نجات پانے کے اہل فلسطینی

247

مظلوم فلسطینیوں کے خلاف صیہونی جارحیت کا ایک اور خونی باب گیارہ روز تک فلسطینی خون کی ہولی کھیلنے کے بعد ۱۲ مئی کی صبح بند ہوگیا!
تاریخ پڑھنے والے جانتے ہیں کہ منگول صحرائے گوبی سے نکلے تو آندھی طوفان بن کر دنیا پر چھاگئے۔ جس سرعت سے منگولوں نے فتوحات کیں وہ اپنی جگہ تاریخ میں بیمثال ہے لیکن ایک اور مثال جو منگولوں نے اپنے قائد چنگیز خان کی قیادت میں قائم کی وہ درندگی تھی جس میں مظلوموں اور بے گناہوں کا خون بہانا منگول فاتحین کا پسندیدہ مشغلہ تھا!
ایک اور شغل جو چنگیز کو بہت پسند تھا وہ اپنے مفتوحہ شہروں میں مقتولین کے سروں اور کھوپڑیوں کے مینار بناتاتھا۔ تاریخ کے صفحات سرخ و سیاہ ہیں ان شہروں کی تباہی اور بربادی کے احوال سے جو چنگیز خان کے ٹڈی دل لشکروں کی خون آشامی کے شکار ہوئے جن میں اس دور کے معروف اسلامی شہر، سمرقند و بخارا اور خوارزم شامل ہیں جہاں چنگیز نے مسلمان شہریوں کی کھوپڑیوں کے مینار بنائے اور شہر کے گلی کوچوں میں خون کی ندیاں بہائیں!
تیرہویں صدی میں چنگیز اور ہلاکو کے ہاتھوں مسلم ریاستوں اور شہروں کی تباہی کی داستانیں آج بھی پڑھنے اور سوچنے والوں کو خون کے آنسو رلاتی ہیں لیکن اسرائیل کی صیہونی ریاست کے قائم ہونے سے پہلے ہم نے جوواقعات صرف پڑھے تھے وہ اس ریاست نے اپنی خون آشامی سے ہمیں آنکھوں سے دکھادئے!
چنگیز کو مظلوم شہریوں کی کھوپڑیوں کے مینار مرغوب تھے اور اسرائیل کے بارہ سال سے وزیرِ اعظم چلے آنے والے بن یامین نیتن یاہو کو فلسطینیوں کے گھر مسمار کرنے اور انہیں ملبے کے ڈھیر بنانے کا شوق بلکہ جنون ہے۔ اپنے دورِ حکومت میں وہ تین بار غزٌہ کے خلاف جارحیت کے مرتکب ہوچکے ہیں۔ وہ فلسطینی کھوپڑیوں کے مینار بھی بنالیتے اگر بنا سکتے لیکن آج کل جنگ جن ہتھیاروں اور اسلحہ کی مدد سے لڑی جاتی ہے اس میں کھوپڑیاں بچتی ہی نہیں جو ان کے مینار بنائے جاسکیں۔ خیر تو اس کا نعم البدل انہوں نے یہ نکالا ہے کہ مظلوموں کے گھروں پر راکٹ ایسے بیچ رات میں مارے جاتے ہیں جب گھر والے سوئے ہوئے ہوتے ہیں تو پورا کنبہ ایک ہی وقت میں ختم ہوجاتا ہے۔!
اس بار بھی یہی ہوا کہ غزٌہ کے ایک گھر میں اس کنبے کے دس افراد، جن میں سات بچے شامل تھے، ایک حملے میں موت کی گود میں سوگئے کیونکہ ان کے گھر پہ راکٹ نصف شب کے بعد مارا گیا تھا۔
گھروں کو نشانہ بنانا نہ قدیم زمانے میں تہذیب کی علامت تھا اور نہ ہی آج کے جنگی قوانین میں، جو جنیوا قوانین کہلائے جاتے ہیں، ایسی کوئی گنجائش ہے۔ لیکن اوٌل تو صیہونی ریاست کی یہ شان ہے کہ وہ کسی قانون کو نہیں مانتی اور ایسے قوانین کو تو بطورِ خاص خاطر میں نہیں لاتی جو اس کے جنگی جنون کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔ اطمینان اسے یہ رہتا ہے کہ اس کے مغربی حلیف اور سرپرست، جن میں امریکہ جیسی سپر پاور سرِ فہرست ہے، اس پر نہ کوئی آنچ آنے دینگے اور نہ ہی اس کی خون آشامی کی لت پر کوئی قدغن لگنے دینگے! اس کا ثبوت بھی اس گیارہ روزہ جنگی جارحیت کے دوران مل گیا جب امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو ہلنے کی اجازت نہیں دی۔ چار اجلاس ہوئے سلامتی کونسل کے لیکن اسرائیل کی مذمت میں کوئی قرارداد منظور کرنا تو کجا امریکہ بہادر نے کونسل کو کوئی بے ضرر بیان دینے سے بھی محروم رکھا۔ جس سے یہ یاد آگیا کہ اسرائیل پر سات خون معاف ہیں۔ اور یہ اس صدر کے دور میں ہوا جو اپنی انتخابی مہم میں بار بار دعوی کرتے تھے کہ انسانی حقوق کی پاسداری ان کی اولین ترجیح ہوگی!
