یورپی یونین کے نمائندے کو افغانستان میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ

291

افغانستان کے لیے یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی ٹومس نِکلاسَن نے افغانستان میں کشیدگی میں اضافے کا انتباہ دیتے ہوئے فریقین کے درمیان دوحا مذاکرات میں جلد پیشرفت کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔دورہ اسلام آباد کے اختتام پر ڈان سے بات کرتے ہوئے ٹومس نکلاسن نے کہا کہ ‘آنے والے چند ہفتوں اور مہینوں میں ہم بدقسمتی سے کشیدگی میں اضافہ دیکھ سکتے ہیں۔واضح رہے کہ افغانستان میں یکم سے امریکی افواج کے اخلا کے آغاز کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان دوحا میں مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور گزشتہ سال ستمبر میں مذاکرات کے آغاز سے بعد سے دونوں فریقین نے مذاکرات میں معمولی پیشرفت کی ہے۔اپریل میں امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا رواں سال 11 ستمبر تک مکمل کرنے کے اعلان کے بعد سے یہ مذاکرات غیر یقینی کا شکار ہوگئے تھے۔اپنے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح، جنہوں نے افغان حکومت کو فروری 2020 میں طالبان سے ہونے والے معاہدے سے دور رکھا تھا، یہ مانا جارہا ہے کہ جو بائیڈن کے فیصلے نے طالبان کے لیے مذاکرات کی وجہ ختم کردی ہے اور گروپ خود کو فتحیاب سمجھ رہا ہے۔