چار فی صد!!

52

یہ شکوہ رہا کہ پاکستان کو کوئی سنجیدہ سیاست دان ملا نہیں، سب کے سب شعبدہ باز اور کرتب دکھانے والے، عوام دوست بھی نہیں اور ملک سے محبت کرنے والا بھی نہیں، ہر چند کہ پاکستان کا نابالغ میڈیا سب کو ہی حب الوطنی کی اسناد تقسیم کرتا رہا مگر حقائق اس کے برعکس ہی رہے، کوئی کام ایسا نظر نہیں آیا جو ملک و قوم کے لئے باعثِ فخر ہو، یہ سچ ہے کہ پاکستان کے ابتدائی ایام تکلیف دہ تھے مگر نوآبادیاتی نظام کے ٹوٹنے کے بعد اس ملک کا نام بتا دیا جائے جس کو آزادی ملنے کے بعد سونے کے ذخائر مل گئے ہوں، ابتدا سے ہی ایسا طرزِ عمل اختیار کیا گیا جو سائنسی عمل نہیں کہا جا سکتا، اگر سائنسی عمل شروع ہوتا تو یہ بھی اعتراف کیا جا سکتا تھا کہ حکمران سائنسی انداز میں سوچتے ہیں، ایسا ہوا ہی نہیں، ایک کہانی سنائی جاتی ہے کہ لیاقت علی خان کو بتایا گیا کہ دہلی کا ایک شخص ہے جو غیر ملکی کرنسی چھاپنے کا ماہر ہے اور اس کا نام عبدالرزاق ہے، لیاقت علی خان کو ترغیب دی گئی کہ وہ اس کا کام دیکھ لیں، لہٰذا موصوف نے اس سے مری میں ملاقات کی، مری اس زمانے میں بہت ویران ہوتا کرتا تھا اس ویرانے میں عبدالرزاق نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور کرنسی کے ماہرین اصلی اور جعلی کرنسی میں فرق سے قاصر رہے کہانی کا آخری حصہ یہ بھی تھا کہ لیاقت علی خان نے اس شخص کو یہ کام کرنے سے منع کر دیا تھا مگر کہانی کا یہ حصہ قابل اعتبار ہے نہیں، سوال یہ ہے کہ مری میں اس شخص سے ملاقات اور اس شخص کے فن کے کمالات دیکھنے کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی خدمات حاصل نہ کی گئی ہوں گی اور اس بات سے قطعاً انکار ہو ہی نہیں سکتا کہ جن کلاکاروں نے یہ ملاقات ترتیب دی ہو گی انہوں نے بھی عبدالرزاق کو استعمال نہ کیا ہو گا، اسی طرح کہا جاتا ہے کہ ابتدائی ایام میں ملک کے کچھ اسمگلروں کو اجازت دی گئی کہ وہ ملک سے کچھ بھی لے جائیں مگر اس کے بدلے سونا ملک میں لانا ہو گا، ایک نامی گرامی اسمگلر یہ کام کرتا رہا مگر جب طالع آزما کے بیٹوں نے اس سے حصہ طلب کیا اور اس نے انکار کیا تو اس کو قتل کرادیا گیا، اس نے کورنگی نمبر ایک کے قریب ایک مسجد بھی بنوائی تھی جس میں اس کی فیاضی پر اس کو دعائیں دی جاتی تھیں، یہ کہانیاں ہی سہی مگر ایسی کہانیوں کے پیچھے کچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہے، ایسا بھی نہیں کہ اس وقت کی اپوزیشن نے یہ کہانیاں گھڑ دی ہوں، شاطر لوگ تو تھے مگر پھر بھی الزام لگانے کا ایسا چسکا ہرگز نہ تھا جیسا ان دنوں اپوزیشن کو ہے۔
سائنسی ذہن رکھنے سے مراد یہ ہے کہ ملک کے سربراہ کو ملکی معیشت درست کرنے کے لئے کم از کم اپنے ملک کے معاشی مسائل کا ادراک ہو اور یہ بھی کہ ملکی وسائل کیا ہیں اور ان کو ترقی کے لئے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے، شروع ہی سے پاکستان کے تمام حکمرانوں پر خوف طاری رہا کہ مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ ہے اور وہ اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کی سیاست اور وسائل پر قابض ہو جائیں گے، یہ ذہن سب سے پہلے پنجاب میں بننا شروع ہوا اور پھر مغربی پاکستان کے دو بڑے صوبے بھی پنجاب کے ہم نوا بن گئے اور پھر سوچا جانے لگا کہ ان سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا جائے اس ادھیڑ بن میں مسائل اور وسائل پر غور کون کرتا، ایوب خان کے دور میں بے مثال معاشی