ہماری عدالتیں ’’جو مزاجِ یار میں آئے‘‘!!

255

ایک چھوٹے سے کتے نے ایک گرانڈیل گینڈے کو بھونک بھونک کر ایسا ڈرایا کہ بیچارا گینڈا ڈر گیا اور دوڑتا چلا گیا۔ ایک صاحب جو کہ یہ تماشا دیکھ رہے تھے انہوں نے دوسرے دن کتے کا انٹرویو شروع کر دیا۔ کل تم نے کمال کر دیا،گینڈے کو خائف کر دیا۔ دوڑا دیا۔ کتا بڑے اطمینان سے بولا (I Was on Drug )میں نشے میں تھا۔ تو ہو سکتا اس قسم کا حادثہ حامد میر اور جاوید لطیف کے ساتھ ہوا ہو۔ ویسے بھی ثناء اللہ صاحب سے جو کہ منشیات کے ڈان کہلاتے ہیں اپنے بھائی بندوں کو مفت نشہ سپلائی کرتے ہوں گے تو حامد میر اور جاویدلطیف بھی عدالت میں اپنی صفائی میں شاید یہ کہہ دیں کہ معاف کرو جی میں نشے میں تھا کیونکہ صحیح دماغ کا کوئی پاکستانی تو اپنے اتنے معتبر اداروں کے لئے وہ جملے استعمال نہیں کر سکتا۔ ان کا مکمل علاج ہونا چاہیے لیکن ہماری عدالتیں ’’جو مزاج یار میں آئے‘‘ خصوصاً لاہور ہائیکورٹ جہاں اب دنیا کے سنگین جرائم میں ملوث مجرم اپنا کیس اس کورٹ میں داخل کرانے کے متمنی ہیں۔ لیجئے جاویدلطیف کی بھی ضمانت ہو گئی۔ دو لاکھ زر ضمانت پر اب سب چارجز ختم، معاملہ رفع دفعہ زندگی بھر کی ضمانت مل گئی۔
ایک فوجی ریٹائرڈ (افسر جن کے والد صاحب بھی فوجی تھے) اور انہوں نے اپنے بیٹے کو فوج میں بھیجا بیٹاشہید ہوا تو باپ نے پوچھا میرے بیٹے نے پیٹھ پر گولی کھائی ہے یا سینے پر جواب ملا ’’سر اس نے سینے پر 22گولیاں کھائیں ہیں‘‘۔ انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا اس کے بعد موصوف نے اپنے گھر والوں کو بھی آنسو بہانے سے منع کر دیا۔ پھر انہوں نے بعد میں اپنے دوسرے بیٹے کو بھی فوج میں بھیج دیا۔
ایک طرف تو ہمارے فوجی زمین کے ایک ایک انچ کے لئے اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں دوسری طرف لٹیرے، ڈاکو، چور، بے ایمان فوج کو برابھلا کہتے ہیں۔ ان کے منہ میں خاک، یہ محب وطن پاکستانیوں کا دل دکھاتے ہیں۔ انہیں تڑپاتے ہیں۔ دل تو چاہتا ہے ان کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کر کے لاش عبرت کے لئے سربازار ٹانگ دی جائے تاکہ پھر کسی کی جرأت نہ ہو کہ اس مملکت خداداد کے رکھوالوں کے لئے اس طرح کی زبان استعمال کریں۔ ان بے غیرتوں کو شرم بھی نہیں آتی اتنا کچھ لوٹ مار کر کے اس ملک کا نقصان کیا ہے۔ اب تو اس معصوم کی خطائیں بخش دو جس نے تمہیں زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دیا۔ تم لوگ دائرۂ اسلام سے بھی اپنے آپ کو خارج سمجھو کیونکہ خداوند نے اپنی زمین سے محبت کا حکم فرمایا ہے۔اللہ کی زمین پر فتنہ و فساد پھیلانے والے کو بھی سخت سزا ملے گی۔
ایک فسادی کا شناختی کارڈکچھ ایسا ہے
نام:مولانا فضل الرحمن
پیشہ: دین فروشی، ملک سے غداری
مشغلہ:فساد فی الارض
پسندیدہ غذا:ہر طرح کا حرام مال کھانا
پسندیدہ مشروب:ڈیزل