اگر کسی کو بھی آج سے پہلے اس قول کی صداقت میں شبہ تھا کہ سیاستدانوں کی لغت میں فریب دینا اور جھوٹ بولنا کوئی گناہ نہیں ہوتا تو یقین ہے کہ اب انکل سام کی اس تازہ ترین مثال نے ان کے سارے شبہات دور کردئے ہونگے!
انکل سام کی غیر مشروط حمایت کے علاوہ ہمارے دور کے چنگیزِ ثانی کے پاس معصوم فلسطینیوں کا خون بے بہا بہانے کا ایک اور جوازیہ ہے کہ ان کی دانست میں ہر فلسطینی دہشت گرد ہے جبکہ اپنے افعال کی بنیاد پر صیہونی ریاست دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد ہے لیکن مجال ہے کسی کی جو یہ کہہ سکے کیونکہ مغربی حکومتوں کے ساتھ ساتھ مغرب کا بظاہر آزاد اور اپنے منہ میاں مٹھو غیر جانبدار نیوز میڈیا یک زبان ہوکر اسرائیل کی حمایت میں کھڑا ہوجاتا ہے!
ہمارے پاکستان کے وزیرِ خا رجہ شاہ محمود قریشی نے ابھی دو روز پہلے اقوامِ متحدہ میں فلسطینی مظلوموں کی حمایت میں جو پُر زور کردار ادا کیا اس کے بعد وہ صیہونیت کے حمایتیوں کی نظروں میں کھٹکنے لگے تھے اور اس کے فوری بعد جس جارحانہ انداز میں سی این این نیوز کی ایک خاتون اینکر نے ان کے ساتھ کھلی بد دیانتی کا ثبوت دیا اور ان پر صیہونی مخالف ہونے کا الزام عائد کیا اس سے تو شاہ صاحب کے اس موقف کی بھرپور تائید ہوگئی کہ صیہونی دولت کی افراط نے مغربی دنیا کے نیوز میڈیا اور ضمیر تھوک کے بھاوٗ سے خریدے ہوئے ہیں!
غزٌہ دنیا کا سب سے بڑا بے چھت کا قید خانہ ہے۔ اس کا رقبہ ڈیٹرائٹ شہر سے بھی کم ہے جس میں بیس لاکھ مظلوم فلسطینی اسرائیل کی قید میں رہنے پر مجبور ہیں لیکن ان کے خلاف اسرائیل نے ہمارے دور کی تاریخ کا بدترین حصار گذشتہ پندرہ برس سے رکھا ہوا ہے۔ ایسی پابندیاں ہیں کہ سات برس پہلے جب نیتن یاہو نے اسی طرح غزٌہ پہ یلغار کرکے1500 سے زائد فلسطینی ہلاک کردئے تھے اور ہزاروں مکانات ایسے ہی مسمار کئے گئے تھے جیسے اس بار ہوئے ہیں، اس بربادی اور تباہی کے بعد غزٌہ کی مسمار شدہ عمارتوں کو پھر سے تعمیر کرنے کیلئے تعمیراتی خام مال لانے کی اجازت اسرائیل نہیں دیتا۔
غزٌہ کا ہوائی اڈہ اسرائیل نے بموں سے اڑادیا، جو برسوں پہلے کا کارنامہ ہے، غزٌہ کی بندرگاہ سے فلسطینی ماہی گیر مچھلی پکڑنے کیلئے کھلے سمندر میں نہیں جاسکتے کیونکہ اس سے اسرائیل کے خیال میں اس کی سلامتی خطرہ میں پڑسکتی ہے۔
اس بار بھی غزٌہ پر جارحیت کیلئے یہ جواز نکالا گیا کہ غزٌہ پر حکمراں فلسطینی جماعت حماس نے اسرائیل پر راکٹ فائر کرنے کی جسارت کی تھی جس کے جواب میں اسرائیل کے رہنما چنگیز ثانی نے اسے اور محصور فلسطینیوں کو ایک اور سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ ویسے بھی وہ جب پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں، جیسے کہ ان دنوں ہیں کیونکہ ان کے خلاف کرپشن کے ناقابلِ تردید الزامات ہیں جو انہیں جیل کی ہوا کھلا سکتے ہیں اگر وہ وزیرِ اعظم نہ رہیں اور چار عام انتخابات کے باوجود وہ ابتک اپنی کوئی مستقل حکومت بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ عبوری وزیرِ اعظم ہیں وہ لیکن وہ اس پل صراط کو مظلوم فلسطینیوں کے خون سے رنگنے کے بعد پار کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن اس بار فلسطینیوں کے جذبۂ حریت نے انہیں اور ان کے حمایتیوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلادیا ہے!
