خوش کیسے رہا جائے!!

57

زندگی بہت مشکل ہوتی ہے، کتابی باتوں کے حساب سے زندگی آسان ہوتی ہے، ایسا صرف عموماً فلموں میں ہوتا ہے جہاں Happy Endingہوتی ہے تین گھنٹے میں لیکن اصل میں نہ کوئی بیک گرائونڈ میوزک ہوتا ہے اور نہ ہی ہر تھوڑی دیر میں کوئی گانا شروع ہو جاتا ہے جس میں آپ کے پیچھے سو ڈانسرز آپ کے ساتھ ڈانس کررہے ہوتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ زندگی میں آپ کے پیچھے سو لوگ تو ہوتے ہیں مگر وہ آپ کے اشاروں پر ناچ نہیں رہے ہوتے البتہ اپنے اشاروں پر آپ کو نچانے پر ضرور آمادہ ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی جب انہیں پیچھے کھینچے کا موقع ملتا ہے تو وہ اُسے بھی کبھی جانے نہیں دیتے۔
زندگی مشکل ہے یہ بچپن سے ہی پتہ چلنا شروع ہو جاتا ہے جب آپ کے سکول میں داخلے کی مشکل درپیش ہوتی ہے۔ ماں باپ پریشان ہوتے ہیں کہ کیسے آپ کا داخلہ کسی اچھے سکول میں کروادیا جائے۔ بچے کو انگریزی کی پریکٹس کروائی جاتی ہے ایک پانچ سال کا بچہ سینکڑوں بچوں سے مقابلہ کررہا ہوتا ہے۔ اب غلطی سے آپ کا داخلہ اس خاص سکول میں نہ ہو جہاں آپ کے والدین چاہتے تھے تو آپ کو طعنہ ’’دیکھو اس کو تو کچھ آتا ہی نہیں ہے‘‘ اب دماغ میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پانچ سال پہلے تک تو میں تھا ہی نہیں اب مجھے کچھ نہیں آتا تو میرا کیا قصور؟
چلیے جیسے تیسے کر کے آپ کاایڈمیشن کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی سکول میں ہو جاتاہے تو پھر ہر کچھ دن میں ٹیسٹ اور پھر یہ دبائو کہ ہر امتحان میں ہائی نمبر لے کر آنے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ پریشر تو کلاس کے تیس کے تیس بچوں پر ہے اور فرسٹ صرف ایک کو آنا ہے۔اگر آپ بارہویں نمبر پر آتے ہیں تو بھی اٹھارہ سے تو بہتر ہیں لیکن نہیں گھر والوں اور رشتہ داروں کو آپ گیارہ سے پیچھے ہی لگتے ہیں اور اسی وجہ سے آپ ہر سال امتحان کے رزلٹ کے وقت اپنی مشکل سی زندگی کو لے کر چھپے رہتے ہیں کہ کہیں کوئی رشتے دار نہ پوچھ لے کہ ’’بیٹا کیا پوزیشن آئی ہے؟ چلیے پوزیشن کی بات ہورہی ہے تو اس کا اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے پڑھائی کے بعد یعنی سکول کالج کے بعد جب آپ پروفیشنل لائف یعنی عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو آپ پر پریشر ہوتا ہے کہ آپ ایک اچھی پوزیشن برقرار رکھیں، اچھی نوکری، بڑا گھر، گاڑی، اس ریس میں کبھی کبھی زندگی اتنی بھاری لگنے لگتی ہے، یوں لگتا ہے کہ انہی میں دب کر کہیں دم نہ نکل جائے۔
آپ کچھ بھی کر جائیں لیکن سوسائٹی آپ کو یہی سمجھانے کی کوشش کرتی ہے کہ آپ وہی بچے ہیں جو پہلے بھی گیارہ لوگوں سے پیچھے تھے اور آج بھی ہیں۔ افسوس آپ آج بھی وہی ہیں جہاں دس بار سال پہلے کلاس میں بیٹھ کر خود کو محسوس کرتے تھے یعنی ریس میں اٹھارہ لوگوں سے آگے نہیں بلکہ گیارہ لوگوں سے پیچھے۔
زندگی ایسے گزرتی ہے جیسے تیز ہوا میں کسی کھلی کتاب کے پنے، سال ایسے گزر جاتے ہیں جیسے کچھ ہفتے، کل کی سی بات لگتی ہے جس بات کو کئی سال گزر چکے ہوتے ہیں زندگی میں وہ کچھ نہیں ملا جو میں چاہتا تھا’’ کسی دن ہو گا‘‘ کے انتظار میں کئی کئی دن گزر جاتے ہیں اور وہ ’’کسی‘‘ دن کبھی آتا ہی نہیں ہے۔ پھر ایک دن آپ کو خیال آتا ہے کہ میری زندگی کے جو سنہرے دن تھے وہ گزر چکے ہیں اور اب میرے لئے مشکلوں کو سوچنے کے علاوہ کچھ بچا نہیں ہے تو خوشی کا وقت آیا ہی کہاں زندگی میں؟ سوال یہ ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کی خوشی کی تعریف غلط ہے۔ ہم مادی چیزوں کے پیچھے اپنی مہنگی خوشی کو سستا بیچ دیتے ہیں کیوں کہ ہر وہ چیز جو خریدی جا سکتی ہے اور بدلی جا سکتی ہے اس کی آپ کو کبھی بھی ایسی خوشی نہیں ہوتی جو ہمیشہ رہے اگر ایک چیز مل بھی جائے تو دوسری کی چاہ تنگ کرتی رہتی ہے اور یہی ہماری زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
زندگی کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ دنیا کی ہر وہ چیز جوآپ کوخوشی دے سکتی ہے وہ خوشی جو آپ کبھی بھی پیسے سے نہیں خرید سکتے وہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مفت دی ہے۔
آپ کھلی ہوا میں سانس لے سکتے ہیں چل پھر سکتے ہیں۔ دنیا کی ہر نعمت کو دیکھ سکتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ رشتے دئیے ہیں وہ لوگ دئیے ہیں جو آپ سے محبت کرتے ہیں آپ کی خوشی اور غم کا خیال رکھتے ہیں۔
دنیا میں یہ سچ بہت کم لوگ سمجھ پاتے ہیں کہ خوش رہنے کی ساری وجوہات اللہ تعالیٰ آپ کو پہلے سے دے چکا ہو اس کے باوجود اگر کوئی ناخوش ہے تو صرف اپنی وجہ سے ہے۔ مانا آپ زندگی میں گیارہ لوگوں سے پیچھے ہیں مگر زندگی میں آپ لوگ اٹھارہ لوگوں سے آگے بھی ہیں اور اس ریس کے بارے میں پریشان ہو کر آپ زندگی کا وہ قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں جو آپ اپنے چاہنے والوں کے ساتھ گزار سکتے ہیں اور وہ خوشی حاصل کر سکتے ہیں جو آپ کوکسی بھی ریس یا کوئی پیسہ خرچ کرنے سے نہیں مل سکتی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.