کون ہیں یہ نامعلوم افراد؟

60

چند روز پہلے اسلام آباد میں ایک آن لائن صحافی، اسد علی طور، پر دن دہاڑے حملہ ہوا اور حملہ بھی کہاں ان کے گھر کے اندر ہوا جب خبروں کے مطابق تین نامعلوم افراد نے ان کے گھر میں گھس کر انہیں زد وکوب کیا، مارا پیٹا اور جب اپنے دل کی بھڑاس نکال چکے تو انہیں، بعد تشدد، زبانی دھمکیاں دے کر جیسے آرام سے آئے تھے ویسے ہی اطمینان سے فرار ہوگئے!
ہمارے ہاں یہ نامعلوم افراد کی اصطلاح بہت عام استعمال ہوتی ہے اور ان کیلئے ہوتی ہے جن کی شناخت کوئی نہیں ہوتی، کوئی نام نہیں ہوتا اور یہ بھی عام ہوتا ہے، جیسا کہ اسد علی کے ساتھ ہوا کہ ان کے حملہ آور منہ پر ڈھاٹے باندھے ہوئے تھے!
ویسے تو فی زمانہ کرونا کے کرم یا ستم نے دنیا بھر کے منہ پر بلا تفریقِ رنگ و نسل، جنس و مذہب، نقاب پہنادئیے ہیں اور سب کو ایک ہی رنگ میں رنگ دیا ہے لیکن جہاں تک ان نامعلوم افراد کا معاملہ ہے تو ان کا روایتی اوزار یا ہتھیارآج سے نہیں بلکہ ایک عرصے سے وہی ڈھاٹے ہیں جو اسد علی پر حملہ کرنے والے باندھ کر آئے تھے۔
یہ مسئلہ ان نامعلوم افراد کا نہیں ہے کہ وہ کیا پہن کے یا کیا باندھ کر آئے تھے۔ وہ تو اپنی شناخت خفیہ رکھنا چاہتے تھے لہذا انہوں نے وہی روپ دھارا جو ان کے چہرے چھپاسکتے تھے اور اس میں وہ کامیاب بھی رہے۔ لیکن مسئلہ تو اصل میں حکومت کا ہے، اس عمران حکومت کا ہی نہیں بلکہ اس سے پہلے۔
آنے والی سب حکومتوں کا ہے کہ برسہا برس سے یہ سلسلہ جاری ہے اور بہت عام ہے کہ نامعلوم افراد آتے ہیں، اپنا کام کرتے ہیں، کسی کو مار پیٹ کے چلے جاتے ہیں، کسی کو اغوا کرکے لیجاتے ہیں اور، بسا اوقات، اپنے ہدف کا کام تمام بھی کرجاتے ہیں لیکن آجتک کوئی حکومت، کوئی انتظامیہ، کوئی سرکار، انہیں بے نقاب نہیں کرسکی!
