق کیا ہے اور اس کا محبوب کون ہے۔ مومنہ کی تحریریں مومنہ کا عکس ہیں لیکن صوفی مومنہ ان سے بھی ماوا ہے۔ مومنہ نے اس فانی دنیا میں اپنے قلیل وقت میں بھی مرتے دم تک خود کو زندہ رہنے کے قابل رکھا اور جان دینے کے لائق بھی کیونکہ جو آدمی مرنے کے لائق نہیں ہے اس کی زندگی کی سطح انسانی نہیں ہو سکتی۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے مومنہ کی تحریروں کی تہہ میں اترنے کا موقع ملا اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ہمیں ذہن و قلب کی زندگی میں جن تاریکیوں کی یلغار کا بہت بے بسی کے ساتھ سامنا ہے ان تاریکیوں کی تمام قسموں کو ہم مومنہ سے حرارت اور روشنی لے کر دور کر سکتے ہیں۔ صوفی مومنہ کی حسین شخصیت و کردار کو لفظوں میں سمونا ممکن نہیں اور پھر حسن تو کہتے ہی اسے ہیں کہ جس کو دیکھنے کے لئے سامان دید تھوڑا پڑ جائے۔
آخر میں آپ سب سے میری یہ درخواست ہے کہ آپ جب بھی مومنہ کی قبر پر جائیں تو انہیں مولانا روم کے یہ الفاظ میری طرف سے ضرور پہنچائیے گا ( ویسے روحانی طور پر یہ تحریر ان تک پہنچ گئی ہو گی)
’’پتا ہے یہاں سے بہت دور صحیح اور غلط کے اس پار ایک میدان ہے، میں وہاں ملوں گا تجھے‘‘۔