برلن میں مسلمان، عیسائیوں اور یہودیوں کے مشترکہ مرکز کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

242

مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے ایک گروپ نے جرمن دارالحکومت میں بین المذاہب مکالمے کی علامت کے طور پر ایک عمارت کا سنگ بنیاد رکھا ہے جس میں تینوں مذاہب کے افراد عبادت کر سکیں گے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس منصوبے کے بانی غزہ میں اسرائیل کے حملوں پر برلن میں ہونے والے مظاہروں اور ایک ایسے وقت میں جب سیاستدان جرمنی میں یہودی مخالف جذبات کے فروغ کا انتباہ دے رہے ہیں، اس طرح کا اقدام مذاکرات کے لیے امید کی کرن ہے۔

برلن کے میئر مائیکل مولر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہم ہے کہ جرمنی کے دارالحکومت میں ڈرامائی عالمی تنازعات پر بات کی جا سکے اور لوگوں کے پاس اپنے ممالک میں موجود مسائل کو اجاگر اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کا ایک پلیٹ فارم موجود ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نفرت اور تشدد، یہود دشمنی اور اسلامو فوبیا، نسل پرستی اور اشتعال انگیزی کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

ایک بلند چکور ٹاور کی حامل اس عمارت میں عبادات کے لیے لگ کمرے اور ملاقات کے لیے مشترکہ جگہ شامل ہو گی۔