سوچنا پڑتا ہے کہ یہ انسان ہیں یا کوئی آسمانی مخلوق کہ جو آتی ہے اور اپنے پیچھے کوئی سراغ، کوئی نشان چھوڑے بغیر انتہائی صفائی سے اپنا کام کرکے غائب ہوجاتی ہے؟
یا پھر یہ حکومتوں اور ان میں کام کرنے والوں اور پالیسی سازوں کی منہ بولتی ناکامی ہے کہ وہ آجتک اتنی سی بات کا بھی سراغ نہیں لگاسکے کہ یہ ہیں کون جو ہوا کی طرح آتے ہیں اور کسی گھر کا دیا بجھاکے نو دو گیارہ ہوجاتے ہیں کہ گھر والے اپنے سر پیٹتے رہ جاتے ہیں لیکن بس نامعلوم افراد کا ایک موہوم سا نام رہ جاتا ہے اور بس؟
یا پھر یہ کہنے پر لوگ مجبور ہوجاتے ہیں کہ حکومتِ وقت یا تو واقعی مکمل طور پہ نااہل ہے یا پھر یوں ہے کہ حکومت ان کا سراغ لگانا ہی نہیں چاہتی یا پھر، بصورتِ دیگر، حکومت کو یہ اجازت ہی نہیں ہوتی کہ وہ سراغ لگاسکے کہ یہ نامعلوم افراد ہیں کون، اس دنیا کے ہیں یا پھر واقعی کوئی آسمانی مخلوق ہیں؟
ہمارے دوست عقیل عباس جعفری، جن کا نام اردو ادب کے حوالے سے بہت معتبر ہیں انہوں نے تو اس موضوع پہ بہت عمدہ ایک نظم بھی کئی سال پہلے کہہ دی تھی، کئی سال پہلے یوں کہ، جیسا کہ ہم نے کہا، یہ سلسلہ، نامعلوم افراد کی کارروائیوں کا کوئی آج کا تو ہے نہیں برسوں سے یونہی چلا آرہا ہے لیکن سب سے تکلیف دہ حقیقت اس معاملہ میں یکے بعد دیگرے حکومتوں کی ناکامی کی ہے۔ ویسے تو پاکستانی سیاست اور اقتدار کی یہ بہت تلخ حقیقت ہے، بلکہ روایت ہے جو اس بار بھی دہرائی گئی کہ حکومت اپنی ناکامی کا نہ اقرار کرتی ہے نہ یہ مانتی ہے اس میں اس کا کوئی قصور ہے!
لیکن ایک ایسی حکومت کے دور میں، جو یہ نعرہ لگا کے آئی تھی، اور آج تک لگارہی ہے، کہ وہ پرانے پاکستان کی ہر قباحت کو دور کردیگی اور ایک نیا، روشن اور صاف شفاف پاکستان بنائیگی جسمیں کچھ بھی نامعلوم نہیں ہوگا، یہ بات بہت کھلتی ہے کہ عین اس کی ناک کے نیچے، دارالحکومت اسلام آباد میں ہی چھہ ہفتوں میں یہ دوسرا واقعہ ہے کہ نامعلوم افراد نے کسی صحافی کو زد وکوب کیا ہے۔ اس سے پہلے، پچھلے مہینے ایک بہت معروف اور متنازعہ صحافی، ابصار عالم، کے ساتھ بھی ایسا ہی حادثہ ہوا تھا جیسا اسد طور کے ساتھ پیش آیا ہے۔ اسد طور تو اتنے معروف نہیں ہیں جتنے ابصار عالم صاحب ہیں کیونکہ وہ اپنے مُربّی نواز شریف کے دور میں پیمرا کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں، خاصے بدنام ہیں لیکن بدنامی کسی کو ان کے خلاف زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
ایسے واقعات میں پاکستان میں یہ بھی روایت ہے کہ نامعلوم افراد کا جہاں نام آئے شبہ کی سوئی فوری پاکستان کی معروف خفیہ ایجنسی، یعنی آئی ایس آئی، کی طرف گھوم جاتی ہے۔ اس بار بھی یہی ہوا جس کے سبب اس ادارے نے وقت ضائع کئے بغیر ایک وضاحتی اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اس کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ابھی، یہ سطور لکھتے ہوئے، ہم نے وزیر داخلہ شیخ رشید کا یہ بیان بھی سنا کہ آئی ایس آئی پر الزام تراشی ان افراد کا کام ہے جو ہر طرح سے یہ چاہتے ہیں کہ ریاستِ پاکستان کے اہم اداروں کو جب موقع ملے بدنام کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس ایسے شواہد آچکے ہیں جن سے اس واقعہ میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنا ممکن ہوگا اور ان کے چہروں سے نقاب اتارے جاسکیں گے!
