شہباز شریف کی پاکستان سے فرار کی کوشش ،پنجاب کا عدالتی نظام متنازعہ ہو گیا ہے!

274

پاکستان کا عدالتی نظام شاید دنیا کے کمزور ترین ملکوں کی صف میں شامل ہے۔ دنیا کے 166ملکوں کے عدالتی نظاموں کی فہرست میں جس میں شفافیت اور انصاف کے معیار کو پرکھا جاتا ہے پاکستان صرف ۴ ملکوں سے اوپر ہے۔ شائددنیائے انصاف کے معیار پر پاکستان کا عدالتی نظام کرپشن، پسند، ناپسند، سفارش اور ذاتیات پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستان میں اس کی بہت سی مثالیں ریکارڈ پر موجود ہیں ۔جسٹس قیوم کی شہباز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو، سجاد علی شاہ کی نواز شریف کے خلاف کارروائی، جسٹس اجمل کی اپنے ہی چیف جسٹس کے خلاف گروپ بنا کر مشترکہ کارروائی ۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کے ذاتی پسند اورناپسند کے فیصلے۔ سوموٹو ایکشن، نواز شریف کو قیدی ہونے کے باوجود بیرون ملک جانے کی اجازت دینا جس میں کوئی بھی زرِ ضمانت شامل نہ تھی۔ سزا یافتہ مجرمہ نانی مریم صفدر کی ضمانت پر رہائی، آصف علی زرداری کو واپس جیل سے نکال کر کراچی ضمانت پر بھیجنا وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا میں انصاف، انصاف کے معیار کو دیکھ کر کیا جاتا ہے یہاں پر انصاف مال، اپوزیشن اور چہرہ دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ انصاف نام کی کوئی چیز پاکستان میں بہت کم ہے۔ پنجاب اور سندھ پاکستان کے دو صوبے ایسے ہیں جہاں انصاف بکتا ہے یا انصاف خریدا جاتا ہے۔ ایک اور تازہ ترین مثال سپریم کورٹ کا فیصلہ جو قاضی فائز عیسیٰ کے کیس میں سامنے آیا۔ دو جج اپنے ہی دئیے ہوئے فیصلہ سے مکر گئے اور اپنی ہی انکوائری جو FBRسے کروائی گئی تھی واپس لے لی۔ سرینا عیسیٰ کے آنسوئوں نے انصاف کو چیر پھاڑ ڈالا اور انصاف کی دھجیاں اڑا دیں۔ ججوں نے انصاف نہیں کیا بلکہ دوستی کا حق فائز عیسیٰ کے کیس میں ادا کر دیا۔
بات ہورہی تھی پنجاب کے کرپٹ ترین وزیراعلیٰ شوباز شریف کے عدالتی فیصلے کی جو جسٹس باقر علی نجفی کی عدالت میں چلایا گیا یہ وہی جسٹس باقر علی نجفی ہیں جنہوں نے نواز شریف کو بغیر زرِ ضمانت کے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی اور نواز شریف جو بستر مرگ پر تھا اس کا ڈاکٹر کہہ رہا تھا کہ آج مرا کہ کل مرا وہ دوڑتا ہوا قطر کے جہاز پر چڑھ گیا اور پاکستانی قوم اور حکومت کو انگوٹھا دکھاتے ہوئے برگر کھانے لندن پہنچ گیا۔ پوری دنیا کا عدالتی نظام ہنس رہا تھا کہ ایک سزا یافتہ مجرم عدالت سے ہی رہائی پا کر ملک سے باہر چلا گیا۔ شہباز شریف نے اس کی ضمانت دی تھی۔ اب وہی شہباز شریف ۷ مئی کو ملک سے بھاگ رہا تھا۔ اس کو باہر جانے کی اجازت بھی یہی جسٹس باقر علی نجفی نے دی تھی جس نے نواز شریف کو ملک سے باہر جانے دیا یہ وہی جسٹس باقر علی نجفی ہیں جنہوں نے سانحہ ماڈل ٹائون کی انکوائری مکمل کی تھی پھر وقت اور حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ اسی جسٹس باقر علی نجفی نے پورے شریف خاندان کے حق میں فیصلے دئیے۔ اگر آپ کو یاد ہو نواز شریف کو سزا سنانے والے نیب کے جج ارشد ملک کی کیسی کیسی ویڈیوز سامنے آئیں۔ سعودی عرب میں ارشد ملک نے نواز شریف کے بیٹے سے کیوں ملاقات کی تھی۔ ارشد ملک کو کس طرح بلیک میل کیا گیا۔ نانی مریم صفدر نے کس طرح حکومت کو بلیک مل کرنے کی کوشش کی۔
