اپنے بچوں کی خاطر،پاکستان کو خوشحال فلاحی ریاست بننے دیں!!

42

میرے عزیز ہم وطنوں! اگر پاکستانی میڈیا کو دیکھوں اور پڑھوں تو لگتا ہے کہ حکومت کے مخالفین کا پلہ بھاری ہے، اس لیے نہیں کہ وہ حق پر ہیں۔ اس لیے کہ وہ نہایت تواتر سے اور ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں اور عمران خان پر بے بنیاد تہمتیں لگاتے ہیں۔بلاول اور ہر دومریموں کی ہرزہ سرائی تو اسقدر بے سر و پا ہوتی ہے کہ تعجب ہوتا ہے کہ کس حد تک ہمارے سیاستدان اور ان کی اولادیں گر چکی ہیں۔ان کا سارا فوکس حکومت میں کیڑے نکالنے پر ہے جب کہ ملک کو اس وقت ہر قسم کی مدد کی ضرورت ہے۔ یہ رہنما بد نصیب عوام کے سروں پر مسلط ہیں اور انہیں گمراہ کرنے کی بھر پور کوشش میں جتے ہوئے ہیں۔دنیا میں اور بھی قومیں ایسی ہیں جن کو پاکستان سے بد تر حالات کا سامنا کرنا پڑا اور ایسے ایسے چیلنج دیکھنے کو ملے جو قومی بقا کو تباہ اور برباد کرنے پر تلے تھے اور دنیا نے ان کا ثانی نہیں دیکھا تھا۔ میرا حوالہ جاپان اور جرمنی سے ہے۔ جاپان میں امریکہ بہادر نے دو شہروں پر ایٹم بم گرائے جنہوں نے جاپان کی کم توڑ کر رکھ دی۔ جرمنی پر اتحادیوں نے اتنی بمباری کی کے انکے شہر کھنڈر بن گئے۔ان حالات میں کتنی قومیں اپنی سلامتی بر قرار رکھ سکتی تھیں۔ لیکن آفرین ہے ان کے عوام کو کہ جنہوں نے اپنی حکومتوں پر لعن طعن کرنے کے بجائے ملک کی تباہی سے نبرد آزما ہونا پسند کیا۔ اور اپنے قائدین کے اشاروں پر لگ کر وطن سازی میں جُت گئے۔آج جاپان اورجرمنی کہاں ہیں؟ یہ دونوں ملک دنیا کے صنعت یافتہ ممالک میں سر فہرست ہیں اور انکی بنائی ہوئی مصنوعات ان کے لیے اتنا زر مبادلہ کماتی ہیں کہ ا نکی معیشت دنیا کے امیر ترین ممالک کے ساتھ شمار ہوتی ہیں۔ جنگوں سے تباہ حال ممالک میں جنوبی کوریا، ویت نام، یورپ کے کتنے ہی ممالک شامل ہیں جنہوں نے اپنی تباہیوں کو اپنی کامیابیوں سے بدل دیا۔ان سب میں ایک ہی قدر مشترک تھی۔ ان کے عوام نے سیاست کو پرے کر کے اپنے قائد کی پکار کو لبیک کہا۔ اور باہمی چپقلیشیں، رنجشیں، اور سیاسی تنازعے بھلا کر ملک کی تعمیر پر جت گئے۔ اور ان کے رہنمائوں نے یہ نہیں سوچا کہ ملکی خزانے سے اپنی جیبیں بھرنی شروع کر دیں۔ بلکہ اپنا تن، من اور دھن سب ملکی بقا اور سر بلندی پر لگا دیا۔
سوچنے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ستر سال بعد ، ایک ایسا قائد دیا ہے جو ایماندار ہی نہیں، وہ اس ملک کو ایک خوشحال ملک دیکھنا چاہتا ہے۔ اور اس کے لیے وہ روز اول سے بنیادی اصلاحات اور ضروریات پر اپنی توجہ دے رہا ہے جس سے ملک کا مستقبل شاندار ہو گا۔ یہ پہلا رہنما ہے جس نے غریبوں کی حالت پر توجہ دی ہے۔ غربت کی لکیر سے نیچے والوں کے لیے معاشرتی جال بچھایا ہے تا کہ کم سے کم آمدنی والا بھی بھوکا پیاسا نہ رہے۔ ہر شہری کے لیے بنیادی علاج معالجہ کے حصول کے لیے انشورنس کا رڈ دینا شروع کر دیا ہے۔ ملک کے قرضوں کے انبار کو جو سابق حکومتیں چھوڑ گئی تھیں، کم کر رہا ہے۔ برآمدات کو بڑھا رہا ہے۔