ایک اور جنرل رانی!!

546

پاکستان پر جب تک جنرلوں کا سیاست پر قبضہ یا مداخلت جاری رہے گی تب تک جنرل رانیوں کے قصے جاری رہیں گے جو ایک بدنما کردار ہیں جس نے پاکستان توڑنے اور مروڑنے میں اہم رول ادا کیا ہے کہ جب ملک ٹوٹ رہا تھا تو پاکستانی فوج کے جنرل جنرل رانیوں کے ساتھ رنگ رلیاں منارہے تھے ایک طرف مغربی پاکستان میں جنرل یحییٰ خان جنرل رانی کی گود میں بیٹھا شراب نوشی اور زناکاری میں مبتلا تھا دوسری طرف جنرل نیازی بنگال میں عورتیں ڈھونڈ رہا تھا جبکہ پاکستان دولخت ہورہا تھا جس کا ذکر مشرقی پاکستان میں فوجی کمان کے انچارج میجر جنرل خادم حسین راجہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ جنرل رانی کون تھی جس نے جنرلوں کو اپنے جادو میں گھیر رکھا تھا جن کے بارے میں گزشتہ کئی سالوں سے گاہے بگاہے کہانیاں چھپتی رہتی ہیں جبکہ حمود الرحمن کمیشن میں تفصیل سے ذکر ہے کہ اقلیم اختر نامی خاتون جو ایک پولیس افسرکی بیوی تھیں جن کے نہ جانے کیسے اور کیوں جنرل یحییٰ تک مراسم بڑھ گئے جو بعد میں صدر پاکستان اور فوجوں کے کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ خان کی داشتہ بن گئیں جن کے حکم پر بڑے بڑے اہلکاروں کی قرقی اور تبادلے ہوا کرتے تھے جو جنرل یحییٰ خان کو ہر روز رنگ برنگی خواتین فراہم کرتی تھیں جن میں بیگم نور جہاں، فلمی ادا کارہ ترانہ اور نہ جانے کون کون سے عورتیں تھیں جس میں بڑے بڑے افسران کی بیگمات شامل تھیں جو ملک کا بہت بڑا چکلا خانہ بن چکا تھا یہاں سے جنسی کرداروں کے علاوہ کچھ نہیں ملتا تھا یہ وہ وقت تھا کہ ایک طرف ملک ٹوٹ رہا تھا دوسری طرف ایوانوں، دربانوں اور بلوانوں میں عیش و عشرت کا بازار گرم تھا تاہم اقلیم اختر عرف جنرل رانی سابقہ ایک پولیس افسر کی بیوی عروسہ عالم کی والدہ، پاکستانی بھارتی گویا عدنان سمیع، پاکستانی بوپ سنگر فخر عالم کی نانی اور جنرل یحییٰ خان کی رکھیل یا داشتہ اور دلال تھیں جس پر نہ جانے کتنے قصے کہانیاں چھپ چکی ہیں جن کی حرکات و سکنات سے پاکستان پر عذاب آیا کہ ملک خالق پاکستان قوم بنگال سے محروم ہو گیا جس نے پاکستان بنانے میں اپنا اہم رول ادا کیا تھا جس کی وجہ سے پاکستان ٹوٹ چکا تھا اور پاک فوج ہتھیار ڈال چکی تھی اور نوے ہزار پاکستانی قیدی بن چکے تھے جس کا داغ آج تک نہ دھل پایا ہے۔ ابھی جنرل رانی کے قصے کہانیاں جاری تھیں کہ پچھلے ہفتے ایک اور جنرل رانی بنت جنرل رانی کا قصہ سامنے آیا کہ سابقہ جنرل رانی کی بیٹی عروسہ اسلم عالم جو بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کی غیر سرکاری بیوی یا گرل فرینڈ پاکستانی پاپ سنگر فخرعالم کی والدہ پاکستانی حساس ادارے کے سربراہ فیض حمید کے ساتھ معاشقہ پکڑا گیا جن کی بیگم نے جنرل پر گولی چلا دی جس میں جنرل صاحب شدید زخمی ہوئے یہ قصہ ایک اور جنرل رانی کا تب ابھر کرسامنے آیا جب پاکستان کے مشہور صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے صحافیوں کو اغواء، تشدد، قتل و غارت گری کے خلاف احتجاج میں اپنی