پاکستان کا معاشی دہشت گرد ملک ریاض جس کے ہاتھ لاکھوں پاکستانیوں کی جیب میں ہیں

225

پاکستان بڑا عجیب ملک ہے شائد اور بھی ملک ہوں گے دنیا میں جہاں ایک انسان دھونس اور دہشت گردی کر کے لوگوں کی زمین یا تو خرید لیتا ہے یا پھر ان کو قتل کروا کر غریب کو اور اس کے خاندان کو بے یارو مددگار کر دیتا ہے ایسے شخص کا نام ہے ملک ریاض مالک بحریہ ٹائون، یہ شخص جس کے پاس بقول اس کے اپنی بیٹی کے لئے دوائی کے پیسے بھی نہ تھے لیکن سرکاری فائلوں میں نوٹوں کے پہیے لگا لگا کر وہ ارب پتی کھرب پتی بن گیا، ویسے تو پاکستان میں ۸ یا دس بڑے رئیل سٹیٹ ٹائیکون ہیں لیکن ملک ریاض ان سب پر بازی لے گیا پاکستان میں زمینوں اور پلاٹوں کا کاروبار سب سے منافع بخش کاروبار بن گیا ہے ساری دنیا میں گورنمنٹ کے ادارے سکیمیں بناتے ہیں یا ان کو کنٹرول کرتے ہیں لیکن یہاں پر ادارے خود کرپشن کرتے ہیں یا سکھاتے ہیں۔ LDA..CDA…KDA نجانے کتنے سرکاری ادارے ہیں لیکن ان میں بھی کرپشن ہوتی ہے وہ پرائیویٹ رئیل سٹیٹ کی پشت پناہی کرتے ہیں اور اپنا مال بناتے ہیں۔ ملک ریاض بہت تیز اور چال باز قسم کا آدمی ہے وہ ہر حکومتی پارٹی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے لاہور کا بلاول ہائوس بحریہ ٹائون میں ہے۔ کوئی زرداری سے نہیں پوچھ سکتا اتنامال کہاں سے آیا اور ملک ریاض نے کیوں بلاول ہائوس بحریہ ٹائون میں بنایا ۔عمران خان رائے ونڈ محل کی تو تحقیقات کررہے ہیں بلاول ہائوس کراچی کی ایکسٹینشن کی انکوائری کیوں نہیں کرتے۔ زرداری نے کیسے رائو انوار جیسے دہشت گرد ڈی ایس پی کے ذریعہ آس پاس کے مکان خرید لئے۔ چند دن پہلے سماء ٹی وی نے ایک رپورٹ نشترکی جس میں دکھایا گیا کہ زرداری نے بلاول ہائوس میں کراچی میں گائیں بھینسیں پال رکھی ہیں لیکن پوچھنے والا کوئی نہیں۔ عمران خان بیچارہ ۴ فیصد ترقی میں ہی پھنسا ہوا ہے ان دو کرمنل خاندانوں پر توجہ دینے کا وقت نہیں ہے اس کے پاس۔
میں سلام پیش کرتا ہوں میڈیا کے تین چار یوٹیوبرز کو جنہوں نے حق کا علم تھام رکھا ہے۔ عمران ریاض خان، طارق متین، صدیق جان وغیرہ وغیرہ۔ طارق متین آج کل کراچی میں ہیں چند دن پہلے انہوں نے بحریہ ٹائون پر Vلاگ کیا اور وہ بار بار بھیڑ یا ٹائون ،بھیڑیا ٹائون کی تکرار کرتے رہے۔ ایک دو منٹ تو میری سمجھ میں نہیں آیا کہ طارق متین بھیڑیا ٹائون کیوں کہہ رہے ہیں۔ بحریہ ٹائون کو لیکن دو دن پہلے کے واقعہ نے ان کی بات کو سچ ثابت کر دیا۔ ملک ریاض بہت ہی خطرناک انسان ہے۔ دیکھنے میں تو وہ بڑی میٹھی میٹھی باتیں کرتا ہے لیکن اگر 2013 ء سے یا اس سے پہلے سے کوئی انکوائری کمیٹی بنائی جائے اور زمینوں کے قبضے کی تفصیلات جمع کی جائیں تو اس کے ہاتھ پر کئی لوگوںکا خون نکلے گا۔ بحریہ ٹائون چاہے لاہور کا ہو، اسلام آباد کا ہو یا کراچی کا غریبوں کی زمینوں کو چھین کر یا قبضہ کر کے بنایا گیا ہے۔
