نیا منصوبہ!

198

پچھلے چالیس سال بڑے اخلاص کے ساتھ رجعت پسندی کو پالا پوسا گیا، جب رجعت پسندی کے ہاتھ میں ہتھیار آگئے تو دلیل کے سینے میں گولی اتار دی گئی، یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب کوئی نکتہ ء نظر نہیں ہو گا جس پر مباحثہ ہو ہر بات خدا کے حکم کے نام پر ٹھونس دی جائے گی اور انکار یا بحث کی صورت میں فیصلہ گولی کرے گی، ظاہر ہے کہ اس صورت میں کمزور عوام جبراً نمازیں پڑھنے لگے، مدرسوں کی دہلیز پر اپنے بچوں کا مستقبل گروی رکھ کر ناظرہ پر اکتفا کیا، اس مقصد کے لئے لازم تھا کہ سرکاری نظام تعلیم کی بساط لپیٹ دی جائے، رجعت پسندی کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملے، ان چالیس سالوں میں کراچی کو برباد کرنے کی ذمہ داری ایم کیو ایم کو دی گئی اور اس دوران پختوں خوا ہ سے پختونوں کو کراچی میں منصوبہ بندی کے تحت بسایا گیا، ان میں افغان مہاجر کیمپوں سے بھاگے ہوئے افغانی بھی تھے جن کو کرپٹ نادرا نے جعلی شناختی کارڈ بنا کر دئیے سو پاسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کر دی گئی، ان بھگوڑے افغانی مہاجرین کے ناطے اپنی سرزمین سے کبھی نہیں ٹوٹے اور ان کو دہشت گردی کے لئے بھی استعمال کیا گیا، ایم کیو ایم نے تیس سالوں کے دوران ان افغانیوں اور پختونوں کو کچی بستیاں بسانے کی اجازت دی اور کروڑوں کمائے، کراچی کی آبادی کا تناسب بگڑ گیا، اب پختون آبادی کراچی کے لئے خوف کی علامت ہے، اسی لئے ساری دینی جماعتیں اپنی قوت کا مظاہرہ کراچی میں ہی کرتی ہیں، پنجاب میں بھی یہی کھیل کھیلا گیا پنجابیوں سے کہا گیا کہ افغانی مہاجرین تمہارے مسلمان بھائی ہیں ان کے ساتھ اخوت نبھائو اور گزشتہ چالیس سالوں میں پنجاب کی DEMOGRAPHYبدل چکی ہے شمالی پنجاب پر پختونوں اور افغانیوں نے اپنے پنجے گاڑ لئے ہیں، چونکہ یہ ہتھیار بند ہیں سو نہتی آبادی ان کے رحم و کرم پر ہے، کراچی میں ملک کے سارے حصوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ مساجد اور مدرسے ہیں، یہی صورت حال اب شمالی پنجاب کی ہے چپہ چپہ پر مساجد اور مدرسے ہیں مساجد اور مدرسے کسی قانون کے تحت نہیں بنائے گئے زیادہ تر سرکاری زمین پر قبضہ کر کے بنائی گئیں ان عناصر کو حکومت کی سرپرستی بھی حاصل ہے اور بفضلِ تعالیٰ مسجد اور مدرسہ بنانا ثواب کا کام ہے اس سے دامے درمے سخنے تعاون کرنے والوں کو جنت میں موتیوں کا محل ملتا ہے۔
لگتا یہ ہے کہ یہ منصوبہ بندی کراچی اور پنجاب والوں کو نکیل ڈالنے کے لئے بہت سوچ سمجھ کر کی گئی اور اس انداز سے کہ اس کا کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو، کراچی میں نام نہاد مہاجروں کے ہاتھ پائوں باندھے جائیں اور دوسری طرف پنجاب کے ناز نخروں اور اس کی آبادی کے زعم کو توڑ دیا جائے، امید بندھ جاتی اگر پنجاب کا کوئی دانش مند سیاست دان ہوتا جو اس منصوبہ سازی کو بھانپ لیتا، مگر میدان صاف تھا نواز شریف کے پاس اتنا شعور کہاں کہ وہ اس منصوبہ بندی کو بھانپ لیتے اور اس کا کوئی تدارک کرتے ان کو تو اپنے لئے پنجاب میں پختونوں کے ووٹ درکار تھے جو سارا کا سارا دینی جماعتوں کا ووٹ بنک تھا دینی جماعتیں دو تین قومی یا وفاقی وزارتیں لے کر سارا ووٹ نواز کی جھولی میں ڈال دیتے تھے، اب پختونوں اور افغانیوں نے اپنے دانت دکھانے شروع کئے