دنیا بھر میں مسلمانوں کی آواز بن کرحرمت رسول پر عملی اقدام اٹھا رہا ہے۔ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کے دل کی آواز دنیا بھر میں پھیلا رہا ہے۔ یہ سب کچھ کیسے کر رہا ہے جب کہ خود اندرون ملک سب سے خطرناک جنگ میں مصروف ہے جو کرپشن کے خلاف ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے ملک بھر کے راشی، جو مالدار ہیں، با رسوخ ہیں، اور کسی بھی حربے کو استعمال میں لا سکتے ہیں متحد ہو کر اس کی حکومت گرانے کی سازشوں میں مشغول ہیں۔ منتخب نمائندے قومی اسمبلی میں حاضری نہیں دیتے کہ قانون سازی کی جا سکے۔ انہیں نہ اپنے فرائض کی پرواہ ہے اور نہ ملک کی اہم ضروریات کی۔یہی نہیں۔ ملک کی سول سروس کیا اور عدالتی نظام کیا، کسی پر بھی تکیہ نہیں کیا جا سکتا۔کیا پاکستانیوں، تمہیں یہی کرنا چاہیے؟ اپنے گریبانوں میں جھانکواور سوچو کل کا مورخ تمہارے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا؟کیوں نہیں دنیا کی زندہ اور جری قوموں کی طرح تم ملک سازی میں شریک بن جاتے ؟ اپنے قائد کی پیروی میں اس ملک کو ایک با عزت اور با وقار فلاحی ریاست کیوں نہیں بناتے؟کیا حرام کا پیسہ کمانا ہی تمہارا نصب العین رہے گا؟یا کبھی اپنے ضمیر کی آواز بھی سنو گے؟
پاکستان میں میڈیا نے جو کردار اختیار کر رکھا ہے، اس پر تعجب ضرور ہوتا ہے۔ ایک تو میڈیا کا کام قومی سیاست پر کسی حد تک حکومت وقت پر تنقید نگاری کرنا ہوتا ہے، لیکن جب یہ حد سے بڑھ جائے اور لگے کہ محض عامیانہ اور غیر سنجیدہ الزام تراشی ہو رہی ہے تو لا محالہ لوگ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ لفافہ صحافت ہو رہی ہے، جو ضروری نہیں کہ ہو، لیکن تاثر ایسا ہی ملتا ہے۔ اس کی مثال ان اینکرز کے سوالات ہوتے ہیں جو خواہ مخواہ مہمانوں کو زچ کرنے کے مترادف ہوتے ہیں۔اور بار بار دہرائے جاتے ہیں کہ مہمان کہیں نہ کہیں تو ہاں کر ہی دے گا۔ابھی دو دن کی بات ہے کہ ایک اینکر صاحبہ نے ملک کے مایہ ناز صحافی حسن نثارسے بار بار ایک ہی سوال کیا کہ عمران خان نے گذشتہ ڈھائی سال میں کچھ بھی تو نہیں کیا؟ کیا کیا؟یہ دیکھ کر افسوس بھی ہوتا ہے کہ یہ میڈیا مالکان ذاتی مفاد کیلئے کس حد تک گر سکتے ہیں؟
اگر اپنے دور حکومت میں، عمران خان کچھ بھی اور نہ کرے، صرف آبی ذخائر اور بجلی بنانے کے بند بنوا دے تویہی کارنامہ اسے پاکستان کی تاریخ میں سنہری حرفوں میںیاد رکھے گا اور مستقبل کے لیے کافی ہوگا۔اب ذرا خان کی تقریر پڑھیے اور خود فیصلہ کیجئیے کہ کیا یہ شخص پاکستان کا سچا ہمدرد ہے یا کچھ اور؟ وزیر اعظم عمران خان مہمند ڈیم کی تعمیر میں پیش رفت کا معائنہ کرنے جب وہاں گئے تو موقع پر موجودانچارج افسر نے کہا کہ ’’میری ٹیم یہ سمجھتی ہے کہ اس دہائی کا ہمارا منصوبہ یہ ہے کہ2018ے 2028تک میں یہ سارے منصوبے مکمل کر دیے جائیں۔مثلاً سب سے پہلے خرم مکمل ہو جائیگا۔اس کے بعد یکے بعد دیگرے واپڈا کے یہ دس منصوبے مکمل ہوتے جائیں گے ۔اس کے علاوہ آٹھ منصوبے علیحدہ ہیں۔