پاکستانی میڈیا کے فرعون، حامد میر کو جیل میں ہونا چاہیے!!

58

دو دن پہلے حامد میر نے صحافیوں اور میڈیا کے سامنے ایک نفرت انگیز تقریر کی، مسئلہ تھا ایک صحافی طور پر تشدد کا کسی نے گھر میں گھس کر اس کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ حامد میر جیسے صحافیوں کی عادت ہے وہ ہر بات کو آئی ایس آئی سے جوڑ دیتے ہیں۔ جب اس پر گولی چلی تو جیو چینل نے ہنگامہ مچا دیا۔ اس وقت کی آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقریریں اپنے چینل پر چلا چلا کر فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف نفرت انگیز محاذگرم کر دیا۔ اس کے اینکروں نے خاندان کے لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی یہ سب حامد میر کی زبان بند کرنے کے لئے ہے اسی لئے اس کی جان لینے کی کوشش کی گئی ہے لیکن چند ہفتہ پہلے جب آرمی چیف کی ایک دعوت یا بریفنگ میں حامد میر نے اپنے اوپر گولی چلنے کے واقعے کا ذکر کیا تو جنرل باجوہ نے سارے صحافیوں کے سامنے حامد میر کو جواب دیا آپ کو بھی پتہ ہے کہ آپ پر گولی کس نے چلائی ،ہم کو بھی پتہ ہے آپ پر گولی کس نے چلائی، اس پر حامد میر خاموش ہو گیا، یہ ہے سچائی اور اس ڈرامہ کا انجام اس دن جو فلم چلی اس میں دو کردار اور بھی سامنے آئے ایک منیزے جہانگیر دوسرے عاصمہ شیرازی دونوں نے بہت نفرت انگیز تقریریں کی، منیزے جہانگیر کو تو اپنی ماں عاصمہ جہانگیر کا بہت زعم ہے کہ وہ اس کی بیٹی ہے لیکن ہر ماں یا باپ کی اولاد ماں یا باپ کی طرح نہیں ہوتی، منیزے نے اپنی ماں کے نام پر اینکر بننے کی کوشش کی وہ اس معیار کی اینکر ہی نہیں ہے کہ اس کا پروگرام دیکھا جائے بس ماں کے نام پر دیہاڑی لگ رہی ہے، لگاتے جائو اور مال بناتے جائو عاصمہ شیرازی کے متعلق سب کو پتہ ہے کہ وہ نواز شریف کے لفافہ پروگرام میں شامل ہیں چینل بدلنے میں وہ ماہر ہیں۔ بول ٹی وی پر گئیں لیکن ڈر کر بھاگ آئیں حکومت کے ایکشن کے ڈر سے بول ٹی وی سے بہت سے صحافی کامران خان سمیت واپس آئے اس میں سمیع ابراہیم تھے، مبشر لقمان تھے لیکن دوبارہ عوام میں وہ مقبولیت نہ حاصل کر سکے، بول میں بہت سے اینکر آئے اور مقبولیت حاصل کی اس میں ڈاکٹر صاحبہ سب سے آگئے نظر آتی ہیں، انہوں نے بھی اسد طور کے معاملے میں حامد میر کی دھجیاں بکھیر دیں۔
اصل میں حامد میر کا مسئلہ یہ ہے وہ کافی دنوں سے دفاعی اداروں کی نظر میں ہے، فوج کو وہ دھمکیاں دیتا ہے، جنرل رانی کاوہ ذکر کرتا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے جنرل رانی اس کی نانی ہے، وہ فوجیوں کے گھر میں گھس کر ان کی تصویریں شائع کرنے کی بات کرتا ہے لیکن اس کو نہیں معلوم اس کے گھر کے آس پاس بھی کیمرے لگے ہوئے ہیں کون کون ملک کے خلاف سازش کرنے اس کے پاس آتا ہے امن کی آشا میں بھارت سے اس کو کتنا مال ملا ہے جب وہ جی این این ٹی وی میں کچھ عرصہ کیلئے گیا تو وہ جیو سے بھی پیسے لیتا رہا یہ ریکارڈ پر موجود ہے اس کی ہرزہ سرائی پر جیو ٹی وی نے اس کا پروگرام بند کر دیا ہے، کتنے دن کے لئے یہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا لیکن اب شائد حامد میر کا آخری وقت آگیا ہے۔ عوام نے اس کو مسترد کر دیا ہے صحافتی تنظیم نے آج اس کے خلاف بیان دیا ہے اور پریس ریلیز میں اس کے خلاف ساری تفصیلات دی گئی ہیں۔ اگر آپ غور سے پاکستانی میڈیا اور اینکرز کو دیکھیں تو اس کی نسل اور سوچ کے صرف دس پندرہ ہی صحافی ملیں گے، اس میں مطیع اللہ جان جیسے صحافی بھی ہیں جو خود کو غائب کرواتے ہیں اور خود ہی گھر پہنچ جاتے ہیں، یہ پاکستانی میڈیا کا المیہ ہے کہ ملک دشمن صحافیوں کی زیادہ پرجیکشن کی جاتی ہے ورنہ یہ دو ٹکے کے لوگ ہیں جو ملک اور دفاعی اداروں کے خلاف بیان دیتے ہیں اور دفاعی ادارے ضبط اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان کو چھوڑتے جاتے ہیں ورنہ ان سب ملک دشمن صحافیوں کو جیل میں ہونا چاہیے، صحافت کا نام ہے خبر دینا، غیر جانبداررہنا، عوام کو ملکی مسائل سے آگاہ کرنا تاکہ عوام حکمرانوں کا محاسبہ کر سکیں اور حکومت ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے، صحافت کا کام حکومتی کارروائیوں پر نظر رکھنا ہوتا ہے نہ کہ اس میں فریق بننا ،صحافت بہت معزز پیشہ جانا جاتا ہے، صحافیوں کے ایک ایک لفظ کو ملک کے عوام بہت غور سے سنتے ہیں اور اس کو اہمیت دیتے ہیں، اس ملک میں صحافت بلیک میلنگ کا نام ہے، فوج کو گالیاں دینے کا نام ہے، مال کمانے کا نام ہے کل رفیق افغان کا مکان بلدیہ کے لوگ سپریم کورٹ کے حکم پر ہل پارک کراچی کے ایریا میں گرارہے تھے جو غیر قانونی زمین پر بنا ہوا تھا، رفیق افغان کون؟ روزنامہ ’’امت‘‘ کے ایڈیٹر اور مالک صلاح الدین مرحوم کے داماد ہفتہ وار ’’تکبیر‘‘ بھی ان کی ہی ادارت میں شائع ہوتا ہے، یہ ہے صحافیوں کے کام صلاح الدین مرحوم کتنا ایماندار شخص جو سڑکوں پر پین اور چھوٹی چھوٹی چیزیں بیچتے بیچتے اتنے بڑے ہفت روزہ کا مالک بن گیا اس نے ایم کیو ایم کا دبائو کراچی میں قبول نہیں کیا اور اس کو شہید کر دیا گیا، حکومتی اداروں کو حامد میر کے خلاف سخت ایکشن لینا چاہیے اور اس کو جیل میں ڈالنا چاہیے تاکہ کسی اور صحافیوں کو ملک اور فوج کے خلاف بکواس کرنے ہمت نہ ہو، حامد میر کو نشان عبرت بنا دینا چاہیے، ملک کے محافظوں کے خلاف نازیبا الفاظ ادا کرنا قانوناً جرم ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.