لندن میں مظاہرے: پولیس کے ساتھ جھڑپ کے بعد 100 سے زائد مظاہرین گرفتار

225

لندن میں ’بلیک لائیوز میٹر‘ (سیاہ فام کی زندگیوں کی بھی قدر) اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کے درمیان تکرار ہوئی جبکہ پولیس کے بیچ بچاؤ کرانے پر کشیدگی کے بعد 100 سے زائد افراد گرفتار کرلیے گئے۔

لندن میں ہزاروں افراد مجسموں کی حفاظت کا کہہ کر سڑکوں پر جمع ہوگئے جن کا تعلق دائیں بازو سے تھا اور انہوں نے پولیس پر حملے بھی کیے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ’ہماری سڑکوں پر نسل پرست لٹیروں کی کوئی جگہ نہیں ہے‘۔

واضح رہے کہ 2017 میں ویسٹ منسٹر حملے میں ہلاک ہونے والے پی سی کیتھ پالمر کی یادگار کے پاس ایک شخص کو پیشاب کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

میٹروپولیٹن پولیس کمانڈر باس جاوید کا کہنا تھا کہ ’ہمیں پی سی پالمر کی یادگار پر پیشاب کرتے ہوئے دکھائے جانے والے ایک شخص کی سوشل میڈیا پر ایک گھناؤنی تصویر کے بارے میں علم ہے‘۔ ۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور ہم اس کے خلاف موجود تمام شواہد اکٹھا کریں گے اور کارروائی کریں گے‘۔