کہکشاؤں کے درمیان ’’پراسرار پُل‘‘ جو دکھائی نہیں دیتے

84

سیئول / پنسلوانیا: جنوبی کوریائی اور امریکی سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہماری کہکشاں اور اس کے آس پاس کی کہکشائیں ’’تاریک مادّے‘‘ کے پُلوں جیسی ساختوں (اسٹرکچرز) سے آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔

یہ دریافت مصنوعی ذہانت والے ایک خاص کمپیوٹر پروگرام کی مدد سے ہوئی ہے جسے عام اور تاریک مادّے سے متعلق ہزاروں کمپیوٹر سمولیشنز استعمال کرتے ہوئے اس قابل بنایا گیا تھا کہ وہ صرف کہکشاؤں کی انفرادی اور ایک دوسرے کی مناسبت سے حرکت دیکھ کر ان کے اندر اور درمیانی خلاء میں موجود تاریک مادّے کا سراغ لگا سکے۔

پہلے مرحلے میں اس کمپیوٹر کو سمیولیشنز کی مدد سے تربیت دی گئی جس کے بعد محتاط جانچ پڑتال کرکے اس کی درستی کو یقینی بنایا گیا۔

آخری مرحلے میں کہکشاؤں کی ’’کوسمک فلو 3‘‘ نامی کٹیلاگ استعمال کی گئی جس میں ہماری کہکشاں ’’ملکی وے‘‘ اور اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی 17,000 سے زائد کہکشاؤں کی ترتیب، ان میں مادّے کی تقسیم اور حرکت سے متعلق مشاہدات کا ڈیٹا موجود ہے۔ یہ تمام کہکشائیں ہم سے 200 میگا پارسیک، یعنی تقریباً 65 کروڑ نوری سال فاصلے تک پھیلی ہوئی ہیں۔

تجزیہ مکمل کرنے کے بعد اس کمپیوٹر پروگرام نے تاریک مادّے کا جو نقشہ تیار کیا اس میں وہ سب کچھ تو موجود ہی تھا جسے ماہرین پہلے سے جانتے ہیں، تاہم اس میں کچھ نئی چیزیں بھی تھیں جو پہلے ہمارے سامنے نہیں آئی تھیں۔

انہی نئی چیزوں میں تاریک مادّے سے بنے ہوئے، لمبے ریشوں جیسی ساختیں (structures) بھی تھیں جنہوں نے پراسرار اور نادیدہ پُلوں کی طرح نزدیکی کہکشاؤں کو آپس میں جوڑا ہوا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.