میر جعفر، میر صادق، میر شکیل الرحمن اور میر حامد جیسے غداروں ہر دور میں رہے ہیں، اب سزائوں کا دور بھی شروع ہونا چاہیے!

54

ایک ایسا نامعلوم اور گمنام بلاگر اسد طور جس کاآج سے پہلے کسی کو نام بھی معلوم نہیں تھا اور جس کو فالو کرنے والوں کی تعداد بھی چند ہزار تھی، راتوں رات وہ نام نہاد خودساختہ بلاگر پاکستان کے بدنام زمانہ اینکر پرسن حامد میر کی ملک کی بلکہ دنیا کی سب سے ٹاپ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور دنیا کی بہترین فوجوں میں سے ایک پاکستان آرمی کو غلیظ گالیاں دینے کی وجہ سے مشہور ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ بلاگر کو جس کے کسی لڑکی کے ساتھ تعلقات تھے اس کے بھائیوں نے گھر میں گھس کر اسے مارا پیٹا اور اس کے بعد فرار ہو گئے۔ اسلام آباد میں پولیس میں جا کر اسد نے رپورٹ درج کرائی کہ تین افراد جو خود کو آئی ایس آئی کا اہلکار ظاہر کررہے تھے گھر میں گھس آئے، اسے مارا پیٹا، ہاتھ پائوں باندھے اور پھر دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہو گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کی ٹاپ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اہلکار اتنے ناقص العقل اور بیوقوف تھے کہ وہ بقول بلاگر اُسے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بولنے اور بلاگ کرنے پر سزا سنانے آئے تھے یا پھینٹی لگانے آئے تھے تو انہوں نے اپنی شناخت چھپانے کے بجائے الٹا اس کا اعلان کر کے بلاگر کو بتایا تاکہ وہ باہر جا کر میڈیا والوں کو بتا سکے؟دوسری بات یہ کہ دنیا کی نمبرون خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے کارندے اتنے اندھے اور نابینا تھے کہ یہ بھی نہ دیکھا کہ پورے اپارٹمنٹ کمپلیکس میںجگہ جگہ اور باہر بھی سڑک پر جا بجا سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگے ہوئے تھے جو ان کے ہر ایک ایکشن کی ریکارڈنگ کررہے تھے جسے بار بار اب میڈیا پر دکھارہے ہیں جس سے ان کی شناخت ممکن ہو سکے گی، ان کی گاڑی کا نمبر نوٹ ہو جائے گا اور وہ پکڑے جائیں گے؟ مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ دوسرے صحافیوں کے ساتھ مل کرپریس کانفرنس میں انہوں نے ایک مرتبہ بھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ اسلام آباد پولیس، وفاقی حکومت یا کشمیر اسلام آباد ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرے بلکہ ان کا سارا زور ،حامد میر کا سارا الزام اور ن لیگ کے خرچے پر حج کرنے والی عاصمہ شیرازی کا سارا زور اس بات پر تھا کہ یہ مارپیٹ آئی ایس آئی نے کی ہے جبکہ ابھی تک یہ بات کنفرم بھی نہیں ہوئی ہے، ملزمان پکڑے بھی نہیں گئے ہیں اور نہ ہی ان صحافیوں کی طرف سے کوئی ثبوت پیش کئے گئے ہیں جو اس امر کی تصدیق کر سکیں کہ یہ آئی ایس آئی والے ہی تھے۔ تو پھر یہ کس ایجنڈے پر کام کررہے ہیں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کو گالیاں دے کر۔ پاکستان کے دشمن ممالک تو ایسے مواقع کے انتظار میں رہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے آئی ایس آئی اور پاکستان کی فوج کو نشانہ بنایا جائے کیونکہ ان کو سب سے بڑی جلن اور حسد یہ ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی رینکنگ کے حساب سے دنیا کے ٹاپ نمبر پر مسلسل آرہی ہے اور پاکستان آرمی کو یہ کریڈیٹ کیوں جاتا ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کا قلع قمع کر دیا جبکہ دنیا بھر کی ساری فوجیں اتحادی بنا کر بھی افغانستان سے بیس سالوں کی خواری کے بعد شکست کھا کر واپس بھاگنے پر مجبور ہیں۔ میر حامد جیسے غداروں اور وطن فروشوں نے انہیں پاکستان پر انگلی اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ ہم ایک انڈین نیوز چینل دیکھ رہے تھے یوں معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے اس بات سے سب سے زیادہ تکلیف انہیں ہورہی ہے لیکن وہ کیوں اتنے دکھی ہورہے ہیں یا وہ کیوں پاکستانی فوجی اور خفیہ ایجنسی کودی گئی گالیوں پر خوشیاں منارہے ہیں۔ یہاںہم چند باتیں جو ضمیر فروش نام نہاد صحافت کی آڑ میں موجود غدار حامد میر نے کیں، پھر آپ فیصلہ کیجئے گا کہ ان کی ڈوریاں کون ہلا رہا ہے:۔ پاکستان فوج اور آئی ایس آئی والوں؟
تم بزدل ہو…یہ لوگ بے غیرت ہیں…یہ لوگ بزدل دُشمن ہیں… مرد کے بچے بنو… اسد طور کی گرل فرینڈ کی ماں کا نام جنرل رانی ہے… جنرل رانی کا تعلق براہ راست آرمی چیف سے ہے … تمہارا باپ جنرل مشرف سیاسی پناہ لئے ہوئے ہے جو ایک چوہا ہے… میں تم سب لوگوں کے چہروں سے نقاب نوچوں گا… تمہارے ٹینکوں کو زنگ لگ گیا ہے اس لئے اب تم دشمن سے دوستی کرنا چاہتے ہو… تمہارے باپ داد ایوب خان نے فاطمہ جناح کو غدار کہا تھا… اب ہم تمہارے گھر کی باتیں میڈیا میں سنائیں گے… یہ بھی بتائیں گے کہ کس جنرل کی بیوی نے اُسے گولی ماری تھی۔
گو کہ جیو نیوز نے زبردست عوامی دبائو پر اس غدار میر حامد کو نکال دیا لیکن جیسا کہ ہم نے اپنے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ ،یہ صحافی کیا واقعی پیسوں کی جھنکار پر ناچنے والی طوائفیں نہیں ہیں؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.