چین نے جوڑوں کو 3 بچوں کی اجازت دے دی

239

چین نے اپنی پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے جوڑوں کو 3 بچوں کی اجازت دینے کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں حالیہ اعداد و شمار کے مطابق چین میں شرح پیدائش میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے۔

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی ‘زنہوا’ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس تبدیلی کی منظوری صدر شی جن پنگ کی زیر صدارت اجلاس میں دی گئی۔

چین نے 2016 میں ایک بچے کی دہائیوں پُرانی پالیسی ختم کرتے ہوئے جوڑوں کو 2 بچوں کی اجازت دے دی تھی۔

تاہم اس پالیسی کے متوقع نتائج نہیں ملے کیونکہ چین کے کئی شہروں میں بچوں کی پرورش کے اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے کئی جوڑے اولاد پیدا نہیں کرتے۔

نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ‘پیدائش کی پالیسی کو مزید بہتر بنانے کے لیے چین، ایک جوڑے کو 3 بچوں کی اجازت دینے کی پالیسی پر عملدرآمد کرے گا’۔

رپورٹ کے مطابق پالیسی میں تبدیلی کے ساتھ معاونتی اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے جس سے ملک کی آبادی کے ڈھانچے کو بہتر بنانے، عمر رسیدہ افراد کے معاملے سے فعال طور پر نمٹنے کی حکمت عملی کو پورا کرنے اور انسانی وسائل کے فوائد کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