جمہوریت کی بخشش!

234

ہندوستان کے راجہ کبھی ہندوستان سے باہر حملہ آور نہیں ہوئے، اشوک اور چندرگپت کی حکومتیں بھی اس سے ماورا نہ تھیں، فلپ مورس لکھتا ہے کہ ہندوستان کے لوگ سبزیاں کھاتے تھے اس لئے ان میں وہ وحشت نہ تھی جو ان قوموں میں تھی جو گوشت کھاتے تھے ایک اور وجہ یہ بھی تھی اور وہ یہ کہ ہندوستان کا موسم گرم مرطوب تھا زمین زرخیز تھی جنگلات کی بہتات اور پانی کی فراوانی، ان تمام قدرتی وسائل نے زندگی آسان بنا دی تھی اور یہ بھی تھا کہ ہندوستان میں ہندو مت کے ذات پات کے نظام میں لڑنے والی ایک ہی ذات تھی، لہٰذا کسی سورما نے ہندوستان سے باہر کبھی نہیں جھانکا، اس کے امکانات کم ہیں کہ ہندوستان کے راجائوں کو اپنے پڑوس کی سخت زندگی کا اندازہ ہو گیا ہو اور وہ ہندوستان سے باہر جانے اور حملہ کرنے سے کتراتے ہوں اور یہ بھی تو تھا کہ مذہبی طور پر ہندوستان سے باہر جانا گناہ تصور کیا جاتا تھا، بہرحال حقیقت یہی ہے کہ ہندوستان کا کوئی حکمران ہندوستان سے باہر نہیں نکلا، اور یہ بھی سچ ہے کہ محمد بن قاسم کے بعد ہی بیرونی حملہ آوروں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا اور یہ سب حملہ آور سخت زندگی کے عادی تھے سخت جان تھے اور فن حرب میں طاق، اور ہندوستان والے اس سے ناآشنا ، سو کم ہی ہوا کہ کوئی حملہ آور ناکام ہوا، غوری، غزنوی، خلجی ،لودھی سب کے سب افغانستان سے ہزاروں کی تعداد میں حملہ آور ہوئے اور لاکھوں پر بھاری پڑے، ہندوستان میں لڑنے والے راجپوت تھے یا مرہٹے، مغل ہندوستان آئے تو ہندوستان کے ہی ہو رہے، پلٹ کر کبھی باہر حملہ آور نہیں ہوئے، خلاصہ یہ کہ ہندوستان باقی دنیا سے کٹا رہا، اکا دکا کوئی سیاح نکل آیا اس طرف اور اس نے ہندوستان کے بارے میں رنگین داستانیں دنیا کو سنا دیں اور ساری دنیا کی رال ٹپک پڑی ایک بہت کمزور ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے بارہ سو ملازمین نے قبضہ جما لیا اور پورے ہندوستان کو سانپ سونگھ گیا، دو چار ہفتوں کی ایک چھوٹی سی فوجی بغاوت جس کو انگریزوں نے غدر کہا اور ہم اسے جنگ آزادی کہتے ہیں آسانی سے دبا دی گئی۔
اب اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ہندوستان جو تعلیم و ہنر سے نابلد انگریز اس کے لئے جمہوریت سیاسی جماعتیں اور سیاسی نظام اٹھا لائے میں نے دیہات کے لوگوں کو ٹرانزسٹر کو الٹتے پلٹتے دیکھا ہے اور یہ سوال کرتے ہوئے کہ آواز کہاں سے آرہی ہے اور اس چھوٹے سے ڈبے کے اندر بیٹھا کون ہے، ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں جمہوریت جیسا نادر فلسفہء حیات دے دیا گیا اور ظاہر ہے کہ انہوں نے جمہوریت کی جم کر ریڑھ لگائی، آج بھی پاکستان اور ہندوستان کے لوگوں سے پوچھ لیں کہ جمہوریت کا فلسفہ کس نے دیا تو لوگ آپ کا منہ تکیں گے، ہندوستان میں انگریز کا گریٹ گیم جمہوریت کے نظام کو جہالت کے سپرد کر دینا تھا اور یہ کامیاب رہا، نو آبادیات میں یہ گیم ہر جگہ کھیلا گیا کہیں بھی کوئی سازش نہیں ہوئی اور سادہ سا اصول ہے کہ سازش وہاں ہوتی ہے جہاں سازش کو سمجھنے والا کوئی نہ ہو اور عقل کی کمی ہو سو اس الزام کو اپنے سر پر ہی مار لینا چاہیے، نو آبادیات جب آزاد ہوئیں تو ان میں جاگیرداری نظام رائج تھا فیوڈلز نے مولوی کے ساتھ مل کر جمہوریت کو عوام کے خلاف استعمال کیا ،وہ عوام جن کو اپنے جمہوری کردار اور اپنے حقوق کا ادراک ہی نہ تھا، تقسیم کے بعد پاکستان کی نوکر شاہی بے لگام ہو گئی اور عوام کو کیا خبر کہ یہ کیا ہورہا ہے اور پاکستان گیارہ سال تک سرزمین بے آئین کہلایا، بھلا کسی با شعور ملک میں ایسا ہوا ہے؟ بھارت نے نوکر شاہی کو لگام ڈال کر اور جاگیرداری نظام ختم کر کے بھارت کو بہت سے بحرانوں سے بچا لیا، اور پاکستان یہ نہ کر سکا اور مغرب کے ہاتھوں میں چند سکوں کی امداد کے عوض کھلونا بنا رہا، اس کی فوج نے تین بار کشمیر اپنے ہاتھوں سے گرایا اور وہ مشرقِ وسطیٰ جو USSRکے ساتھ مل کر چل رہا تھا اس کے تمام مفادات کو پائوں تلے روند کر فلسطین کی تحریک کو کچل دیا جنرل ضیاء جو ایوب دور میں بریگیڈیئر ضیاء تھا پاکستان کی کرائے کی فوج کو استعمال کرتے ہوئے 37ہزار فلسطینی مجاہد تہہ تیغ کر ڈالے اور ان اقدام نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کی بساط پلٹ دی، اگر اس وقت فلسطینی ریاست جو اپنی تکمیل کے مراحل میں تھی کامیاب ہو جاتی تو مشرقِ وسطیٰ میں وہ نہ ہوتا جو ہوا، یہ بلواسطہ اسرائیل کو ایک نئی زندگی دینے کے متراداف تھی، اسلام سے نماز، روزہ اور دعا نکال کر مسلمانوں کو پکڑا دی گئی اور اب یہ ناہنجار قوم مولوی کے کہنے پر مذمتوں، قراردادوں، جلسوں اور جلوسوں سے کشمیر اور فلسطین آزاد کرانے چلی ہے، اس وقت فلسطینیوں کااتنی بڑی تعداد میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں قتل بڑا سانحہ تھا جس نے مشرق وسطیٰ میں دو بادشاہوں کو بچا لیا اور اب میرا ملک ان کی چوکھٹ پر سجدہ ریز رہتا ہے۔
اسلام کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں، پوری مسلم تاریخ میں فردِ واحد کاحکم چلتا رہا اور تلوار بھی مگر مکار مولویوں نے اسلام سے جمہوریت نکال لی، اسی طرح یہ فتویٰ بھی آیا کہ اسلام سرمایہ داری سے قریب ہے یہ فتویٰ امریکہ کو خوش کرنے کے لئے دیا ہے ان مفتیوں میں مودودی بھی شامل تھے، اس فتویٰ سے جاگیرداروں کے دل کی مراد پوری ہو گئی، اور جاگیرداری مشرف بہ اسلام ہو گئی، اس کے بعد جاگیردار، ملا اور فوج نے مل کر جو اس قوم کے ساتھ کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، اسی ٹرائیکا نے اس ملک میں نہ آئین چلنے دیا، نہ سیاسی جماعتیں اور نہ ہی کوئی نظام، اسلام، کشمیر اور فلسطین قوم کے پائوں سے باندھ دئیے ہیں، اور اسلام سے نماز، دعا اور روزے نکال کر دئیے ہیں ،جمہوریت ہمیشہ عوام کی مادی فلاح و بہبود کے لئے ہوتی ہے عوام کے معاشی قتل کے لئے نہیں، جمہوریت میں دوسری قوموں کے مستقبل سے بھی نہیں کھیلا جاتا، اس ملک نے فوج کی وجہ سے اپنے راستے کا تعین کبھی نہیں کیا، اب سارا نظام ان کے چشمِ ابرو کے اشارے پر چلتا ہے نہ نظام، نہ آئین، نہ عدلیہ نہ ادارے سب تباہ ہو چکے ہیں، یہ جن کو نکالتے ہیں ان کو دوسری باری اپنی شرائط پر دیتے ہیں یہ میوزیکل چیئر گزشتہ چالیس سالوں سے جاری ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عالمی طاقتوں کی طرف سے یہ کام فوج کے سپرد کیا گیا ہے جو بڑی تندہی سے کیا جارہا ہے۔