پورا میڈیا ملک ریاض کے ہاتھوں بکا ہوا ہے۔ اشتہارات کی بھرمار ہے۔ تین تین منٹ کے اشتہار وہ ماڈل گرل کس طرح اشتہار میں لوگوں کو ورغلاتی ہے بحریہ ٹائون جیسے جنت کا کوئی ٹکڑا ہے۔
حالیہ ہنگامہ اور حملہ ملک ریاض اور آصف علی زرداری نے مل کر پلان کیا۔ زرداری کا کرمنل ذہن بہت تیز کام کرتا ہے اس حملے سے دونوں نے تین مقاصد حاصل کئے۔ پہلا ملک ریاض مظلوم بننا چاہتا ہے وہ اوورسیز پاکستانیوں اور کراچی کے مالی طور پر بہتر لوگوں کو بحریہ ٹائون سے نکالنا چاہتا ہے۔ دوسرا اس حملے کی آڑ میں وہ مزید غریب سندھیوں کی زمین ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر جو اس نے پیسے حکومت کو دینے ہیں وہ اس سے انکاری ہونا چاہتا ہے ۔ خود مظلوم بننا چاہتا ہے یہ حملہ اس کے لے پالک آدمیوں نے کیا۔ خبر یہ ہے کہ ان کو دو دن سے جمع کیا جارہا تھا، ان کے لئے کھانا پک رہا تھا۔ ملک ریاض کے لوگ ان کو بسوں میں بھر کر لائے۔ زرداری نے اور اس کے پالتو وزیروں نے آج کل پانی کا مسئلہ اٹھایا ہوا ہے۔ اب وہ ایم کیو ایم کو بھی بلیک میل کرنا چاہ ر ہا ہے۔تیسرا وہ فوج سے اپنی آئندہ حکومت کی ضمانت چاہتا ہے ۔عمران خان اور فوج کو میسج دے رہا ہے کہ سندھ میں مداخلت مت کرنا اور نہ ترقی کا کوئی کام کراچی میں کرنا ور نہ اس کے حواری ٹی وی پر ہنگامہ کر دیں گے۔ جیو جیسے ٹی وی نے پلانٹڈ پریس کانفرنس 5منٹ تک خبروں میں چلائی۔ یہی حال دوسرے ٹی وی چینلز کا ہے۔مجھے آج بھی مبشر لقمان اور مہر بخاری کا انٹرویو ملک ریاض کے ساتھ یاد ہے جو ایک بہت کامیاب پلانٹڈ انٹریو تھا۔ ملک ریاض خود ہی اینکر تھا اور خود ہی جواب دے رہاتھا۔
عمران حکومت پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ ملک ریاض جیسے لوگوں کا محاسبہ کریں، ان کو عدالتی کٹہرے میں لائیں اور دوسروں کے لئے نشان عبرت بنادیں لیکن عمران بیچارہ کیا کر سکتا ہے اس کو اپنے وزیروں پر کنٹرول نہیں ہے۔ وہ کیا ملک ریاض کو ٹف ٹائم دے گا ہو سکتا ہے اس کے کتنے وزیر ملک ریاض کے پے رول پر ہوں۔ جہانگیر ترین جیسے لوگ اس کو حکومت گرانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ عمران خان آئندہ پانچ سال کی بات کررہے ہیں۔ یہ ملک رشوت خوروں، بلیک میلروں، قاتلوں اور قانون توڑنے والوں کے لئے ہے۔ یہاں انصاف بھی بکتا ہے اور پولیس بھی بکتی ہے لیکن اس جہاں میں آغا سید بدیع الزماں جیسے شیر دل اور بہادر لوگ موجود ہیں جن کو ملک ریاض آج تک نہیں خرید سکا اور مولانا آغا کا 15ایکڑ پر مدرسہ کراچی بحریہ ٹائون کے دونوں گیٹوں کے بیچ میں موجود ہے اور اس ملک ریاض کو منہ چڑا رہا ہے ملک ریاض جب بھی اس مدرسے کو دیکھتا ہو گا اپنا ایک گھونٹ کرخون ضرورنگل لیتا ہو گا۔