ہمارے بھی ہیں مہربان کیسے کیسے؟

289

پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کا فوج کے ساتھ ٹاکرا رہا ہے۔ پی پی پی کا میمو گیٹ اور نون لیگ کا ڈان لیکس، بڑی مثالیں ہیں۔جب میمو گیٹ کا معاملہ ہوا تو نون لیگیوں نے پی پی پی کے لتے لیے۔یہ زرداری صاحب کو ہمیشہ یاد رہے گا۔ چونکہ زرداری صاحب بھی ایک کایاں سیاستدان ہیں، وہ ہر نئے موقع پر اپنی سیاست کو از سر نو جانچتے ہیں اور پھرسوچتے ہیں کہ وہ نئے جوڑ توڑ کا حصہ بنیں گے یا نہیں۔ کسی حد تک میاں صاحب بھی یہی کرتے ہیں لیکن اپنی ذہانت سے نہیں۔اس کے لیے وہ بھارتی را کی مدد کے محتاج ہیں۔تازہ ترین سیاسی اکھاڑے میں، میاں صاحب کو چوتھی دفعہ وزیر اعظم بننے کا خواب ستا رہا ہے۔ مگر ان کی واپسی کی راہ میں ایک ہی رکاوٹ ہے اور وہ ہے عمران خان۔ اگر کپتان نہیں ہو گا تو وہ سپریم کورٹ سے اپنے حق میں فیصلہ کروا کر انتخابات میں حصہ لے سکیں گے ۔ اس لیے اپنے زر خرید غلام فضلو کی سر براہی میںپی ڈی ایم بنائی جس کا ایک ہی مقصد تھا کہ عمران خان کی حکومت گرائی جائے۔ لیکن تھوڑی ہی مدت میں، زرداری اور این اے پی والے بھانپ گئے کہ اس پی ڈی ایم کے تماشے کا اصل مدعا کیا ہے؟ اس میں ان کے لیے کچھ بھی نہیں۔
اب نون لیگیئے تڑپ رہے ہیں کہ کسی طرح پی پی پی پھر سے پی ڈی ایم میں شامل ہو جائے، مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ نون لیگ چاہتی ہے کہ کسی طرح کم از کم پنجاب کی حکومت ہی گرا دے لیکن اس کے اسے ان لیگیوں کا تعاون بھی چاہیے ہو گا جو شہباز اور اس کے برخور دار حمزہ کے زیر اثر ہیں۔ ان کے تعاون کا کوئی بھروسہ نہیں۔ ویسے بھی بزدار کی حکومت گرا کر وہ اپنی حکومت پھر بھی نہیں بنا سکیں گے۔ تو یہ بھی ایک لا حاصل مشق ہو گی۔ اس موقع پر راقم قارئین کی توجہ ماضی کے ان اوراق کی طرف دلانا چاہتا ہے جنکی یاد ابھی بھی ہمارے دلوں میں باقی ہے۔پی پی پی کی کاناموں میں پاکستان کی افواج کے خلاف کئی کوششیں گنی جا سکتی ہیں۔ مصطفیٰ کھر نے تو باقاعدہ پچاس چھوٹے افسروں کے ساتھ ملکر ، بھارتی تعاون سے، فوج پر حملہ کرنے کی ناکام کوشش کی، جو پکڑی گئی لیکن فوج نے خود ہی اپنی حکمت عملی کے تحت اسے خاموشی سے رفع دفع کر دیا۔ میمو گیٹ کا واقع زیادہ سنجیدہ تھا، لیکن اس پر بھی حکومت نے سارا ملبہ صحافی حسین حقانی کے سر ڈال دیا۔پاکستان کو دو لخت کرنے والے قائد عوام کی غداری کو بھی اسی طرح چٹائی کے نیچے چھپا دیا گیا تھا۔
ـ’’میمو گیٹ‘‘پی پی پی کی حکومت کا ایک افسوس ناک واقعہ ہے۔ ہوا یہ تھا کہ ایک امریکن پاکستانی بزنس مین منصور اعجازنے دعویٰ کیا کہ’’ ۲۰۱۱ء میں اسے حسین حقانی سے ایک خفیہ مراسلہ ملا اس ہدایت کے ساتھ کہ وہ اس کو امریکی ایڈمرل مائیک مُلن تک پہنچا دے۔ اس مراسلہ میں پاکستان میں فوج کا حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے خلاف امریکہ سے مدد مانگی گئی تھی۔یہ فوج کے خلاف بڑی اعلیٰ سطح پر کیا گیا الزام تھا جس پر تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشیل کمیشن بنایا گیا۔ اور اس کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ کو دی گئی۔ اس میمو میں امریکی حکومت کو باور کروایا گیا تھا کہ پاکستان کی حکومت ان کی وفادار ہے۔کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ حقانی جس نے یہ میمو تحریر کیا تھا، بطور سفیر کے ایسی بات کہنے کا مجاز نہیں تھا۔ اس میمو میں امریکی حکومت سے ایک مضبوط، فوری اور براہ راست درخواست کی گئی تھی کہ وہ پاکستانی فوجی قیادت کو ایسا قدم اٹھانے سے روکے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ حقانی پر ملک سے غداری کا مقدمہ بنایا جائے۔یہ مطالبہ نون لیگی خواجہ آصف کی طرف سے تھا، کہ دوسروں کو اس سے سبق ملے۔حقانی نے امریکنوں کو یقین دلایا تھا کہ اس مہربانی کے بدلے میں، امریکہ کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور اس کے خفیہ سراغ رسانی کے اداروں تک رسائی دے دی جائے گی۔نون لیگ کے قائد نے کہا کہ اس رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ حقانی پاکستان کا مخلص نہیں ہے اور پاکستان کے مفادات کے لیے کام نہیں کر رہا۔‘‘ سپریم کورٹ نے حقانی کو عدالت میں طلب کیا لیکن وہ حاضر نہیں ہوا اور جب سے مفرور ہے۔خواجہ آصف نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کے حقانی کے پیچھے جو لوگ ہیں ان کو بھی منظر عام پر لایا جائے۔
حسین حقانی پاکستانی صحافت کا ایک درخشان ستارہ تھا۔ انگریزی صحافت میں اس کا نام عزت سے لیا جاتا تھا۔ زرداری نے اسے اپنے کام کروانے کے لیے امریکہ میں پاکستان کا سفیر بنوا دیا۔ اور پھر ایک دن زرداری کو شبہ ہوا کہ فوج اس کی حکومت کا تختہ الٹنے کا سوچ رہی ہے۔ اس صورت حال سے نپٹنے کا اسے ایک ہی راستہ سوجھا کہ امریکنوں کی مدد لی جائے۔ اس کے بعد کیا ہوا، وہ ہم اوپر ذکر کر ہی چکے ہیں۔ حسین حقانی کو ملک دشمن قرار دے دیا گیا، جس کا اسے بہت دکھ ہوا اور اتنا شدید افسوس کہ اس نے واقعی میں اپنی تمام تخلیقی صلاحیتیں پاکستان کی ریاست کو بد نام کرنے پر صرف کر دیں۔ اسنے امریکہ میں ہی پناہ لے لی اور یہیں سے پاکستان کے خلاف لیکچر، کتابیں اور اخباروں میں مضامین شائع کرنے شروع کر دیے۔ ان ذریعیوں سے اپنی قابلیت کا جتنا زہر اگل سکتا تھا اگلا۔ اس کا ایک مقصد امریکہ کا پاکستان کی طرف سے تعلقات میں گہرا گھائو ڈالنا تھا۔اور بھارت کی پاکستان دشمنی میں نئی روح پھونکنا تھا۔اس دشمنی کی وجہ سے وہ ایسے امریکی صہیہونی اور بھارتی اداروں کی نظر میں آگیا جو پہلے ہی پاکستان دشمنی میں سرگرداں تھے۔امریکنوں کا پاکستان کے خلاف رویہ تبدیل کرنے کی ایک کوشش حقانی کی کتاب Magnificent Delusions یعنی ’ عالیشان خود فریبیاں‘ تھی۔ اس کتاب میں موصوف نے امریکہ اور پاکستان کے روز اول سے تعلقات میں کیچڑ اچھالا۔ اس کا لب لباب یہ تھا کہ پاکستان کے بد کردار اور بد نیت حکمرانوں نے ہمیشہ امریکیوں کواُلو بنا کر پیسہ بنایا۔ حقانی کا تخمینہ تھا کہ امریکیوں نے پاکستان کو چالیس ارب ڈالر دیے اور بدلے میں انہیں ٹھینگا ملا۔ حقانی کا طیش اسقدر زیادہ تھا کہ اس کے لیے پاکستانیوں کی کوئی بھی قربانی جو انہوں امریکہ کے لیے دی،بے وقعت تھی۔وہ بھول گیا کہ پاکستان کی اعانت نہ ہوتی تو امریکہ کبھی بھی افغانستان میں روسیوں کو شکست نہ دے سکتا۔ صرف اس مدد کے لیے چالیس ارب کیا ،سو ارب بھی نا کافی تھے۔لیکن حقانی نے بحثیت ایک سابق پاکستانی ذمہ وار سفارت کار کے لکھناکہ پاکستانیوں نے چالیس ارب کے بدلے امریکہ کو کچھ بھی نہیں دیا۔پاکستانی تو کتابیں پڑھتے ہی نہیں۔ اور کتنے ہیں جو امریکہ میں شائع ہوئی مہنگی کتاب دیکھتے اورپڑھتے ہونگے؟ راقم کے ہاتھ اس کی ایک مفت کی کاپی ،پی ڈی ایف میں مل گئی، اور اس پر ایک امریکی صحافی کا تبصرہ بھی۔امریکی صحافی نے ایمانداری کے ساتھ پاکستان کی ان خدمات کی فہرست دے دی جو امریکہ کے لیے کی گئی تھیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے سٹاف رائٹر، رچرڈ لیبی، نے نومبر ۲۲، ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں کتاب پر تبصرہ شائع کیا۔ یہ صحافی پاکستان میں، تقریباً دو سال، اسی اخبار کے پاکستان بیورو کا چیف رہا تھا، اس لیے وہ پاکستانیوں کو قریب سے جانتا تھا۔اس نے لکھا کہ’’ حقانی جو پاکستان کا امریکہ میں سفیررہا تھا ،کتاب سے لگتا ہے کہ وہ پاکستان کا دوست نہیں تھا ۔ حقانی نے لکھا کہ پاکستانی قائدین جھوٹے، دوغلے، اور نوسر باز ہیں، اور کئی دہائیوں سے ایسے ہی ہیں۔اور امریکہ یہ سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان کاساتھ دیتا ہے۔حقانی، آج کل بوسٹن میں جلا وطنی کی حالت میںرہتا ہے۔وہ پاکستان میں بھی ملک کی با اثر افواج، اورخفیہ ایجنسیوں پر تنقید نگاری کرتا رہا ہے۔۲۰۱۱ء میں اس کا ایک سکینڈل میمو گیٹ کے نام سے بر سر عام آیا۔ جس میں اس پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے پاکستانی افواج کو سرنگوں کرنے کے لیے امریکہ سے مدد مانگی تھی۔اس وجہ سے اسے سفارت سے فارغ کر دیا گیا تھا۔اس کے بعد پاکستان میں اسے غدار قرار دے دیا گیا تھا۔رچرڈ لیبی پاکستان کے اور خصوصاً رہنمائوں کے مسائل کو سمجھتا تھا۔حقانی نے لکھا کہ پاکستان ایک ایسے دوست کی طرح ہے جو پیسے مانگنے سے نہیں شرماتا اور دھونس ماری کر کے بھی پیسے لے لیتا ہے اور امریکہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی دے دیتا ہے۔یہ تعلقات پیچیدہ ہیں۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ بظاہر پاکستان امریکہ کو نہ کہتا ہے مگر درپردہ اسکی مانتا بھی ہے۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ اتنے سال گذرنے کے بعد بھی پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات قائم ہیں۔قائد اعظم نے کہا تھا امریکہ کو پاکستان کی ضرورت زیادہ ہے بہ نسبت پاکستان کو امریکہ کی۔اور یہ بات پاکستانی لیڈروں نے تب بھی کہی جب پاکستان نے ۲۰۱۲ء میں اتحادیوں کے افغانستان کے سپلائی روٹ کو بند کیا تھا‘‘۔لیکن جب حقانی کہتا ہے کہ امریکی امداد کے بدلے پاکستان نے امریکہ کو کچھ نہیں دیا، تو یہ نرا بہتان اور بکواس ہے جیسا کہ رچرڈ نے مندرجہ ذیل شواہد سے ثابت کیا ہے۔
