سندھ میں سانپ پر عمران کا پاؤں!

202

ہم پاکستانی، وہ چاہے جہاں بھی ہوں، پاکستان میں یا اس سے بہت دور کہیں دنیا کے کسی کونے میں بھی ہوں، ہمارے دل فلسطینیوں کیلئے بھی اتنا ہی روتے ہیں جتنا اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے۔ ہمارے دل ان کیلئے یوں روتے ہیں کہ دونوں مظلوم اور ستائے ہوئے لوگ ہیں۔!
فلسطینیوں پر ظلم کی سیاہ رات کو چھائے ہوئے سو برس سے زیادہ ہوچکے۔ پہلے ان پر برطانوی سامراج مغرب سے لائے اور بلائے گئے صیہونیوں کے ساتھ مل کر ستم توڑتا رہا پھر1984 میں صیہونی ریاست کے قیام کے بعد سے فلسطینیوں پر مظالم کی تمام تر اجارہ داری اسرائیل کے ہاتھوں میں چلی گئی اور اس نے یہ ذمہ داری فلسطینیوں پہ نہ تھمنے والے ستم کے طوفان کی صورت میں نبھائی ہے جس کا تازہ ترین باب ابھی گذشتہ مہینے رقم کیا گیا!
کشمیری بھارتی سامراج کے ستائے ہوئے ہیں اور 70برس سے اپنے اوپر عذاب جھیل رہے ہیں اور اس عذاب میں کئی گنا اضافہ نریندر مودی کے عہد میں ہوا ہے کیونکہ مودی سرکار نے طلم و بربریت کے میدان میں اسرائیل سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اسرائیل اور بھارت کے مابین اپنے محصور فلسطینیوں اور کشمیریوں پر نت نئے ستم توڑنے کے ہتھیاروں کا تبادلہ بہت پابندی سے ہورہا ہے!
لیکن وہ جو ایک کہاوت ہے کہ چراغ تلے اندھیرا! وہ ہم پاکستانیوں پر ایک اعتبار سے صادق آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے، یعنی سندھ میں گذشتہ تیرہ برس سے پیپلز پارٹی کے ڈاکوؤں کی حکومت چلی آرہی ہے جس نے سندھ کے عوام، خاص طور پر کراچی اور اس کے باسیوں کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا ہوا ہے جو صیہونی مقبوضہ فلسطین اور مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کے ساتھ کرتے آئے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ زرداری اور اس کے چالیسیوں چوروں کا ستم لوٹ مار کا وہ نہ رکنے والا کھیل ہے جو تیرہ برس سے جمہوریت کے لبادے میں کھیلا جارہا ہے!
یہ لوٹ مار، یہ چوری، یہ ڈکیتی، کس پیمانے پر ہوئی ہے اور آج تک ہورہی ہے اس کی داستان ہمارے ماضی کا شہرِ زرنگار، روشنیوں کا شہر، عروس البلاد، کراچی اپنے موجودہ حالِ زار سے سنارہا ہے۔ کیا حال ہوگیا ہے اس شہرِ زرنگار کا ان چوروں کے ہاتھوں جو اس کے حسن و روپ کو، اور اس کی روشنیوں کو اسی طرح کھاگئے جیسے جنت نظیر کشمیر کو نریندر مودی کے بھارتی درندوں نے اجاڑا ہے یا فلسطین کو صیہونی درندوں کی بربریت نے پامال کیا ہے۔
کراچی والوں نے ابتک یہ سب لوٹ مار اور دانستہ، منصوبہ بندی کے تحت کی گئی بربادی کو خاموشی سے برداشت کیا ہے لیکن یوں لگتا ہے کہ اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور چھلکنے والا ہے۔
اس کا ثبوت وہ مظاہرہ ہے جواس وقت بھی کراچی کے بحریہ ٹاؤن کے باہر جاری ہے جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں اور اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ مظاہرہ ایم کیو ایم کی سرپرستی میں کیا جارہا ہے تو یہ غلط خیال ہے کیونکہ اول تو ایم کیو ایم کا وہ دھڑا جو ڈون الطاف کے تابع تھا کراچی کی لوٹ مار اور تباہی میں زرداری کا برابر کا شریک رہا ہے، دوسرے کراچی کے مہاجرین اب اپنی مایوسی کی انتہائی حدیں سب پار کرچکے ہیں کیونکہ انہیں یہ شعور ہوگیا ہے کہ وہ چاہے سندھ کے حکمراں ہوں چاہے اسلام آباد کے ایوانِ اقتدار کے مالکان، ان سے کسی کو ہمدردی نہیں ہے اور وہ کسی سے بھی بھلائی کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ لہذا وہ اگر اب کسی سے بھلائی کی توقع رکھتے ہیں تو وہ صرف اللہ سے کہ وہ ان کے درد کو سمجھتا بھی ہے اور شاید کسی دن اس کی مشیت جوش میں آئے اور کراچی والوں کے دن پھر جائیں!