ہیں، عمران عرصے سے کہتے چلے آئے ہیں کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے جڑا ہوا ہے اور یہ بھی کہ افغانستان سے تجارت ہو گی تو پاکستان خوشحال ہو جائے گا، عمران سے پوچھا جا سکتا ہے کہ پاکستان سے کچھ اجناس تو افغانستان بھیجی جا سکتی ہیں مگر افغانستان پاکستان کو کیا دے گا ظاہر ہے اس کا جواب یہی ہو گا کچھ نہیں، جو اجناس پاکستان سے افغانستان جائیں گی اس کا تاوان بھوک اور مہنگائی کی صورت میں پاکستان کو ادا کرنا ہو گا، اب رہی بات زرمبادلہ کی، تو بات یہ ہے کہ تمام دنیا کے چھوٹے ممالک امریکہ، یورپ، آسٹریلیا اور کینیڈا سے تجارت کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کو زرمبادلہ ملے، افغانستان سے تجارت جس کو تجارت کہا ہی نہیں جا سکتا اس سے پاکستان کو کوئی زرمبادلہ حاصل نہیں ہو گا، آرمی چیف جو ہمارے وزیر خارجہ بھی ہیں انہوں نے سابقہ روسی ریاستوں آزربائیجان، تاجکستان، یوکرین کے دورے کر کے ان کو شیشے میں اتارا ہے کہ پاکستان ان سے تجارت کر سکتا ہے اور مالِ تجارت کو افغانستان کے راستے SAFE PASSAGEمل سکتا ہے، اسی لئے بار بار کہا جارہا ہے کہ افغان امن سے خطے میں خوشحالی آئے گی، مگر امن کے امکانات بہت کم ہیں، امریکی افواج گو کہ افغانستان سے جارہی ہیں امریکہ نے افغانستان میں امن قائم رکھنے کی تمام ضمانتیں پاکستان سے حاصل کی ہیں، کابل حکومت کی صلاحیت معلوم ہے اور ادھر طالبان اس انتظار میں ہیں کہ امریکی جائے اور وہ کابل حکومت کو مسل دیں خانہ جنگی کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اگر خانہ جنگی ہو گی تو پاکستان بہت متاثر ہو گا عمران کی نظر سیاست پر ہے ہی نہیں وہ خطے کے حالات کیا سمجھیں گے، چونکہ یہ سارا منصوبہ فوج کا ہے سو اس کی تمام ذمہ داری بھی فوج پر ہی آئے گی، پاکستان کا نظام ہی کچھ ایسا بن گیا ہے کہ حکومت کو فوج کنٹرول کرتی ہے اور اگر وہ اس میں ناکام ہو جائے تو سارا ملبہ منتخب حکومت پر ڈال دیتی ہے، سیاست کا اہم کھلاڑی ہونے کے باوجود فوج وقت آنے پر ہاتھ جھاڑ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔
ادھر اے این پی کے مقتدر حلقے زیر لب یہ بھی کہ رہے ہیں کہ افغانستان اب پاکستان کا پانچواں صوبہ ہے، گو یہ امکان کم ہے لیکن افغانستان پاکستان کے ساتھ کنفیڈریشن بنا لیتا تو بلاشبہ پاکستان پر پختونوں کی بالادستی ہو گی اور پھر اس سے کس کو انکار کہ ان کی دہشت اور طاقت کے سامنے پنجاب اور سندھ کی کیا حقیقت ہو سکتی ہے، یہ اک گمان ہی سہی مگر آبادی کے سارے تناسب بگڑ جانے کے بعد کیا افغان وزیراعظم بھی ہو سکتا ہے، مگر یہ سوچ کر ہی روح لرز جاتی ہے، یہ سب گمان سہی مگر اس منصوبے کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، افغان باشندے ایک بہت شاندار مستقبل کے لئے اس منصوبے سے اتفاق کر سکتے ہیں اور اس کے لئے اسلام اور مسلمان، پنجاب افغان بھائی بھائی کی مالا بھی جپ سکتے ہیں، دراصل کان اس وقت کھڑے ہوئے جب نارتھ وزیرستان کے آپریشن کے دوران یہ کہا گیا کہ کے پی کے ہر بڑے شہر کو جدید بنایا جائے گا اور ہر بڑے شہر میں فوجی چھائونی ہو گی، عمران کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شائد فوج یہ کام کر گزرے مگر نتائج پاکستان کو بھگتنے ہوں گے اور پھر ایک بڑی فوج کی ضرورت برقرار رہے گی۔