’’پاکستان نے امریکہ کو روس کے خلاف ہوائی سراغرسانی کا U-2 جہاز بھیجنے کی سہولت دی۔اور پاکستان میں نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کی ریڈیو سے جاسوسی کرنے کا اڈا بنانے کی اجازت دی۔رچرڈ نکسن پاکستان کا سچا مداح تھا۔اس کا کہنا تھا کہ پاکستان روسی کیمونزم کے خلاف ایک مضبوط حصارتھا۔اس نے کہا پاکستان وہ ملک ہے جس کے لیے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔اور یہ کہ پاکستانیوں میں بھارتیوں کے مقابلہ میں کم خود نمائی ہے۔ اور جب نکسن نے بطور صدر کے پاکستان کو چین کے ساتھ خفیہ تعلقات بنانے کے لیے استعمال کیا تو پاکستان کواس کے مالی فوائدہوئے۔ اسی طرح ریگن کے دور میں بھی پاکستان فائدے میں رہا جب پاکستان نے افغانستان میں روس کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا۔اسی طرح بُش کے دور میں بھی جب ۱۱۔۹ کے بعد پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی۔ ان کئی سالوں میں امریکہ نے پاکستان کو جو فوجی امداد دی، حقانی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے وہی امداد بھارت کے خلاف استعمال کی۔‘‘( حقانی صاحب کہنا کیا چاہتے ہیں کہ جب بھارت پاکستان پر جنگ کرے تو پاکستانی اپنے دفاع میںوہ اسلحہ استعمال نہ کرے کہ وہ امریکہ نے کیمونزم کے خلاف لڑنے کے لیے دیا ہے؟یہ کتنا احمقانہ اعتراض ہے جو حقانی جیسا جلا بھنا، کوتاہ اندیش، متعصب ہی کر سکتا ہے)۔ حقانی کی کتاب پاکستان کے بھارت کے خلاف جذبات سے بھری ہوئی ہے۔کشمیر کو آزاد کروانے کے چکر میں پاکستانی فوج اور ملائوں نے قوم کویرغمال بنا رکھا ہے ۔اور بجائے اس کے کہ وہ اپنی کرتوتوں پر غور کریں، وہ ہندووں،یہودیوں اور امریکنوں کو قصوروار ٹہراتے ہیں۔ رچرڈ کا کہنا ہے کہ ’’یہ قابل شرم بات ہے کہ پاکستانی دیندار، ملنسار اور مہمان نواز لوگ ہیں، کم از کم وہ جنہیں میں اپنے ڈیڑھ سال میں ملا۔ اگر حقانی نے کچھ انکا بھی تذکرہ کیا ہوتا تو اس کی کتاب بہتر ہو جاتی۔اگر عام آدمی کوسنا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ کون ہیں؟ کیا سوچتے ہیں، کیسے زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ دشمن نہیں ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے عام امریکن، جو اپنے قائدین کی عظیم الشان غلطیوں کی قیمت چکاتے رہتے ہیں۔‘‘
حسین حقانی کو ایک حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ لوگ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتے نا اسکو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو اپنے وطن کا غدار اور وطن سے باہر ہوتا ہے۔ اسکی عزت صرف بھاڑے کے ٹٹو کی رہ جاتی ہے جسے پیسے دیکر کوئی بھی خرید سکتا ہے۔جو اپنے وطن کا نہیں اس کی وفاداری پر کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ لامحالہ اس سے جتنا جوس نکل سکتا ہے وہ نکال کر اسے استعمال شدہ ٹشو کی طرح کوڑا دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔ ان روسی مصنفین کی حالت پر غور کریں جنہوں نے سویٹ یونین کے خلاف کہانیاں لکھیں۔ آج ان کو کوئی نہیں جانتا، وہ اس لیے کہ اب وہ چلے ہوئے کارتوس کی طرح ہیں۔ بالکل بے کار۔جب حقانی کے پاس کوئی نئی بات نہیں رہ جائے گی تو وہ بھی گمنامی کی موت مر جائے گا۔ ان کی اور بھی کتابیں ہیں جنہیں انڈیا میںکچھ پذیرائی ہوئی ہے لیکن ابھی تک کسی کا بھی دوسرا ایڈیشن نہیں شائع ہوا۔