امریکا، پاکستان کے درمیان فوجی بیس پر بات چیت تعطل کا شکار

37

واشنگٹن: امریکا نے خطے میں فوجی بیس کے لیے پاکستان پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے حالانکہ چند امریکی عہدیداروں کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات فی الوقت تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی ‘سی آئی اے’ نے اس سے قبل بھی شدت پسندوں کے خلاف ڈرون حملے شروع کرنے کے لیے پاکستان میں ایک بیس کا استعمال کیا تھا، تاہم ‘2011 میں انہیں اس سہولت سے نکال دیا گیا تھا’ جب پاکستان کے ساتھ امریکا کے تعلقات خراب ہوئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘چند امریکی عہدیداروں نے اخبار کو بتایا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات ابھی تعطل کا شکار ہوچکے ہیں، دیگر نے کہا ہے کہ یہ آپشن اب بھی ٹیبل پر ہے اور معاہدہ ممکن ہے’۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم جے برنز نے حال ہی میں پاکستانی فوج کے سربراہ اور انٹر سروسز انٹلی جنس کے ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ سے ملاقات کے لیے اسلام آباد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا تھا۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ جے آسٹن کی بھی پاکستانی فوج کے سربراہ سے افغانستان میں مستقبل میں امریکی آپریشنز کے لیے ان کی مدد حاصل کرنے کے بارے میں متعدد مرتبہ ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ولیم جے برنز نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران بیس کا مسئلہ نہیں اٹھایا کیونکہ اس دورے میں انسداد دہشت گردی کے وسیع تعاون پر توجہ دی گئی تھی لیکن ‘امریکی وزیر دفاع کے کچھ مباحثے زیادہ براہ راست رہے ہیں’۔

امریکا کو اڈہ دینے میں پاکستان کی ہچکچاہٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ ‘اسلام آباد حکومت کی جانب سے پاکستان کے کسی بھی بیس کو طالبان کے خلاف امریکی حملوں کے لیے استعمال کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان نہیں ہے’۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.