تم خود مرشد ہو!!

45

اللہ کی کتاب میں ہر موقع تکلیف پریشانی مشکل آزمائش کی دعائیں عطا فرما دی گئی ہیں ، احادیث مبارکہ میں نبی آخر الزماں نے بھی قرآن پاک کی دعائیں ہی تلقین فرمائی ہیں ، جب مسلمانوں کے پاس قرآن و احادیث کی ان گنت حاجات و مناجات موجود ہیں پھر اللہ و رسول کے علاوہ کوئی وظیفہ کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟صحابہ کرام اہل بیت رسول اللہ اور بعد میں آنے والے بزرگان دین بھی اللہ و رسول کی بتائی دعائیں ہی مانگا کرتے تھے۔ اللہ و رسول کے علم و معرفت سے باہر کوئی وظیفہ یا منت حاجات و مناجات صوفی ازم یا تصوف نہیں۔ تصوف تزکیہ نفس اور تعلق اللہ کا فارسی نام ہے اور بس باقی جو کچھ تصوف کے نام پر کیا جا رہا ہے خرافات و بدعات کے سوا کچھ نہیں۔ طریقت کے نام پر دور حاضر کے صوفیوں میں مخصوص ورد اور وظائف، رسم و رواج ہوتے ہیں، لیکن ان سب میں قدر مشترک یہ ہے کہ بدعات و خرافات سمیت خود ساختہ عبادات کی ترویج میں مگن ہیں ، اور کچھ غلو کرتے ہوئے اتنا آگے بڑھے ہوئے ہیں کہ دنیا کے معاملات چلانے کیلئے اولیاء اور اقطاب کے پاس اختیارات کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ سابقہ زمانے کا تصوف سیدھے راستے سے اس قدر منحرف نہیں تھا، اور نہ ہی اس کا قابل ذکر خطرہ تھا، بلکہ تصوف سے بعض اوقات زہد، تقوی، پرہیز گاری، اور ناز و نعم سے دوری مراد لیا جاتا تھا۔ امام احمد نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ایک سیدھا خط کھینچا، اور فرمایا: (یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے) پھر اس خط کے دائیں اور بائیں خطوط کھینچے، اور فرمایا: (یہ مختلف راستے ہیں، اور ان میں ہر راستے کی طرف دعوت دینے کیلئے شیطان بیٹھا ہوا ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی’’ بیشک یہ میرا سیدھا راستہ ہے، چنانچہ تم اسی کی پیروی کرو، اور کسی اور راستے کی پیروی مت کرو، ورنہ تم اللہ کے راستے سے بھٹک جاؤ گے اس حدیث کو البانی نے "التوسل” ( ص / 125) میں صحیح قرار دیا ہے۔اسی طرح ابو داود : (4607) ، ترمذی: (2676) ، اور ابن ماجہ: (44) میں عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم میں سے جو بھی میرے بعد زندہ رہے گا تو وہ بہت زیادہ اختلافات دیکھے گا، پس تم میری ، اور خلفائے راشدین کی سنت پر کار بند رہنا، اسے انتہائی مضبوطی سے تھامنا، اور اپنے آپ کو خود ساختہ امور سے بچانا، کیونکہ دین میں ہر خود ساختہ بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے) اسے البانی نے صحیح ابو داود : (3851)میں صحیح قرار دیا ہے۔ تصوف کی بنیاداحسان اور تزکیہ نفس ہے۔اللہ تعالی نے قرآن پاک کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات مبارک میں بھی اللہ کا کلام بولتا ہے اس کے علاوہ اولیا اللہ سے منسوب کتب اور ان میں مذکور وظائف دعائیں اور درود پاک کی کوئی سند نہیں ، اگر کوئی انہیں پڑھتا ہے اس کی ذاتی رائے ہے مگر دین فقط قرآن اور ارشادات نبی اقدس ہے۔ جس کا خالق سے تعلق جڑ گیا اس نے معرفت کی حقیقت پا لی۔ تصوف کے نام پر پیری چمکا کر دولت شہرت کمانے والے شعبدہ بازوں کو حق شناس دور سے پہچان جاتے ہیں۔ رب ہماری شہہ رگ سے بھی قریب ہے سر جھکایا ملاقات ہو گیء۔ اولیا اللہ فرماتے تھے ‘‘ہر طرف سے دل کو ہٹا کر صرف اللہ کی جانب اپنے دل کی لو لگا لینا یہ تصوف ہے’’۔۔۔دور حاضر الا ما شا اللہ پیران اور پیرنیوں کے عیش و عشرت دنیا داری مال و دولت قیمتی گاڑیاں اور بنگلے دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے ان لوگوں کے دل فقط اللہ کی جانب ہیں ؟ صوفی ازم یا تصوف کی آڑ میں الا ما شا اللہ ہوس نفس کا جو بازار گرم ہے اس کو فقط مومن کی نگاہ ہی بھانپ سکتی ہے۔ضعیف العتقاد کو ہر چیز میں مرشد کی کرامت دکھائی دیتی ہے۔ جب دلوں پر مہر لگ جائے پھر اللہ ہی ہوش میں نہیں لا سکتا۔ برین واشنگ سے رب کی پناہ مانگی جائے۔ بڑے بڑے پڑھے لکھوں کی عقل بند ہو جاتی ہے۔سیدھے سادھے اسلام کی روحانیت کے نام پر صورت بگاڑ دی گئی ہے۔اللہ سے براہ راست ہمکلام ہونا اتنا مشکل ہوتا تو رب کیوں کہتا کہ مجھے پکارو مجھ سے بات کرو میں تمہاری شہہ رگ سے بھی قریب تر ہوں۔ لوگ در حقیقت بابوں مائیوں کے پاس دنیاوی مسائل کا شارٹ کٹ ڈھونڈنے جاتے ہیں ، اللہ سے ہمکلام ہونے کے لئے فقط دل سے ‘‘ یا اللہ ‘‘ پکارنا کافی ہے وہ جواب دیتا ہے ‘‘ بول میرے محبوب بندے کیا حاجت ہے ‘‘۔۔۔کبھی دل سے پکار کر دیکھو ، تم اپنے مرشد خود ہو۔۔۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.