تو یہ مظاہرہ، جسمیں تشدٌد بھی ہوا ہے اور کراچی پولیس نے حالات پر قابو پانے کیلئے آنسو گیس بھی استعمال کی ہے، سندھ کی سندھی سیاسی اور سماجی جماعتوں اور تنظیموں کی طرف سے ہورہا ہے اور اس کی قیادت جئے سندھ تحریک کے بانی مبانی جی ایم سید کے پوتے بہ نفس نفیس کررہے ہیں۔
بحریہ ٹاؤن کو مظاہرے کی علامت بنانے کی منطق ہے اور وہ یہ کہ بحریہ ٹاؤن کے سربراہ، ملک ریاض جو پاکستان کے قارون کہے جاتے ہیں، زرداری کے یار ہیں اور زرداری کے اشتراک سے انہوں نے کراچی کے مضافات میں واقع درجنوں گاؤں یا گوٹھوں کی زمینیں اپنے بحریہ ٹاوٗن کیلئے ہڑپ لی ہیں اور ان گوٹھوں کے غریب ہاری اور غریب کسان اپنی پشتینی زمینوں سے محروم کردئیے گئے ہیں! اربوں روپے کی زمینیں ملک ریاض نگل گیا اور ڈکار تک نہیں لی اور یہ اسلئے ممکن ہوا کہ زرداری اس کے ڈاکے میں برابر کا شریک ہے۔ شاید ہمارے کچھ قارئین کو یاد نہ رہا ہو کہ زرداری اور ملک ریاض کا یہ گٹھ جوڑ کوئی آج کا نہیں ہے، برسوں پرانا ہے اور ملک ریاض نے زرداری کا منہ بند کرنے اور پیٹ بھرنے کیلئے اس ڈاکو کیلئے لاہور میں اربوں روپے سے بلاول ہاؤس بناکر زرداری کو تحفہ دیا تھا!
زرداری اور اس کے چیلوں کیلئے یہ مظاہرہ بڑا چیلنج ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ سندھ کی حکومت اس سے کس طریقے سے نمٹتی ہے اور کیسے نبرد آزما ہوتی ہے۔ ممکن یہی نظر آتا ہے کہ رینجرز اور فوج کی مدد سے یہ مظاہرہ ختم کیا جائے گا لیکن یہ کامیابی لگتا یہ ہے کہ کچھ وقت کیلئے ہوگی اس لئے کہ اب چوروں کا کھیل ان پر بھی آشکارا ہوچکا ہے جن کے متعلق یہ بڑے وثوق سے کہا جاتا تھا کہ وہ زرداری اور پیپلز پارٹی کیلئے ووٹ بنک تھے۔ زرداری اور اس کے چوروں نے اس بنک سے کتنا فائدہ اٹھایا اس کا منہ بولتا ثبوت تو یہی ہے کہ تیرہ برس سے وہ سندھ پر حکمرانی کرتے آرہے ہیں اور یہی دکھائی دیتا ہے کہ کم از کم اگلے انتخابات تک تو ضرور کرتے رہینگے اسلئے کہ سابقہ نواز حکومت کی طرح عمران حکومت نے بھی زرداری اور چالیسیوں چوروں کے کھیل کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی اس کے باوجود کہ سندھ حکومت کی پے در پے ناکامی اور اس کی لوٹ مار کے ان گنت ثبوتوں کے ہوتے ہوئے بھی اسے برطرف نہیں کیا گیا جبکہ پاکستان کا آئین اس کی اجازت دیتا ہے اور اس کیلئے قانونی جواز موجود ہے!