اس سارے عمل کو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وہ خاموش انقلاب ہے ۔ ہماری جو ٹیم ہے اس کے دو اعتقاد ہیں: پہلا یہ کہ ہم خود ان اہداف کو حاصل کر سکتے ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ یہ ملک اس سے زیادہ کا حقدار ہے جو اس کو اب تک دیا گیا ہے۔اور یہ امکان جسے ہم حقیقت کا روپ دے رہے ہیں، ہم آٹھ سالوں میں ۱۲ ملین ایکڑ کے رقبہ کی آبیاری بڑھا سکیں گے۔ پاکستان کی ۲۰ ملین ایکڑ کی زمین بغیر پانی کے ہے۔ان ڈیم کے بننے سے ۸۰ لاکھ ایکڑ زمین کو پانی مل سکے گا‘‘۔عمران خان نے واپڈا کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور کہاکہ پچاس سال کے بعد پاکستان میں اتنا بڑا پراجیکٹ بنا ہے۔دس پراجیکٹ جو شروع ہیں ان سے سستی بجلی، صاف بجلی(یعنی ماحول کو آلودہ کیے بغیر)، بنے گی۔ اور مجھے اس بات کی بڑی خوشی ہے کہ دو سال پہلے جب میں نے مہمند ڈیم کی بنیاد رکھی تھی، تو آج میں نے جب اسے دیکھا تو ماشاللہ ، کورونا کے باوجود اس پر تیز رفتاری سے کام ہو رہا ہے،2025میں یہ ڈیم بن جائے گا۔اور 17ہزار ایکڑ زمین سیراب ہو گی۔پشاور کوتین سو ملین گیلن پانی ملے گا ، یہ خوش آیند ہے کیونکہ پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح کم ہو رہی ہے۔ اور سستی بجلی سے بھی پشاور کو فائدہ ہو گا۔‘‘
قارئین کو شاید یاد ہو گا کہ دو سال قبل وزیر اعظم نے بیرون ملک پاکستانیوں سے درخواست کی تھی کہ وہ اس ڈیم کے لیے دل کھول کر چندا دیں اور لوگوں نے چندا دیا۔ اس کی رقم سپریم کورٹ کے حوالے کی گئی تھی۔پھر کچھ چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ وہ چندا کہیں خورد برد تو نہیں ہو گیا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور مہمند ڈیم پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ یہی نہیں اس کے علاوہ اور ڈیموں پر بھی کام شروع ہے۔اس وزیر اعظم نے بجلی کی کمی کو، سابقہ حکومتوں کی طرح،مہنگے کرایہ کے بجلی گھر منگوا کر اور تیل سے چلنے والے بجلی گھر لگوا کر کام چلانے کے بجائے، ایسا کام شروع کروایا جس سے ملک کو سستی اور صاف بجلی ملے اگرچہ اس کے لیے تھوڑا انتظار تو کرنا ہو گا۔ورنہ تیل سے چلنے والے کرایہ کے بجلی کے منصوبوں میں یار لوگوں نے کمیشن ہی اربوں کا بنا لیا تھا۔
پاکستان کے چند نادان عوام گذشتہ حکمرانوں کی ’’خود بھی کھائو اور دوسروں کو بھی کھانے دو‘‘کی حکمت عملی پر جو خود بھی حرام کماتے تھے اور دوسروں کو بھی حرام کھلاتے تھے۔ ان عوام میں سے کچھ لوگ اب بھی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید وہ لندن میں بیٹھا سزا یافتہ مجرم واپس پاکستان آ جائے گا، سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ اس پر لگے سب الزام کالعدم قرار دے دیں گی، اور وہ دوبارہ انتخاب جیت کر وزیر اعظم بن جائے گا ، اور پھر وہ جی بھر کر لوٹ مار کا بازار گرم کردیں گے۔اس کے لیے عمران خان کو ہٹھانا ضروری ہے کیونکہ اس کے ہوتے یہ خواب پورے نہیں ہو نگے۔