مانا کہ نیتن یاہو کو فلسطینیوں کے لہو کی جو پیاس ہے اسے انہوں نے گیارہ دن کی جارحیت میں کم از کم240 فلسطینیوں کی ہلاکت سے بجھایا جس میں 66بچے اور83 خواتین شامل ہیں۔ گویا نصف کے قریب مرنے والے حماس کے مجاہدین یا بقول نیتن یاہو دہشت گرد نہیں تھے بلکہ معصوم بچے اور عورتیں تھیں لیکن چنگیز کی طرح اس کے جدید جانشین بھی اپنی لہو کی پیاس بجھانے میں نہ مسجدوں کا احترام گردانتے ہیں نہ بچوں کے اسکول اور ہسپتال ان کے نزدیک مقدس ہیں۔ ایک بے مست ہاتھی جب چلتا ہے تو جو اس کے راستے میں آجائے روند دیا جاتا ہے!
یہ سب کچھ ہوا لیکن حماس کے بے خوف اور دلیر مجاہدوں نے اسرائیل کے اس دعوی کی قلعی اتاردی کہ وہ اتنا طاقتور ہے اور اس کا دفاعی نظام ایسا مضبوط ہے کہ فلسطینی اس کا بال بھی بانکا نہیں کرسکتے! حماس کے داغے ہوئے راکٹ چاہے مغربی تبصرہ نگاروں اور اسرائیل کے دفاعی ماہرین کے نزدیک پٹاخے ہوں لیکن ان پٹاخوں نے اسرائیل کے شہروں میں، جن میں تل ابیب بھی شامل ہے، ایسی تباہی مچائی کہ اسرائیل اور نیتن یاہو کے ہوش ٹھکانے آگئے اور یہ دعوی باطل ٹہرا کہ فلسطینی کیڑے مکوڑوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔
غزٌہ کے حریت پسند فلسطینی مجاہدوں نے اپنے لہو سے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے اور چاہے بائیڈن انتظامیہ کی طرح دیگر مغربی حکومتوں کے ضمیر بھی سوئے رہے ہوں لیکن مغربی ممالک کے عوام اپنی آنکھوں سے اسرائیلی بربریت کے مظاہرے دیکھنے کے بعد بے چین ہوگئے۔ ان کے ضمیر جاگ گئے اور اس کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ سڈنی، آسٹریلیا سے لیکر نیویارک تک فلسطینی مظلوموں کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کی بھرپور اور بہ بانگِ دہل مذمت میں ہزاروں شہریوں نے جلوس نکالے، اس کے باوجود کہ ان ممالک سے کرونا کی وبا اب تک ٹلی نہیں ہے لیکن بیدار ضمیر مجبوریاں تلاش نہیں کرتے اور نہ ہی حیلے بہانے اختیار کرتے ہیں۔!
فلسطینی حریت پرستوں کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے جہاں اپنے زندہ اور بیدار ہونے کا ناقابلِ تردید تاریخ لکھی وہیں دنیا بھر کے اصول پسند اور انسانی حقوق کی دل سے حمایت اور دفاع کرنے والے لوگوں کی نظروں میں اسرائیلی جارحیت اور چنگیزی خصلت کو بری طرح سے بے نقاب کردیا۔ یہ نہ ہوتا تو جو بائیڈن صاحب کہاں اسرائیل کے چنگیز پر دباؤ ڈالنے کی ہمت کرتے کہ بس بہت لہو کی ہولی کھیل چکے۔ اس خون آشامی کو یہیں ختم کردو!
فلسطینی مجاہدوں نے دنیا بھر کے مظلوموں اور اپنے جائز حقوق کیلئے جدٌ و جہد کرنے والوں کو یہ بھی نیا سبق دیا ہے، اور ہمارے کشمیری بھائیوں کو بطورِ خاص اس پر توجہ دینا چاہئے، کہ اپنے حقوق لینے ہیں تو بھیک مت مانگو، وہ نیتن یاہو ہو یا نریندر مودی، ہر ظالم کی سرشت میں بیگناہوں کا خون بہانا ہے لیکن اس کے ہوش ٹھکانے لگانے کا طریقہ اس سے التجا میں نہیں ہے بلکہ اپنی قوتِ بازو سے اس کیلئے ایسی صورتِ حال پیدا کرنے میں ہے جس سے مجبور ہوکر وہ ظلم سے باز آجائے!
فلسطینیوں کو اسرائیلی بربریت اور غلامی سے نجات حاصل کرنے میں ابھی کتنا وقت اور درکار ہوگا اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔ طاغوت اسرائیل کا بڑا حمایتی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں لیکن طاغوت کی دیوار میں دراڑ پڑچکی ہے اور یہ کارنامہ سر انجام دینے والے وہ فلسطینی مجاہد ہیں جن کے خون سے چنگیزِ ثانی نے حالیہ جارحیت میں ہولی کھیلی ہے، یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا اسلئے کہ مشیت کی اپنی تاریخ یہ ہے کہ وہ ظالم کی رسی کو ایک حد تک دراز ہونے دیتی ہے اور پھر ایک ہی جھٹکے میں ہر ظالم کا وہی انجام ہوتا ہے جو قومِ موسیٰ کو ہراساں کرنے والے فرعون کا ہوا تھا۔ اسرائیل کے چنگیزِ ثانی کو یہ یاد رکھنا چاہئے اور اس کے یارِ غار نریندر مودی کو بھی!