لیکن اب یہ بھی لگتا ہے کہ عمران حکومت کو کچھ ہوش آیا ہے اور اس نے اب سندھ میں ترقیاتی کاموں کی حد تک یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ یہ ترقیاتی کام اپنی نگرانی میں کریگی اور سندھ حکومت کو ان کاموں سے دور رکھا جائے گا۔ یہ فیصلہ اسلئے برحق اور سو فیصد درست ہے کہ ترقیاتی کاموں کیلئے جو پیسہ مرکز سے سندھ حکومت کو دیا جاتا تھا وہ تمام کا تمام زرداری اور اس کے چیلوں کی جیبوں میں گم ہوجاتا تھا اور ترقیاتی منصوبہ کاغذ سے شروع ہوکے کاغذ پر ہی ختم ہوجاتا تھا۔ یہ انداذہ لگانا مشکل ہے کہ یہ چور کتنے کھربوں روپے کھاگئے، بغیر ڈکار لئے ہضم کرگئے اور سندھ کے عوام ترستے رہے کہ ان پر مسلط لوٹ مار کی رات کبھی تو ختم ہوجائے!
لیکن عمران نے بعد از خرابی ٔبسیار یہ درست اور مثبت فیصلہ کرکے یوں لگا جیسے سانپ کی دم پر پیر رکھ دیا ہو۔ زرداری خود خاموش رہتا ہے لیکن اس کے گرگے اور چیلے بہت تلملا رہے ہیں اسلام آباد کے اس فیصلے سے۔ زرداری سے اپنی وفاداری کے ثبوت میں سندھ کے نااہل اور ناکارہ وزیرِ اعلیٰ، مراد علی شاہ نے تلملا کے عمران خان کو ایک خط لکھ ڈالا جسمیں اپنے دل کے پھپھولے انہوں نے جی بھر کے پھوڑے اور وزیرِ اعظم کا احترام کرنا تو کجا انہیں بہت جلی کٹی سنائیں کہ وہ سندھ کے ساتھ سوتیلی اولاد کا سا سلوک کررہے ہیں وغیرہ، وغیرہ!
مراد علی شاہ کی ہرزہ سرائی کا ترقیاتی منصوبوں کے وزیر، کراچی کے پرانے باسی اور عمران کے دستِ راست، اسد عمر نے بہت مسکت جواب دیا ہے جس میں انہوں نے مراد علی کو اس کے سیاہ کرتوتوں کا آئینہ دکھایا ہے کہ وہ اپنے کریہہ خد و خال خود ہی دیکھ لیں لیکن زرداری کی طرح اس کے چیلے بھی اتنے ہی بے شرم ہیں لہٰذا یہ توقع رکھنا تو بیکار ہے کہ وہ اپنے کئے پر پچھتائیں گے لیکن کراچی اور سندھ کے ستائے ہوئے باسیوں کیلئے اب یہ امید بندھ جائے گی کہ اسلام آباد کے ایوان اقتدار ان کیلئے اپنے دل میں ہمدردی کا کوئی گوشہ رکھتے ہیں اور اب انہیں مزید زرداری کے رحم و کرم پر نہیں رہنے دیا جائے گا!
عمران خان نے اگلے تین برس میں سندھ میں ترقیاتی کاموں کیلئے ایک ہزار ارب روپوں کے منصوبے تشکیل دئیے ہیں جن میں سے کچھ تو تکمیل سے بہت قریب ہے، جیسے کراچی میں تیز رفتار ٹرانسپورٹ کی سہولت کا گرین بسوں کا منصوبہ جو اسد عمر کے بقول ستمبرتک پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔ اس سے کراچی والوں کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کی شکل میں ایک بڑی سہولت فراہم ہوجائیگی اور ان کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہوسکے گا!
اسی طرح کراچی کے نالوں کی صفائی کا منصوبہ ہے، پانی کی فراہمی کا منصوبہ ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کراچی والے وہ بدنصیب ہیں جنہیں بوند بوند پانی کیلئے ترسایا جاتا رہا ہے۔ اسی ضمن میں کراچی میں بجلی کی وافرفراہمی کا منصوبہ ہے جو عوام کی مشکلات کو بڑی حد تک کم کرنے میں معاون ہوگا۔ ہماری دعا یہ ہے، اسلئے کہ اپنے شہرِ مرحوم اور اس کے باسیوں کیلئے بھی ہمارا دل ایسے ہی تڑپتا ہے جیسے اپنے فلسطینی اور کشمیری بھائیوں کیلئے، کہ عمران حکومت نے کراچی والوں کی فلاح و بہبود کا جو بیڑا اٹھا یا ہے وہ کامیابی سے ہمکنار ہو اور کراچی والے برسوں تک زرداری اور اس کے چوروں کے ہاتھوں لٹتے رہنے کے بعد چین کا سانس لے سکیں!