شیخ رشید کے منہ میں گھی شکراگر واقعی وہ جو کہہ رہے ہیں کرسکیں کہ نامعلوم افراد کو معلوم کرسکیں یا ان کا کھوج لگا کر دنیا کو ان کے چہرے دکھا سکیں تاکہ قوم کو اس بے نامی جرائم کی بلا سے نجات ملے اور عوام یہ کہہ سکیں کہ ہاں، پاکستان میں حکومت نام کی کوئی شیٗ ہے، کوئی قوٌت ہے جو جرائم کا ارتکاب کرنے والوں تک پہنچ سکتی ہے اور انہیں ان کے جرائم کیلئے جوابدہ قرار دے سکتی ہے!
پاکستانی قوم اس اعتبار سے واقعی مظلوم ہے کہ وہ اپنی ہی حکومتوں اور اپنے ہی اداروں کے ہاتھوں لٹتی اور بیوقوف بنتی رہی ہے اور اس کی آہیں اور فریادیں تا حال بے اثر رہی ہیں۔ دیکھا جائے تو اپنوں کے ہاتھوں ستایا جانا، یا لوٹا جانا، غیر کے ہاتھوں لٹنے اور برباد ہونے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ لیکن حوصلہ ہارنا بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ پاکستانیوں کو بھی حوصلہ نہیں ہارنا چاہئے اگرچہ نامعلوم افراد کی چیرہ دستیوں کو سہنا آسان بات نہیں ہے اور اس کے ساتھ یہ خیال ذرائع ابلاغِ عامہ سے متعلق دیگر افراد کے خلاف ایسی کھلی جارحیت یہی گمان پیدا ہوتا ہے اور اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ شاید حکومت یا اگر حکومت نہیں تو ریاست سے متعلق سربرآوردہ ادارے آزادیٔ تحریر و تقریر سے خوش نہیں ہیں اور زبان و قلم پر بندشیں لگانا چاہتے ہیں۔
بندشیں کیوں لگانا چاہتے ہیں، کیوں زباں بندی ان کا ہدف ہے اس کا جواب تو وہی دے سکتے ہیں جن کی ایسی بیمار سوچ اور فکر ہے ورنہ تاریخ کا سبق تو یہی ہے کہ طاقت کا بیجا استعمال صرف وہ کرتے ہیں جن کا اپنا موقف سچا نہیں ہوتا، کمزور ہوتا ہے اور اس کمزوری کو چھپانے کیلئے وہ طاقت استعمال کرتے ہیں۔ لیکن تاریخ یہ بھی جتاتی جاتی ہے کہ بالاخر جیت اسی کی ہوتی ہے جو حق پر ہو!
ہمیں اپنے بزرگوں کی کہی ہوئی بات یاد آتی ہے جو وہ بہت سادگی سے کہا کرتے تھے کہ، میاں، پتنگ اُسی کی کٹتی ہے جس کا مانجھا خراب اور ڈھیلا ہوتا ہے۔
اور یہ بات کائنات کا پیدا کرنے والا اپنے الفاظ میں یوں کہتا ہے، جاٗ الحقٌ زھق الباطل، ان الباطل کان زھوقا!
