کینیڈا میں ہونے والی مسلم مخالف دہشت گردی کا براہ راست ذمہ دار فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون ہے جسے تھپڑ مارا گیا

230

کینیڈا کے شہر لندن میں گزشتہ ہفتے ایک یہودی نژاد کینیڈین گورے کرسچین آدمی نے اسلام مخالفت پروپیگنڈے میں آ کر چہل قدمی کرنے والے چار پاکستانیوں کے اوپر ٹرک چڑھا دیا اور تین نسلوں کو ختم کر دیا۔ کرسچین دہشت گردی کی واردات اس ملک میں پیش آئی جہاں کی آبادی کا بڑا حصہ غیر ملکی تارکین وطن پر مشتمل ہے۔ کینیڈین پولیس اور لندن کے میئر کا کہنا ہے کہ ان چاروں پاکستانی مسلمانوں کو باقاعدہ پلان کے تحت مارا گیا ہے اور یہ دہشت گردی کی واردات ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹس ٹروڈو نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا اس سفاکانہ واردات سے وہ دہشت زدہ ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک دفعہ پھر دنیا کی توجہ اسلامو فوبیا کی طرف کرائی جس کے باعث لندن میں چار پاکستانیوں کی جانیں ختم ہو گئیں۔
اسلامک فوبیا کے سب سے بڑے پیروکار فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون ہیں جو ہر موقع پر مسلمانوں اور اسلام کے مخالفین جذبات کو فروغ دینے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ جب فرانس کے میگزین نے دوسری دفعہ رسول اکرم ﷺ کے خاکے چھاپے تو فرانس نے پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود اس شخص نے اس میگزین کو سراہا اور اس کے حق میں کھڑا ہو گیا۔ فرانس میں اسی شخص کی ایماء پر خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی لگا دی گئی۔ تازہ ترین مثال یہ ہے کہ حال ہی میں فلسطین میں اسرائیل کی بمباری کے خلاف پوری دنیا کی طرح جب فرانس میں خود فرانسیسی لوگوں نے مارچ نکالنے اور احتجاج کرنے کی کوشش کی تو اسی صدر نے اس پر پابندی لگا دی اور اسرائیلی حکومت کی فلسطینیوں کے خلاف بمباری کی حمایت کی۔ یہ میکرون جیسے لوگوں کے نفرت انگیز اور مسلم مخالف بیانات ہی ہیں جنہوں نے اس بیس سالہ کینیڈین لڑکے کو اسلام فوبیا سے بھر دیا اور اس نے پورے مسلم خاندان کو کچل ڈالا۔ یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ میکرون جیسے مغربی سربراہوں اور لیڈروں کی شدت پسندی کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ یورپ اور امریکہ میں اسلام فوبیا بڑھ رہا ہے بلکہ اس کے بے جا طرف داری اور اسرائیلی حمایت کا اثر یہودی مخالف گروپوں پر بھی پڑرہا ہے۔ این پی آر ریڈیو پر ہم سن رہے تھے کہ امریکہ میں اب امریکی عوام بھی اسرائیل اور یہودیوں کے خلاف کھڑے ہورہے ہیں۔ جیسا ایک طرف میکرون نے فلسطینیوں اور ان کے بچوں پر بمباری کر کے ہلاک کرنے کی حمایت کی تو اس کے ردعمل میں اب امریکہ میں امریکی عوام یہودیوں کو بے بی کلر (بچے مارنے والے) کے ناموں سے پکارتے ہیں اور اس ردعمل کے طور پر امریکی اور کینیڈا کے گورے اور یہودی مسلمانوں کے خاندانوں پر ٹرک چڑھا کر ان کے بچے ماررہے ہیں گویا کہ ایک شیطانی سائیکل یا گھیرائو کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس کا سہرا فی الوقت فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون سے جا کر ملتا ہے ۔ہمارے خیال میں لندن کا واقعہ بھی فرانسیسی صدر کے فروغ دئیے گئے اسلامی فوبیا کا نتیجہ ہے اورن چار مسلمانوں کے قتل کا براہ راست ذمہ دار میکرون ہے۔ بقول شاہ محمود قریشی یہ رحمت اللعالمین کا معجزہ ہے کہ جس شخص نے ہادی برحق کی شان میں گستاخی کی اور خاکوں کی اشاعت کی حمایت کی تھی اس شخص کے اپنے ہی ملک میں اسکے اپنے ہی فرانسیسی شہری نے اس کے منہ پر طمانچہ رسید کر دیا اور پوری دنیا اُسے دیکھتی ہے، کیا کسی ملک کے صدر کے لئے اس سے بڑھ کر بھی بے عزتی اور بے عزتی کا مقام ہو سکتا ہے؟۔