امریکا میں ایک اور سیاہ فام قتل، مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ بڑھ گیا

281

واشنگٹن:امریکا میں سیاہ فام افراد کی ہلاکتوں کا سلسلہ نہ رک سکا۔ اٹلانٹا میں پولیس نے ایک اور سیاہ فام کو قتل کر دیا۔ شہر میں مظاہرین نے اس ریستوران کو آگ لگا دی جہاں بروکس کو قتل کیا گیا۔ لندن میں بھی پرتشدد مظاہروں کے دوران متعدد افراد زخمی اور گرفتار کر لیے گئے۔

ادھر ایک اور سیاہ فام کی ہلاکت پر امریکا بھر میں مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اٹلانٹا میں مظاہرین نے مرکزی شاہراہ بلاک کر دی اور اس ریستوران کو بھی آگ لگا دی گئی جہاں بروکس کو قتل کیا گیا۔

برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک میں نسل پرستی اور پولیس تشدد کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ لندن میں سیکڑوں شہریوں نے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

تاریخی مجسموں کی حفاظت کے دعویدار افراد بھی سڑکوں پر آ گئے۔ ٹریفلگر سکوائر پر آتشبازی کا مظاہرہ کیا گیا۔ مجسموں کے حامی اور مخالف افراد کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان بھی تصادم ہوا۔

سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل کے مجسمے کو مظاہرین سے بچانے کیلئے ڈھانپ دیا گیا۔ برطانیہ کی سیکرٹری داخلہ نے ان مظاہروں کو غنڈہ گردی قرار دیا ہے۔