ریکوڈک پر پتی بازوں کا جشن!

55

ریکوڈک اور براڈ شیٹ کے فیصلوں پر پاکستان کے پتی باز خوب جشن مناتے نظر آئے ہیں۔ جنہوں نے پہلے براڈشیٹ کو ملک دشمن معاہدے کے ذریعے تمام اختیارات دئیے تھے کہ چاہے براڈشیٹ نامی کمپنی پاکستانیوں کے اثاثوں کا کھوج لگائے یا نہ لگائے۔ ریکوری کرے یا نہ کرے معاوضہ دیا جائے گا جس میں معاہدے کرنے والے جنرلوں، اہلکاروں اور وکیلوں کی پتی ضرور ہو گی جس کا آخر کار اظہار براڈ شیٹ کے سربراہ موسوی صاحب نے کیا کہ جب برطانوی عدالت نے پاکستان کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی پر بتیس ملین پونڈز کا فیصلہ دیا جو وکیلوں اور دوسری سروسوں کی وجہ سے تقریباً ایک سو ملین کا ٹیکہ بن جاتا ہے تو ایسے موقع پر براڈشیٹ کے سربراہ موسوی نے کہا کہ پاکستانی جنرل اور اہلکار بشمول نیا نکورا عمران خان کا ترجمان اور دودھ کی رکھوالی کرنے والا بلا شہزاد اکبر نامی شخص بھی شامل ہے جس نے موسوی کے ساتھ پتی یا کک بیک کا مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان کے خلاف جو بھی معاوضے یا جرمانے کی شکل میں مالیاتی فیصلہ ہو گا اس میں ہماری پتی ہو گی جس کے بعد براڈشیٹ نے پاکستان کے بنکوں میں سرکاری کھاتوں پر قبضہ کر لیا جو آج بھی عدالتی فیصلے کے مطابق پاکستانیوں اور حکومت کے کھاتے ڈھونڈ رہی ہے تاکہ عدالتی فیصلے کے مطابق پاکستان کے مالیاتی کھاتوں پر قبضہ کیا جائے۔
لہٰذا حکومت پاکستان کے اہلکار براڈشیٹ کے فیصلے سے اپنی پتی کے مفادات کو پورے کرنے میں مصروف رہے جبکہ پاکستانی عوام کو 100ملین کا نقصان پہنچا ہے۔ اسی طرح آج ریکوڈک کیس میں چھ بلین ڈالر کا جرمانہ ہوا کہ جس میں آسٹریلوی تیتھیان نامی بدنام زمانہ کاپر کمپنی جو گزشتہ تیس سالوں سے حکومت پاکستان کو بیوقوف بنارہی تھی جس کو بلوچستان چاغی کے مقام ریکوڈک میں سونا، چاندی، تانبا اور دوسری معدنیات نکالنے کا ٹھیکہ دیا ہوا تھا جو نام بدل بدل کر معاہدے کے مطابق اپنا معاہدہ پورا نہیں کرپارہی تھی جس نے مختلف حیلوں، بہانوں سے کبھی دو سال، تین سال اور نو سال کا وقت مانگا، کبھی ۳۳ لاکھ ایکڑ، کبھی دس لاکھ ایکڑ، کبھی چند ہزارایکڑ کی کھدائی کا ڈرامہ رچایا مگر کوئی دھات برآمد نہ کی نہ ہی حسب معاہدہ کوئی ریفائنری تعمیر کی جس کے خلاف بلوچستان کی حکومت نے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا کہ مجوزہ کاپر کمپنی حسب وعدہ اور معاہدہ کام نہیں کررہی ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچ رہا ہے جس کے خلاف بلوچستان حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس پر بڑی طویل سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے سابقہ چیف جسٹس افتخار چودھری، موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل بنچ نے کاپر کمپنی کی کارکردگی اور معاہدوں کی خلاف ورزیوں پر بلوچستان کی حکومت کی حمایت میں فیصلہ دے دیا جس کے سرکاری وکیل ایڈووکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی تھے جو ریکوڈک کیس کے گواہ ہیں کہ تیتھیان نامی کاپر کمپنی نے گزشتہ تیس سالوں سے کیا کارکردگی دکھائی جس سے پاکستان کو کیا کیا نقصانات پہنچے۔ چنانچہ تیتھیان کاپر نے ورلڈ کورٹ کی ثالثی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا جس کی حکومت عمران خان نے قصداً اور ارادتاً پیروی نہ کی جسکی وجہ سے ثالثی عدالت نے کاپر کمپنی کی حمایت میں یکطرفہ ایکس پارٹی ڈیکلیئر کر کے چھ بلین جرمانے کا فیصلہ دے دیا جس کی نااہلی اور ناکامی میں حکومت پاکستان ملوث ہے جس نے اپنے وکیلوں کے ذریعے ثالثی عدالت میں پیروی نہیں کی ہے جس کی وجہ سے یکطرفہ فیصلہ ہوا نہ ہی حکومت پاکستان اپیل کے لئے گئی جبکہ پاکستانی حکومت کے پاس سپریم کورٹ کا مضبوط فیصلہ تھا کہ مجوزہ کاپر کمپنی نے معاہدے کی کیاخلاف ورزیاں کی تھیں جس کی وجہ سے سپریم کورٹ نے کاپر کمپنی کے خلاف فیصلہ دیا تھا مگر عمران حکومت کے پتی بازوں نے ورلڈ کورٹ کی ثالثی عدالت میں کاپر کمپنی کے دائر کیس کو چیلنج نہیں کیا ہے نا ہی اپیل کی ہے جس کی وجہ سے کاپر کمپنی نے چھ بلین کا کیس جیت لیا۔ جس کے بعد کاپر کمپنی نے پاکستان کے اثاثوں کے خلاف ایکشن لیا جس میں پاکستانی نیم سرکاری ادارے پی آئی اے کے روز ویلٹ ہوٹل نیویارک اور سکرائب پیرس ہوٹل اثاثوں کو منجمد کر دیا گیا بعض مقامات پر پی آئی اے کی فلائٹس بند کر دی گئی تھیں جن پر براڈ شیٹ اور ریکوڈک کیس کی ٹی سی سی کمپنی قبضے اور منجمدان میں متحرک پائی جارہی ہے چنانچہ پاکستان کے پتی بازوں نے ظاہراً فی الحال برطانوی جزیرے ورجن آئی لینڈ کی ہائیکورٹ سے پی آئی اے کے دونوں ہوٹلوں کے خلاف ریلیز لے لیا ہے کہ وہ حسب مطابق دونوں ہوٹلوں کو اپنے پیاروں کے ہاتھ بیچ پاتیں تاکہ وہ بعض غیر ملکی قرضوں کو اتارا جائے جبکہ چھ بلین کے عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ اپنی جگہ برقرار ہے جس کی بدولت کاپر کمپنی کسی بھی وقت پاکستان کے اثاثوںپر ہاتھ ڈال سکتی ہے جس میں پاکستان کے پتی بازوں کا سب سے بڑا حصہ ہے جو مجوزہ بلین ڈالر کے جرمانے سے اپنی پتی وصول کرتے نظر آئیں گے۔ بشرطیکہ پاکستان قوم سوتی رہی۔ بہرحال پاکستان کے پتی باز جنرل اہلکار ،وزیر اور مشیر براڈ شیٹ تیتھیان نامی کمپنی میں اپنی منصوبہ بندی کے تحت لاپروا نظر آئے ہیں جو جرمانوں میں بھی اپنا حصہ وصول کرچکے ہیں یا کریں گے جس میں براڈ شیٹ کے ملک دشمن معاہدہ کرنے والے جنرل امجد، جنرل سعید،ایڈمرل منصور الحق، طارق فواد ملک، اٹارنی جنرل فاروق آدم، غضنفر علی صادق، شہزاد اکبر یا پھر تیتھیان کاپر کمپنی میں جنرل مشرف کے جنرل اور کرنل یا پھر موجودہ عمران خان کے وزیروں، مشیروں اور وکیلوں کا ٹولہ ہے جنہوں نے قصداً ریکوڈک کیس کی بروقت پیروی نہ کر کے اپنی پتی کو بچایا ہے جس کی تحقیقات ہونا چاہیے جس کے لئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنے جو تحقیقات کرے کہ حکومت پاکستان نے عالمی ثالثی عدالت میں کیوں اور کیسے کوتاہی اور لاپرواہی اختیار کی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو چھ بلین کا جرمانہ ہوا ہے قصہ مختصر ریکوڈک کیس میں چھ بلین کے جرمانے کی آڑ میں زمین میں چھپے سو بلین ڈالرز کے خزانوں کو ضائع کیا جارہا ہے جس میں دنیا کی سب سے بڑی دولت چھپی ہوئی ہے جو ایک قو م پرست اور محب وطن حکومت نکال سکتی ہے جو تیتھیان جیسی بدنام زمانہ کمپنی کی بجائے چین جیسی کمپنیوں سے معاہدے کرے جو پاکستان کی دولت کا کھوج لگا کر عوام کو سعودی عرب، ایران اور دوسرے ممالک کی طرح مالا مال کر دے یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان کے پاس زرعی، معدنیاتی دولت ہے جس کا کھوج لگانا ایسے ملک دشمن عناصر کے پاس ہے جنہوں نے اپنی ذاتی لالچ کی خاطر ملکی خزانوں کے سودے کررکھے ہیں کہ ایران کے ایک حصے میں تیل نکلتا رہا مگر پاکستان کے دوسر ے حصے میں پانی تک نہ نکال پائے۔ جس سے تیل کا بہائو ایران کی طرف جاتا رہا جس پر پاکستان کا پتی باز طبقہ خاموش رہا ہے جس کو آج بھی اپنا رکھا ہے کہ دولت کے باوجود غریب پریشان ہے ہے جس کا ذمہ دار پتی باز طبقہ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.