نصب العین:وزارت اور کرسی(جو کہ خواب میں بھی نہیں ملے گی)
یہ ملافسادی جو بھی اسے پیسہ دے اس کی مہم چلانے کھڑا ہو جاتا ہے۔ اسے تو مولانا کہنا بھی گناہ ہے۔ یہ اب تک اپنے کردار، گفتار سے اپنے آپ کو مسلمان بھی ثابت نہ کر سکا تو مولانا کہاں سے ہو گیا۔ یہ خود ساختہ فراڈی مولوی ہے اور کچھ نہیں بس اپنا حلیہ بنا کر باہر سے پیسہ وصول کرتا رہا۔ بے شمار مکتب کھول لئے۔ غریب اور یتیم بچوں کی فوج تیار کر لی اور جس کو فساد کروانے کی ضرورت پیش آتی ہے وہ مولانا سے رجوع کرتا ہے اور یہ ان کے حسب منشا کام کرتا ہے۔ فرقہ وارانہ فساد پھیلانے ہو، جھگڑاکروانا ہو یہ مولوی پیش پیش ہوتا ہے۔ اس گھپلے میں اس نے نواز شریف کو فرار کروا دیا لیکن اب اس کے ذہن میں یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ کچھ لوگ اس کے لئے نہیں بلکہ اپنے مفاد کی خاطر اسے استعمال کرتے ہیں۔ معاشرے سے اگر اس قسم کے عناصر کی بیخ کنی نہ کی جائے گی تو یہ فتنہ و فساد کبھی ملک سے ختم نہیں ہو گا سمجھ میں نہیں آتا کہ انصاف کی گھنٹی کس جگہ پر ہلائی جائے۔؟
کینیڈا کے شہر لندن میں پیش آنے والا حادثہ جس میں چار مسلمانوں کی جانیں تعصبات کی نذر ہو گئیں۔ایک بیس سالہ لڑکے نے اپنے ٹرک سے ان چاروں کو واکنگ ٹریک پر کچل دیا۔ کیوں؟ آخرکیوں؟ کیا قصور تھا ان کا؟ صرف یہی نہ کہ وہ مسلمان تھے۔
یہ اسلامو فوبیا کی صدا لگانے والے اس بات پر بھی غور کریں کہ یہ نفرت آخر کس وجہ سے پرورش پائی۔ کوئی بھی حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔ انسانی ذہن میں اس کی پرورش ہوتی رہتی ہے۔
نفرت کا یہ لاوا ذہن میں کیوں پکتا رہتا ہے ان وجوہات پر غور کرنا چاہیے، یہ شور بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوا کان لے گیا، کوے کے پیچھے دوڑنے کی بجائے کان کو چیک کر لیا جائے۔ اس طرح پہلے ان حادثات کی وجوہات پر غور کرنا چاہیے جس سے انسان اس حد تک غصے میں بھر جاتا ہے کہ انسانوں کی جان لے لیتا ہے۔ انسان کے ذہن میں نفرت کی بھٹی کا پتہ لگا کر اُسے ختم کرنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے اس انسان کو خود بھی اتنا ادراک نہ ہو کہ وہ یہ سب کیوں کررہا ہے؟۔
کسی بھی غلط کام یا جرم کے پیچھے انسان کی منفی سوچ ہوتی ہے جس کا لاوا پکتا رہتا ہے اور ایک دن ابل پڑتا ہے۔ یہ لوگ جو اسلام کے خلاف اس قسم کے اقدامات کرتے ہیں یہ ذہنی مریض ہیں۔ ان کا نفسیاتی علاج ہونا چاہیے۔
آخر میں لعنت ہے ان مسلمانوں پر جو اپنا کلچر چھوڑ کر اس کلچر کو زبان کے ساتھ اپنا لیتے ہیں۔ عورتیں فخریہ مغربی نیم عریاں لباس زیب تن کرنے میں فخر سمجھتی ہیں۔ انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کی انا اور خودداری کا جنازہ نکل گیا ہے۔ مائوں پر بھاری ذمہ داری ہے وہ اپنے بچوں کی پرورش اپنے کلچر کے حساب سے کریں۔ اپنی زبان پڑھائیں، لکھائیں اور سمجھائیں۔