اور دور کیوں جائیے۔ ابھی ہمارے سامنے کی مثال ہے ہمارے مظلوم فلسطینی بھائیوں کی جو صیہونی مظالم اور ستم کے خلاف سینہ سپر ہوگئے۔ وحشیانہ بمباری کی اسرائیل کے فرعون صفت وزیر اعظم نیتن یاہو نے نہتے اور بے دست و پا محصورینِ غزٌہ کے خلاف ظلم کی انتہا کردی لیکن مظلوم اپنے حق کے ساتھ ڈٹے رہے اور آخرِ کار باطل نے، ظلم و ستم نے ان نہتے سچوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے۔ بات صرف اس پر ہی ختم نہیں ہوئی کہ گیارہ روز کی بربریت کے بعد اسرائیلی توپیں اور طیارے خاموش ہوگئے اور اسرائیل کے کھلے اور درپردہ حمایتیوں کی مداخلت سے مظلوموں پر توڑا جانے والا ستم رک گیا۔ نہیں اس کے ساتھ ہی اب اس ملک میں جو اسرائیل اور صیہونیت کا سب سے بڑا حامی اور سرپرست ہے اور جس کی طرف سے صیہونی ریاست کو ہر سال چار ارب ڈالر کا اسلحہ اور ہر قسم کے مہلک ہتھیار تحفہ میں دئیے جاتے ہیں، وہی اسلحہ اور ہتھیار جو غزٌہ کے مظلوموں کے خلاف استعمال ہوا، وہاں بھی اب ظالم کے ظلم کے خلاف اور مظلوموں کی حمایت میں مظاہرے ہورہے ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اپنے اندر تحریک شروع ہوگئی ہے کہ امریکہ صیہونی ریاست کو یوں جارحیت کیلئے اسلحہ اور ہتھیار دینا بند کردے۔
لیکن فلسطین کے مظلوموں کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے اور قدرت کی طرف سے ان کی حمایت کا واضح اشارہ کہ جیسے قومِ موسی پر ستم ڈھانے والا فرعون سمندر میں غرق ہو کر قیامت تک کیلئے ہر فرعونِ زمانہ کیلئے نمونہٗ عبرت بن گیا اسی طرح آج قدرت نے اسرائیل کے فرعون کو بھی ذلت اور رسوائی اُس کا مقدٌر کردی ہے۔ نیتن یاہو کی بارہ سالہ وزارت کا دور ختم ہونے کو ہے اور کرپشن کے جو مقدمات اس کا انتظار کررہے ہیں کہ وزارت کی پناہ سے نکل کر وہ کب عام شہری بنتا ہے اور انصاف کے کٹہرے میں آتا ہے، جہاں ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ کئی برس کی قید اور ہمیشہ کی رسوائی کا داغ اس کا مقدٌر ہوگی، اس کے بعد تو یہ فرعون بھی رہتی دنیا تک کیلئے سامانِ عبرت بن جائے گا اور تاریخ جب اس کا ذکر کریگی ذلت اور تحقیر کے ساتھ کرے گی۔قدرت ہر اس فرعون کیلئے یہی انجام مقرر کرتی ہے جو خود کو خدا سمجھنے لگتا ہے، وہ چاہے کسی بھی ملک و قوم کا ہو، کسی بھی مذہب یا مسلک کی چھاپ اس پر لگی ہوئی ہو!
چلتے چلتے اس مسلسل غزل کے چند اشعار اس حقیر کی طرف سے ہدیہ کے طور پہ لیتے جایئے جو فلسطین کے عنوان سے ہونے والے ایک حالیہ آن لائن مشاعرہ کیلئے میں نے کہی تھی:
فلسطیں نے ضمیرِ نظمِ عالم کو پکارا ہے
یہ پوچھا ہے کوئی مظلوم کا بھی کیا سہارا ہے
ہے کوئی رِستے زخموں کی مسیحائی کا ضامن بھی
ہے کوئی ایسا جس کو کہہ سکیں، ہاں یہ ہمارا ہے
درندے خون سے مظلوم کے ہولی مناتے ہیں
ہیں دم سادھے ہوئے پنڈت یونہی ان کا گذارہ ہے
سفیرانِ حرم کو بھی تو کوئی اس گھڑی دیکھے
مدد کرتے ہیں ظالم کی اسے ان کا اشارہ ہے
زمیں کس کی تھی اور کس کو ملی، کس سے ملی، سوچو
یہ بندر بانٹ کیسے ہوگئی سب آشکارا ہے
زمیں کے بیٹے خود اپنی زمیں پر بے وطن ٹہرے
نظامِ عدلِ نو کا کیا انوکھا استعارہ ہے!!

Leave A Reply

Your email address will not be published.