تقریر میں کہا کہ اگر حساس ادارے ہم صحافیوں کے گھروں میں گھس گھس کر ماریں گے تو ہم آپ لوگوں کے گھروں کے راز افشاں کردیں گے جس کے بعد دوسرے دن پورے سوشل میڈیا پر ایک اور جنرل رانی کی کہانی سامنے آئی کہ چند ماہ پہلے جنرل فیض حمید ایک اور جنرل رانی عروسہ اسلم عالم کے ساتھ رنگ رلیاں منارہے تھے کہ موقع پر ان کی بیگم چلی آئی جنہوں نے اپنے جنرل شوہر پر گولی چلا دی تھی جو کہ بہت بڑا حیران کن واقعہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عورت جو ایک ہی وقت میں بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کی بیوی یا داشتہ ہے دوسری طرف وہ پاکستانی جنرل کی گرل فرینڈ ہے جس سے ملکی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے کہ تاریخ میں ایسے لاتعداد واقعات موجود ہیں جس میں ایسی ویسی عورتوں کے ذریعے جاسوسی ہوئی ہے جس میں اسرائیل و عرب جنگوں میں خواتین استعمال ہوئی ہیں جس میں عیش عشرت میں مبتلا عرب حکمرانوں کو جنگوں میں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ہے یا پھر جنگ عظیم اول اور دوم میں ایسے واقعات پائے جاتے ہیں جس میں اوباش عورتوں کے ذریعے جاسوسی کرائی گئی ہے اس لیے ایسے موقع پر پاکستان کی سلامتی کے اداروں کو الرٹ ہونا پڑیگا کہ کہیں پاکستان کے سلامتی کے راز افشاں نہ ہو جائیں اس پر فوری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں اعلیٰ درجہ کا کمیشن بنایا جائے جو تحقیقات کرائے کہ اصل واقعہ یا کہانی کیا ہے کہ کہیں پاکستان دوبارہ 1971ء والی شکل میں نہیں پایا جارہا ہے کہ جب پاکستان پر جنرل رانیوں کا راج تھا بہرحال حامد میر کے اشاروں اور کنایوں پر انکشاف پر غور کرنا ہو گا۔ مخالفت میں حملوں کی بجائے جھانکنا ہو گا کہ پاکستان کو مسلسل کنجر خانوں، ڈنگر خانوں اور لنگر خانوں میں بدلا جارہا ہے۔ جو دنیا کی کمزور ترین ریاست بن چکا ہے جس کے ایٹمی اثاثوں کے راز غیر محفوظ نظر آتے ہیں جس کے لئے زیڈ اے بھٹو اور بے نظیر بھٹو اپنی قیمتی جانیں قربان کیں، ڈاکٹر قدیر کو تاحیات گھر بند قیدی رکھا جارہا ہے جبکہ ایٹمی دھماکے کرنے والے نواز شریف کا بار بار تختہ الٹا جاتا ہے وہ آج ایٹمی طاقت نیپال، افغانستان اور صومالیہ طرز کی ریاست بن چکی ہے جس پر عیش و عشرت کرنے والے حکمران قابض ہیں جن کا کسی قومی کمیشن کے ذریعے محاسبہ کرنا قومی فرض بن جاتا ہے ایسے میں جنرل فیض حمید کو فوری طور پر مستعفی یا برخاست کر کے تحقیقات ہونا چاہیے تاکہ سچ اور جھوٹ کا پتہ چل سکے کے اصل کہانی کیا ہے جو پاکستان کے عسکری اداروں کے اہم اہلکاروں کو پیش آرہی ہے چونکہ پاکستان کے طاقتورادارے ملکی آئین اور قانون سے بالاتر تصور کرتے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں قانون نافذ کرنے اور انصاف فراہم کرنے میں دقت پائی جاتی ہے جس پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول کہ معاشرہ کفر سے قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم سے نہیں جو پاکستان میں بار بار کیا جارہا ہے۔