لیکن خواہ عمران خان رہے یا جائے، یہ تقریباً نا ممکن ہے کہ نواز یا زرداری دوبارہ سے عنان ریاست سنبھالیں، خواہ احتساب کتنا بھی کمزور کیوں نہ ہو۔یہ سابق حکمران اتنے ملک دشمن تھے کہ حیرت ہوتی ہے۔ ابھی راقم سن رہا تھا حسن نثار کو جنہوں نے علی ممتاز کے پروگرام میں بتایا: ’’خدا کے لیے، یہ حکمران کتنے بھی گئے گذرے ہوں وہ ان ظالموں سے خدا کی قسم کئی گنا بہتر ہیں۔ ان تین سالوں میں۔ اندازہ لگائیں پانچ سو اکتالیس کڑوڑ یہ نواز شریف کھا گیا سیکیورٹی کی مد میں۔کیا کہہ رہا ہوں میں؟ اور آصف زرداری تین سو سولہ کڑوڑ۔ اور خدا کا خوف کرو لوگو، یہ جو خادم اعلیٰ آٹھ سو بہتر کڑوڑروپیہ کھا گیا، یہ آج کی اخباریں بھری پڑی ہیں۔یہ درندوں سے بھی بدتر ہیں۔ایک ہوتا ہے لوٹنا، ایک ہوتا ہے کک بیک، کمیشن، لوُٹ مار، حرام کھانا، کرپشن، نہیں، یہ پیسہ انہوں نے کھایا نہیں ، لٹا دیا۔کس مد میں؟ سیکیورٹی۔ اوئے تم ہو کون؟تم آسمانوں سے اترے ہو؟ جس ملک میں کڑوڑوں بندے غربت کی لکیر سے نیچے ہوں۔ یہ سفاک لوگ ہیں، ان اعداد کو دیکھ کر، مجھے پہلے ان سے چڑ تھی، یہ مجھے بُرے لگتے تھے،اب مجھے ان سے کراہت آنے لگ گئی ہے۔ان اعدادو شمار پر غور کریں۔ اس رقم سے کتنی چھوٹی چھوٹی خوبصورت ڈسپنسریاں بن سکتی تھیں، کئی سکول بنا ئے جاسکتے تھے۔ اربوں، کھربوں میں چلا گیا معاملہ۔پی ٹی آئی والوں کو ان کے کان پکڑا کے مرغا بنا کر، ان کی پیٹھ پر اینٹیں رکھ دینی چاہییں تھیں۔ان کو آج تک اتنی عقل نہیں آئی ۔ یہ سمجھا ہی نہیں پائے۔ مراد سعید کل ٹی وی پر چیخ رہا تھا ان کو یہی نہیں پتہ ہوتاکہ کمیونیکیشن کہتے کس کو ہیں؟دیکھو بات سنو۔ ایک ڈائنا سور کی تصویر ہے اتنی بڑی۔ اس کے آپ بیس ٹکڑے کر کے، مجھے کبھی ایک ٹکڑا دکھا رہے ہو کبھی دوسرا۔اس سے کبھی سمجھ نہیں آنی کہ یہ ڈائنا سور کی تصویر ہے۔یہ ٹکڑے اکٹھے کرو اور قوم کے آگے رکھو۔یہ کر کیا گئے ہیں اتنا بڑا ظلم، یہ تاتاری، یہ منگول، اس ملک کی اکانومی کے ساتھ۔ٹکڑے دکھانے سے کوئی اثر نہیں ہوتا۔‘‘
میرے عزیز ہموطنوں۔ تم اپنے پسندیدہ سیاستدان سے اگر موقع ملے تو پوچھو، کہ تم پاکستان کے لیے کیا کر رہے ہو؟کیا عمران خان کی حکومت گرا کر پاکستان کی خدمت ہو گی؟ ہمارا ملک اس وقت نہ صرف معیشت کی جنگ لڑ رہا ہے، اسے دشمنوں نے بھی گھیرا ہوا ہے۔ ہمسایہ ملک ہر محاذ پر پاکستان کوزک کرنے کی تاک میں رہتا ہے۔ اس نے سابق مجرم وزیر اعظم کا اپنا آلہ کار بنایا ہوا ہے۔ جو را کے مشورے اپنی بیٹی کو پہنچاتا ہے اور وہ اپنی پارٹی کے بڑے قائدین کو فوج کے خلاف اور پاکستان کی سلامتی کے خلاف نعرہ بازی کرواتی ہے۔ کیا پاکستانیوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی؟ایک اچھے اور جا نثار وطن قائد کو ہٹا کر یہ لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ نواز شریف کو چوتھی دفعہ وزیر اعظم بنانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔ بہتر ہو گا کہ ملک کی تعمیر نو کی طرف توجہ دیں اور اس سنہری موقع کو ضائع نہ کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.