اور صنعتی ترقی دیکھنے میں آئی، معاشی ترقی کا وہ سنہرا دور تھا، آپ ایوب کے مارشل لاء اور اس کے طریق حکومت و سیاست سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر معاشی ترقی سے انکار ممکن نہیں، شعیب معاشیات کا جادوگر تھا اس نے تین پانچ سالہ منصوبے کامیابی سے ہم کنار کر کے دنیا کو حیران کر دیا، جب اس کو نظر انداز کیا گیا تو وہ ورلڈ بنک میں واپس چلا گیا، اس کے بعد کوئی وزیر خزانہ ان رفعتوں کو چھو نہ سکا، اس کے بنائے ہوئے پانچ سالہ منصوبوں کے بلوپرنٹ کوریا کو دئیے گئے اور کوریا کی کایا پلٹ گئی، بھٹو بہت ذہین سہی مگر اس نے دانستہ ملک کی معیشت تباہ کر دی، اس سے بڑ ادھوکہ کسی سیاست دان نے نہیں دیا، معیشت بہت سست رفتاری سے سفر کرتی ہے مگر اس کی رفتار ماپی جا سکتی ہے اور معیشت کے اشارئیے دھوکہ نہیں دیتے ظاہری INDICATORSمیں بالواسطہ طور پر GDP میں اضافہ ہوتا ہے یہ اشاریہ بتاتا ہے کہ ملک کے مختلف طبقات کی آمدنی کیا ہے اگر لوئر کلاس اور مڈل کلاس اچھے صارف پیدا کررہا ہے اور قیمتوں میں توازن ہے اور مارکیٹ متوازن ہے تو آمدنی کو شرحِ ترقی مان لیا جاتا ہے بشرطیکہ تعلیم، صحت اور روزگار میں اضافے کا رجحان، MARCOاور MICRO ECONOMICSمیں فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ PER CAPTA INCOMEبتاتی ہے کہ فرد کی آمدنی کیا ہے، TOTAL GDPغلط اشاریہ ہے یہ سارے ملک کی آمدنی کا مظہر ہوتا ہے، یہ پورے ملک کی آمدنی کو ظاہر کرتا ہے طبقات کی درجہ بندی کئے بغیر کل آمدنی کے اعداد پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔
اس وقت عمران حکومت نے ہیٹ سے کبوتر نکالنے کی کوشش کی ہے ہم تین سالوں سے معیشت کا حال دیکھ رہے ہیں، ایک کروڑ سے زیادہ افراد سے زیادہ خطِ غربت کے نیچے چلے گئے، یہ تعداد ملکی آبادی کا پانچ فیصد بنتا ہے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا خطِ غربت سے نیچے چلے جانا تشویشناک ہے ولیوں کی یہ کرامات تو لوگوں نے سنیں اور کبھی حیران بھی ہوتے تھے اور یقین بھی کر لیتے تھے کہ پیر صاحب نے کہا اور دیوار چل پڑی، ولی نے شیر پر سواری کی اور پیر صاحب نے شہر پر پرواز کی، مگر اب ان کہانیوں پر لوگ ہنستے ہیں عمران نے بھی یہ سمجھا کہ لوگ ان کی اس کرامت پر یقین کر لیں گے جب وہ خوش خبری سنائیں گے کہ معیشت چار فیصد کی رفتار سے ٹیک آف کر چکی ہے، اس شخص کو کسی بات کی کوئی سمجھ ہے ہی نہیں اور معاشیات تو ہے ہی بہت پیچیدہ، یہ سچ ہے کہ ٹیکس زیادہ جمع ہوا، باہر رہنے والوں کے REMITTANCESبھی بڑھ گئے مگر ملک میں صنعت کا پہیہ نہیں چل رہا ہر چند کہ سرکلر قرضوں کی ادائیگی ہوئی ہے مگر اصل دستاویز تو BALANCE SHEETہے جو توازنِ ادائیگی ظاہر کرتی ہے کہ ملک نے کیا درآمد اور کیا برآمد، اگر برآمدات کا حجم درآمدات سے زیادہ ہے تو کہا جائیگا ECONOMIC GROWTHہورہی ہے اگر ایسا نہیں تو یہ سراسر دھوکہ ہے بات یہ ہے کہ پاکستان میں امیر امیر تر ہوتا چلا جارہا ہے اور غریب غریب تر، مگر عمران امیروں کی کمائی ہوئی دولت اور غریبوں کی آمدنی کو ملا کر دیکھ رہے ہیں اور قوم کو خوش خبری سنارہے ہیں، عمران بیچارے کو کیا پتہ کہ بیوروکریسی اس کے ساتھ کیا گیم کھیل جاتی ہے، عمران کو پتہ ہونا چاہیے کہ معیشت میں ایک فی صد اضافہ بھی خاص معقول وقت لیتا ہے، عمران کی چار فیصد گروتھ اس کی عقل کا ماتم کررہی ہے، یہ جھوٹ کا پلندہ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.