غلطیوں کا ازالہ ضروری ہے!

354

انسان کی حقیقت ایک پانی کے بلبلے سے زیادہ نہیں ہے۔ پھر بھی اتنی سی زندگی کے لئے وہ کتنے اخلاقی اور غیر اخلاقی کام کرتا ہے۔ خود محنت نہ کرنے والے دوسرے کی محنت سے حاصل کی گئی فارغ البالی سے حسد کرتے ہیں۔ اُسے لوٹ لینا چاہتے ہیں۔ دوسروں کی خوشیاں چھین کر اپنا گھر بھرنے والوں کا انجام بڑا اندوہناک ہوتا ہے۔ سب کچھ چھوڑ کر جانا ہے سوائے اعمال کے کچھ ساتھ نہ جائے گا۔ نیک، عقلمند، سمجھدار لوگ اس نکتے کو سمجھتے ہیں اور نصیحتوں ،دوسروں کے تجربات سے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بہت سے انسانیت سے انسیت رکھنے والے لوگ معاشرے سے برائیاں دور کرنے کے لئے اپنے ہم وطنوں کو سیدھی راہ دکھانے کے لئے اپنے بیش قیمت تجربات کا نچوڑ، تحریر، تقریر، مصوری کی صورت میں چھوڑ جاتے ہیں جن سے آنے والی نسلیں بھی استفادہ کرتی ہیں اور تخلیق کار ان کے ذہنوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
جو زندگی اصولوں اور ضوابط کے تحت گزاری جاتی ہے وہی کامیاب زندگی ہے۔ ورنہ حیات تو درندوں، چرندوں، پرندوں کو بھی ملتی ہے۔ ایسا انسان جس کی زندگی میں کوئی اصول نہیں وہ جانور سے بدتر زندگی گزارتا ہے۔ کوئی بھی خواہ وہ کسی مذہب، مسلک سے تعلق رکھتا ہو زندگی کے اصولوں کو دلیلوں سے ثابت کررہا ہو تو یہ مت سوچو وہ کون ہے، کیا ہے بلکہ اس پر غور کرو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ جو لوگ عقلمند ہوتے ہیں وہ نصیحتوں کے موتیوں کو چن لیتے ہیں اور اپنی زندگی کو انہی اصولوں پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ خود کو تجربات کی کھٹائیوں میں ڈالے بنا سب کچھ ذہن نشین کر لیتے ہیں لیکن بعض لوگ نہ سنتے ہیں نہ سوچتے ہیں اور ہمیشہ حالات کی چکی میں پستے رہتے ہیں۔ غور و فکر کی عادت سے انسان ترقی کی راہیں دریافت کر لیتا ہے اور کامیاب زندگی گزارتا ہے۔ زندگی میں کجی کیوں پیدا ہوتی ہے ،صحیح راستہ کیا ہے۔ غور و فکر سے ہی بہترین نتائج حاصل ہوتے ہیں۔قومیں اسی طرح اپنی خامیاں درست کر کے آگے بڑھتی ہیں اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہیے۔ اپنے نظام زندگی کو حسب ضرورت بدلنا اور مثبت طرز فکر کو اپنانا چاہیے۔ غلطی کہاں ہوئی، اس کو درست کرنا پڑے گا۔ جس نے دوسروں کے تجربات سے استفادہ نہیں کیا وہ خسارے میں رہا۔ آئیے کچھ غورکریں۔
سائوتھ افریقہ میں ایک یونیورسٹی گیٹ پر فکر انگیز جملے درج ہیں۔
’’کسی قوم کو تباہ کرنے کے لئے ایٹم بم یا میزائل گرانے کی ضروت نہیں بلکہ اس کے معیار تعلیم کو گرا دو۔ طالبات کو امتحانات میں نقل کرنے کی اجازت دے دو۔ وہ قوم خود تباہ ہو جائے گی‘‘ اس ناکارہ نظام تعلیم سے نکلنے والے ڈاکٹر کے ہاتھوں مریض مرتے رہیں گے۔انجینئر کے ہاتھوں عمارتیں تباہ و برباد ہو جائیں گی۔ معیشت دانوں کے ہاتھوں دولت ضائع ہو جائے گی۔ مذہبی رہنمائوں کے ہاتھوں انسانیت تباہ ہو جائے گی۔ جج کے ہاتھوں انصاف کا قتل ہو جائے گا۔ نظام تعلیم کی تباہی قوم کی تباہی ہوتی ہے۔
(یہ اقوال زریں اس کالم سے پہلے بھی تحریر ہو چکے ہیں لیکن پرمغز اور نصیحت آمیز کہاوتوں کا اعادہ کرنے میں تعمیر ہی ہے تخریب نہیں) آپ ذرا غور فرمائیے کیا اس معصوم ملک پر یہ ستم نہیں ڈھایا گیا۔ نوجوانوں کو سیاسی پارٹیوں کی پبلسٹی میں لگادیا گیا اور کہہ دیا گیا کہ ڈگری کی فکر مت کرو کیونکہ وہ تو بغیر امتحان دئیے مل جائے گی اور وہ جس شعبے کی تباہی کا باعث بنیں گے اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟ کیا یہ اس ملک میں نہیں ہورہا۔ ساٹھ کی دہائی کے بعد جناب بھٹو صاحب جب بہ نفس نفیس تشریف لائے تعلیمی اداروں کو قومیایا گیا تو کیا صورتحال ہوئی، اس کے نتائج قوم بھگت رہی ہے پتہ نہیں کب تک بھگتی رہے گی۔
اس ضمن میں سلطان صلاح الدین ایوبی کہتے ہیں ’’کسی ملک کو اگر بغیر جنگ کے جیتنا ہو تو وہاں کے نوجوانوں میں عیاشی کو فروغ دے دو، قوم اپنے آپ تباہ ہو جائے گی‘‘
اساتذہ طالبات کی عزتیں لوٹنے لگے، ڈاکٹر مریضہ کی بے حرمتی کرنے لگے۔ مولوی بھی خوف خدا سے عاری ہیں ۔مولوی صاحب کی بے ہودہ حرکتیں جاری ہیں۔ قوم پستی کے غار میں نہ گرے تو کیا ہو گا۔ دفتروں میں ملازمت کرنے والی خواتین کی الگ کہانیاں ہیں، سمجھ میں نہیں آتا اس قوم میں یہ بے راہ روی کیسے در آئی۔ ضمیر کا سودا کب ہوا۔ ہر شعبہ گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے۔ایسے جرائم فروغ پارہے ہیں جن سے دولت کمائی جا سکے۔
یہ تو بڑھتی ہی چلی جاتی ہے معیاد ستم
جز حریفاں ستم کس کو پکارا جائے
وقت نے ایک ہی نکتہ تو کیا ہے تعلیم
حاکم وقت کو مسند سے اتارا جائے
بھگوڑے کی بیٹی خیبرپختونخوا کے لوگوں کو اپنی درد بھری کہانی سنارہی ہے۔ پھولن دیوی پختونوں کی ماں، بہنوں کا ذکر کے جوش دلارہی ہیں۔ کیا تم لائق احترام ہو۔ لوگ تمہارے ماضی کو بھولے نہیں۔ نہ تم کسی عہدے کی اہل ہو نہ تمہاری تعلیمی قابلیت تمہیں آگے لا سکے گی۔ کہتی ہے ’’میں شیروں کی بیٹی ہوں‘‘ کتنے شیروں کی ان کی نام نہاد وضاحت بھی کر دو پھولن دیوی تو قوم پر احسان ہو گا۔ پختون ایسی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے ہیں۔