یہ انوکھاانصاف،یہ انوکھے فیصلے،دیکھتا جا شرماتا جا!!

39

حضرت صالح ؑ کی قوم کو کیوں تباہ کیا گیا؟ قتل تو چار لوگوں نے ان کی اونٹنی کو کیا تھا پھر سب پر قہر الٰہی کیوں نازل ہوا؟ کیونکہ وہ سب خاموش تھے۔ کسی نے بھی اس ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کی اوران کی یہ خاموشی ہی غضب الٰہی کا سبب بنی۔ جنہوں نے اونٹنی کو قتل ہوتے دیکھا، قاتلوں کے ہاتھ پکڑے نہ ان کے خلاف آواز نکالی۔ ان کے اس جرم کو غلط نہیں سمجھا۔ ان کی خاموشی نے تو یہی ثابت کیا کہ قاتل فعل قبیح کرنے میں جائز تھے۔ یہ خاموشی انصاف کے منافی تھی۔ اللہ کا انصاف دیکھ لیا؟
تو عوام سے گزارش ہے کہ تمہاری یہ خاموشی منافقت کے مترادف ہے۔ عدالتی فیصلوں کے خلاف تم کیوں آواز نہیں اٹھاتے کیا اندھے بہرے ہو۔ ن لیگ کا وہ مسخرہ ماضی کا چیف منسٹر جو اپنے بھائی کو پچاس روپے کے مچلکے پر ضمانت دلا کر باہر لے گیا بڑا خم ٹھونک کر کہتا تھا کہ اس بزدل بھگوڑے گیڈر کو واپس لائے گا اور اکیلا چلا آیا۔ یہ بات اب تک سامنے نہیں آئی کہ کس کے لارے لپے دینے پر موصوف تشریف لائے۔ جیل میں سیاست سیاست کھیلتے رہے۔ اب جانے کے لئے مرے جارہے ہیں۔ اگر برابری کا انصاف چاہیے تو سارے بیمار مجرموں کو جیل سے نکال کر لندن علاج کے لئے روانہ کر دینا چاہیے۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو اس عدالت کے دروازے مزید فیصلے کرنے سے پہلے بند کر دئیے جائیں اور ججز کا محاسبہ کیا جائے۔ انہیں قانون اور قاعدے کی صحیح تعلیم دی جائے اور ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے اور پوچھا جائے حضور اس قسم کے فیصلے اور ضمانتیں دینے کی کتنی قیمت لگائی گئی ہے؟
ایک اور بہت ہی ذہن کو مائوف کر دینے والا فیصلہ قاضی فائز کے سلسلے میں آیا ہے۔ انہوں نے بھی لوگوں کے منہ میں موتی بھر کر فیصلے لکھوالئے ہیں کہ اب کسی جج کے بیوی، بچوں سے ان کے اثاثوں کے بارے میں انکوائری نہیں کی جائے گی جو جج صاحب کی آمدنی سے زائد اثاثے سے خریدی گئی جائیدادیں ہیں۔ جیسے ان کی بیگم صاحبہ نے بے تحاشا دولت کو چھپانے کے لئے بیان دیا ہے کہ یہ جائیدادیں انہوں نے اپنی زراعی اراضی کی آمدن سے بنائی ہیں یعنی ان کے لندن میں اربوں روپے کے فلیٹ ہیں جو ان کے اور ان کی اولاد کے نام ہیں تو اس کا مطلب ججوں کو کرپشن کرنے کا سرٹیفکیٹ مل گیا۔ لو بھئی جب کرپشن کا حساب کتاب کرنے والے خود قانونی طور پر کرپشن کریں گے تو کیسا کہاں کا احتساب ،اب ڈاکوئوں کی تو پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں ہو گا۔ چور کسی دوسرے چور کو ڈکیتی سے کیسے روکے گا؟ یہ لطیفہ تو تاریخ میں سونے کے پانی سے لکھا جانا چاہیے۔ دنیا کی بھی آنکھیں پھٹ جائیں گی۔ ان ممالک سے کیوں سبق نہیں لیتے جنہوں نے اپنے ملکوں سے جرائم کا خاتمہ مجرمان کو مار کر کیا۔ یہی ایک علاج ہے جس سے قوم کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔ اس کے لئے عوام کو آواز اٹھانی ہو گی۔ عدالتی نظام ایسا ہونا چاہیے کہ مجرمان اتنے خوفزدہ ہو جائیں کہ واردات کرنے سے پہلے تھرانے لگیں۔
ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب کوئی جرم ہوتا ہے۔ تفتیش کی جاتی ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجرموں کو ٹریننگ دی جارہی ہو۔ ان غلطیوں کی نشاندہی کی جاتی جو اس سے دوران واردات سرزد ہوئیں اور وہ پکڑے گئے۔ مثلاً موبائل سے بہت سے ثبوت مل جاتے ہیں بلکہ یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ مجرمان کہاں روپورش ہیں۔ کتنے لوگ ہیں یہ سب جب انکوائری میں سامنے آجاتا ہے تو وہ پکڑے جاتے ہیں اس لئے وہ ان غلطیوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ اس لئے ناقص رائے یہ ہے کہ تفتیش کس طرح ہوتی ہے حقائق کس طرح سامنے آتے ہیں۔ کیا انہیں خفیہ رکھنا بہتر نہ ہو گا؟ یہ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جرائم کی پردہ پوشی کے لئے کوئی ٹریننگ دی جارہی ہو۔ SHOصاحب باقاعدہ ساری کہانی بتاتے ہیں۔
دوسرا مشورہ یہ ہے کہ انکوائری افسران کو پولیس کے اندر جو کالی بھیڑیں ہیں ان پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ یہ لوگ مجرمان سے ملے ہوئے ہوتے ہیں اور جہاں ان کی گرفتاری کا خطرہ ہوتا ہے یہ لوگ انہیں برابر مطلع رکھتے ہیں۔
پولیس کے انکوائری افسر کے جو مخبر ہوتے ہیں ان کے نام کے بجائے کوڈ سے پیغامات لینے چاہئیں۔ ان کے نام کی تشہیر ہونے سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ان مجرمان کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں یہ جیل میں ہوتے ہوئے بھی اپنے دشمنوں کا قلع قمع کرواسکتے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ جو عینی شاہدین ہوتے ہیں ان کی حفاظت کا بھی فول پروف انتظام ہونا چاہیے۔ عینی شاہدین کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اکثر یبان بھی تبدیل کروا دیا جاتا ہے۔ رشوت سے ان کا منہ بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کسی طرح بھی وہ اپنے موقف سے نہ ہٹیں تو قتل بھی کروایا جا سکتا ہے۔ گھر والوں کو اغواء کرنے کی دھمکیاں، گھر جلادئیے جاتے ہیں۔ اس لئے اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کے بااثر لوگوں کے خلاف شہادت دینے کی کوئی ہمت نہیں کرتا۔عینی شاہدین اور ان کے اہل خانہ کے لئے کوئی موثر حفاظتی انتظامات نہیں کئے جاتے۔ بہت سے ایسے کیسز پولیس ریکارڈ میں موجود ہوں گے جس میں گواہان اپنے بیان سے مکر گئے۔ بیان تبدیل کر دیا یا غائب ہو گئے۔
عوام کی جان و مال کی حفاظت اور قانونی تحفظ دینے کا کام سب سے پہلے پولیس کو کرنا پڑتا ہے کیونکہ کسی بھی واردات کی رپورٹ سب سے پہلے پولیس کو ہی دی جاتی ہے اور جہاں کی پولیس اپنے فرائض کا غلط استعمال کرنے لگے،مجرمان کو سزا نہ دلوائے، نظر انداز کرے، رشوت لے اور صحیح صورت حال سے عدالت کو بھی مطلع نہ کرے تو پھر جرائم پیشہ لوگ دلیر ہو جائیں گے جیسا کہ اب ہورہا ہے۔ سندھ کے وڈیروں کی سندھ میں بادشاہت ان ڈاکوئوں کی وجہ سے ہے یہ ان وڈیروں کے لے پالک ہیں۔ یہ اتنے مضبوط ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس پولیس کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید اسلحہ موجود ہے اور یہ رانی بانڈی کے جنگلات میںاپنا بسیرا کرتے ہیں۔ اغواء برائے تاوان کے لوگ بھی یہیں لائے جاتے ہیں یہ کچے کاعلاقہ کہلاتا ہے۔ پولیس والے ان کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں اس لئے امن و امان کی خاطر فوج کو ہی ان کا صفایا کرنا پڑے گا۔ دیکھئے حکومت اب کیا قدم اٹھاتی ہے؟ یہ نیٹ ورک بہت لمبا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.