فلسطینی مواد کو سنسر کرنے کے الزام کے بعد انسٹاگرام الگورتھم میں تبدیلیاں

296

فلسطینی عوام کے حق میں مواد کو روکے جانے کے الزامات کے بعد فیس بک کی زیرملکیت ایپ انسٹاگرام نے اپنے الگورتھم میں تبدیلیاں کی ہیں۔

یہ تبدیلیاں اس قت کی گئی جب انسٹاگرام میں کام کرنے والے افراد کے ایک گروپ نے شکایت کی تھی فلسطینیوں کے حق میں مواد غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران صارفین دیکھ نہیں سکے تھے۔

فنانشنل ٹائمز کی رپورٹ کے مطاب انسٹاگرام کے ملازمین کے گروپ کی جانب سے فلسطین کے حق میں مواد کو سنسر سے روکے جانے کے حوالے سے متعدد اپیلیں کی گئی تھیں۔

ملازمین کا یہ تو ماننا نہیں کہ ان پوسٹس کو دانستہ طور پر سنسر کیا گیا مگر ان کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر پوسٹس کو روکنا ایک مظلوم گروپ تعصب برتنا ہے۔

فیس بک کے ایک ترجمان نے بتایا کہ انسٹاگرام الگورتھم میں تبدیلیاں صرف فلسطینی مواد کے حوالے سے نہیں بلکہ کمپنی کو احساس ہوا کہ یہ ایپ جس طرح کام کرتی ہے، وہ ایسی پوسٹس کو پروموٹ کرتی ہے جو اس کے خیال میں صارفین کو زیادہ پسند ہیں، جس کے نتیجے میں لوگوں کو لگتا ہے کہ مخصوص نکات یا نقطہ نظر یا موضوعات کو دبایا جارہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس معاملے میں ایسا نہیں، اس کا اطلاق ہر اس پوسٹ پر ہوتا ہے جو اسٹوریز میں ری شیئر کی جاتی ہے، چاہے وہ جو بھی ہو۔

مگر اب نئی تبدیلیوں کے بعد اوریجنل مواد کے ساتھ اسٹوریز میں ری شیئر کیے جانے والی پوسٹس کو یکساں اہمیت دی جائے گی۔