جسٹس باقر علی نجفی کی عدالت میں ۷ مئی کوصبح کیس فائل کیا گیا۔ رجسٹرار آفس کا اعتراض عدالت نے مستردکر دیا۔ نیب فریق تھی۔ اس کو نوٹس نہیں دیا گیا۔ ۱۲ بجے کارروائی شروع ہوئی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل کو زبردستی حکومت سے احکامات لینے کا کہا گیا۔ دو بجے ڈپٹی اٹارنی جنرل کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے بغیر کسی زر ضمانت کے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ پانچ بجے کورٹ کا آرڈر تھما یا گیا شہباز شریف جس کو پتہ تھا کہ اس کو باہر جانے کی اجازت ضرور دی جائے گی۔ اس نے پہلے سے سیٹ بک کروائی ہوئی تھی۔ وہ کورٹ کا آرڈر لیکر اپنے سامان سمیت ایئرپورٹ پہنچ گیا لیکن حکومت نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئی تھیں PNIL کی لسٹ کا سہارا لیکر ان کو ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا گیا۔
اس آرڈر کے خلاف وزارت داخلہ نے سپریم کورٹ میں اپیل کی جسٹس اعجاز الحسن کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے جس میں جسٹس سجاد علی شاہ شامل تھے 25مئی کو اس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید نے بھرپور دلائل دئیے بغیر نیب کو سنے اور بغیر ڈیوکورس ایک دن ہی میں فیصلہ دے دیا۔ شاید شہباز شریف کے چہرے اور ہاتھ میں چمک کچھ زیادہ ہی ہے۔ میں یہ لفظ مرحومہ بے نظیر بھٹو کے لکھ رہا ہوں جو انہوں نے نواز شریف کے لئے کہا تھا۔ سپریم کورٹ کے دونوں معزز جج حیران رہ گئے۔ کس طرح بغیر نیب کو سنے اور قواعد و ضوابط کی خلاف وزری کرتے ہوئے شہباز شریف کو باہر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ پاکستان میں ایسے بہت سے فیصلے ہوتے ہیں جس میں خود پاکستان کے اعلیٰ جج نہیں دنیا کے انصاف کے ادارے بھی حیران رہ جاے ہیں۔
دونوں معزز ججوں نے اٹارنی جنرل خالد جاوید کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ سے اس مقدمہ کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے اور اگلی سماعت ۲ جون بروز بدھ مقررکی ہے۔ اگر آپ غور سے اس کیس اور شریف فیملی کے طریقہ واردات کا جائزہ لیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے پاکستان میں دو عدالتی نظام قائم ہیں ایک امیروں کیلئے دوسرا غریبوں کے لئے جو ساری عمر جیل میں سڑ گل کے مر جاتے ہیں لیکن ان کو انصاف نہیں ملتا ہے لیکن سزا یافتہ مجرم نواز شریف کورٹ سے اجازت لیکر برگر کھانے لندن پہنچ جاتا ہے۔ وہ وہاں پارکوں کی سیر کررہا ہے۔ گھوم رہا ہے اور پاکستانی عدالتی نظام کا مذاق اڑارہا ہے۔