پاکستان میں ان دنوں نیوز میڈیا اور بطورِ خاص سوشل میڈیا پر ملالہ یوسف زئی، جنہیں ان کے ناقدین ملالہ یورپ زئی کہنے لگے ہیں، کے اس انٹرویو نے تہلکہ مچایا ہوا ہے جو انہوں نے بین الاقوامی شہرت رکھنے والے ووگ میگزین کو دیا ہے۔ اس میگزین کے جون کے شمارے کے سرِ ورق پر ان کی ایک نمایاں تصویر بھی لگائی گئی ہے۔ ملالہ اس وقت سے جب آج سے کوئی دس برس پہلے وہ پاکستانی طالبان کے انتہا پسندوں کے ہاتھوں زخمی ہوکر مرتے مرتے بچی تھیں اور پھر انسانی حقوق اور ہمدردی کے نقیب اور علمبردار انہیں انگلستان لے گئے تھے، جہاں وہ اس وقت سے مقیم ہیں، پاکستانی حلقوں میں بہت متنازعہ رہی ہیں۔ ان کے حق میں بولنے والے وہ ہیں جو لبرل یا آزاد خیال کہلائے جاتے ہیں اور ان کے معترضین وہ ہیں جنہیں اسلام پسند اور دقیانوسی خیالات کے حامل کہہ کر مطعون کیا جاتا ہے۔ سو ووگ میگزین کے حالیہ انٹرویو کے بعد بھی ملالہ ان ہی دو حلقوں کیلئے موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔ اس انٹرویو میں اور باتوں کے علاوہ انہوں نے شادی اور خاندانی زندگی سے متعلق جو کہا ہے اس پر لبرل ان کی آزاد سوچ کو سراہ رہے ہیں جبکہ اعتراض کرنے والے اس بیان کو پکڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں جس میں انھوں نے یہ فرمایا کہ اپنی زندگی کا ساتھی چننے کیلئے کیا ضروری ہے کہ کسی کاغذ یا کاغذات پر دستخط کئے جائیں۔ یہ فیصلہ، اپنے جیون ساتھی کا، تو ایک پاڑتنر شپ ہے جس کیلئے کسی کاغذ کی ضرورت نہیں!
اعتراض کرنے والوں کا استدلال درست ہے کہ یہ کہہ کر ملالہ نے اسلام میں شادی کا جو تصور اور ضابطۂ اخلاق ہے اسے ہی رد کردیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایسی بات ہے جو دین کے احکامات پر ایمان رکھنے والے ہر مسلمان کیلئے ناقابلِ قبول ہے۔ اور سب باتوں کو جانے دیجئے لیکن اگر ملالہ بی بی کی اس منطق کو ہی درست مان لیا جائے کہ پارٹنرشپ ہی اصل چیز ہے کاغذ کا پرزہ نہیں تو پھر بھی مغرب میں بھی اس پر بہت زور دیا جاتا ہے کہ ہر پارٹنر شپ میں داخل ہونے سے پہلے اس کے بنیادی نکات پر دستخط نہ سہی اپنے نام کے حروف لکھ دئیے جائیں جسے انیشلز کہا جاتا ہے!
مالہ کو ان کے مغربی سرپرست ایک مقصد کیلئے تیار کررہے ہیں۔ برسوں سے اس منصوبے پر کام ہورہا ہے جس میں انہیں بہت کم عمری میں نوبل پرائز دینا سرِ فہرست ہے! تو کوئی تعجب کی بات نہیں کہ یہ انٹرویو، جسے دنیا بھر میں تشہیر دی جارہی ہے، اسی منصوبے کی ایک کڑی ہے۔ ہماری تو ویسے بھی تاریخ یہی رہی ہے کہ گھر کے چراغ ہی گھر کو پھونکنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ اور یہ کوئی پہلی بار تو نہیں ہورہا!