النقبہ

269

گیارہ روز تک غزہ پر وحشیانہ بمباری کے باعث پڑنے والے عالمی دبائو کے بعد اسرائیلی کابینہ نے حماس کے ساتھ جنگ بندی کی منظوری دے دی کئی اسلامی اور مغربی ممالک کے اقدامات کے نتیجے میںہونیوالی جنگ بندی کا آغاز جمعہ کی رات دو بجے سے ہوامغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان مصالحتی کوششوں میں امریکہ‘ فرانس‘ سعودی عرب‘ مصر اور قطر نے کلیدی کردار ادا کیا اسرائیل کے بارے میں یہ بات ایک دنیا جانتی ہے کہ وہ جس ملک کی بات کو نظر انداز نہیں کر سکتا اسکا نام امریکہ ہے واشنگٹن ہر سال صیہونی ریاست کو 3.8 بلین ڈالر کی عسکری امداد دیتا ہے جو F-16 طیارے اسرائیل نے غزہ پر سو سے زیادہ فضائی حملوں میں استعمال کئے وہ امریکہ ہی کے دئے ہوے ہیںامریکی اخبارات میں صدر بائیڈن اور بنجا مین نیتن یاہو کی دو مرتبہ فون پر ہونیوالی گفتگو کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے ان خبروں کا لب لباب یہ ہے کہ صدر بائیدن نے بمشکل تمام اسرائیلی وزیر اعظم کو جنگ بندی پر راضی کیا ہے امریکی صدر نے اسلئے نیتن یاہو کو مجبور کیا کہ ان پر ڈیموکریٹک پارٹی کے پروگریسیو حلقے کے علاوہ فرانس اور جرمنی کے سربراہوں کا بھی دبائو تھا فرانس کے صدر ایمنول میکرون نے گذشتہ دو سالوں سے فرانسیسی مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے وہ آئے روز نت نئے قوانین بنا کر مسلمانوں کے مصائب میں اضافہ کرتے رہتے ہیںجرمنی نے عراق ‘ شام اور افغانستان جنگوں کے بعد ایک ملین مسلمان مہاجرین کو پناہ دی تھی جرمن وائس چانسلرانجیلا مرکل کو بھی اب مہاجرین کی مزاحمت اور مظاہروں کا خدشہ لگا رہتا ہے اسرائیل کی ضد‘ ہٹ دھرمی ‘ وحشت اور تکبر و استکبار کے باوجود بلاآخر غزہ کے آسمان سے آتش و آہن برسنا بند ہو گئے فیض نے انہی درد ناک لمحوں کے بارے میں کہا ہے
تھم گیا شور ِجنوںختم ہوئی بارش ِسنگ
خاکِ راہ آج لئے ہے لبِ دلدار کا رنگ
کوئے جاناں میں کھلا اپنے لہو کا پرچم
دیکھئے دیتے ہیں کس کس کو صدا میرے بعد!
اسرائیل اور حماس کی گذشتہ تیرہ برسوں میں اس تیسری خوفناک جنگ کو ایک بڑی تباہی کے بعد بند کرانے میں مغربی ممالک کے مفادات اور مسائل تو سامنے کی بات ہیں مگر اس سیز فائر میںجس ملک نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے اسکی چالاکی اور مکاری نہ جانے کب طشت از بام ہو گی اس ملک کا نام مصر ہے اسرائیل اور امریکہ کے علاوہ حماس بھی اسکی مصالحتی کو ششوں پر انحصار کرتی ہے مصر ہی وہ ملک ہے جس نے اسرائیل کیساتھ ملکر صحرائے سینا میں غازہ کا محاصرہ کیا ہوا ہے حماس نے جنگ بندی کے اعلان میں مصر کی کوششوں کا اعتراف کیا ہے مصر اور غزہ کے درمیان جو Crossing Point یا آمدو رفت کا علاقہ ہے اسے رفاہ بارڈر کہا جاتا ہے اسرائیل اور مصر کے درمیان 1979 میں جو امن معاہدہ ہوا تھااسکے بعد 1982 میں اسرائیل نے صحرائے سینا سے انخلا کر کے اسکے مقبوضہ علاقے مصر کی تحویل میں دے دئے تھے اس معاہدے کی رو سے مصر نے سو میٹر طویل رفاہ بارڈرکی کڑی نگرانی کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور امریکہ اور اسرائیل کو یقین دلایا تھا کہ اس بارڈر کراسنگ سے صرف لوگوں کی آمدو رفت کی اجازت دی جائیگی اور غازہ میں اسلحے کی سپلائی کو سختی سے کنٹرول کیا جائیگا اس پہرے داری کے عوض امریکہ ہر سال مصر کو 1.2 بلین ڈالر کی عسکری اور اقتصادی امداد دے گا حسنی مبارک کے بتیس سالہ دور آمریت اور آجکل جنرل فتح السیسی کے مارشل لاء میں مصر نے یہ نوکری بڑی تابعداری اور فرمانبرداری سے کی مگر 2012 میں صدر محمد مورسی نے غازہ کے محاصرے میں خاصی نرمی برتی جسکے نتیجے میں لبنان سے ایران کے بھیجے ہوے میزائل اور راکٹ ایک بڑی تعداد میں غازہ پہنچنے لگے حماس نے اسرائیل کیساتھ 2014 کی جنگ میں ان میزائلوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کر کے دشمنوں کو خوفزدہ کر دیا تھا انہی دنوں جب حماس کے انقلابی لیڈر خالد مشال نے قاہرہ کا فاتحانہ دورہ کیا تو واشنگٹن اور تل ابیب کی قیادتوں کے پسینے چھوٹ گئے تھے انہیں مصر ہاتھ سے نکلتا ہوا نظر آنے لگا اسکے بعد محمد مورسی اور اسکے خاندان کو فتح السیسی نے جس عبرت ناک انجام سے دوچار کیا اسے اسلئے صیغہ راز میں نہیں رکھا گیا کہ پورے مشرق وسطیٰ میں اخوان المسلمون کے حمایتی اس سے سبق حاصل کریں اور اسرائیلی مفادات کو زک پہنچانے کا تصور بھی نہ کریں اس معاملے میں اہم بات یہ ہے کہ اگر اسرائیل کو رفاہ بارڈر کی نگرانی خود کرنا پڑ جائے تو اسے اس جگہ ہزاروں فوجی تعینات کرنے کے بعد ان پر ہر سال اربوں ڈالر بھی خرچ کرنا پڑیں گے یہ ملازمت مصر گذشتہ انتالیس برسوں سے نہایت سستے داموں کر رہا ہے جس دن مصر نے یہ نوکری کرنے سے انکار دیا اس دن مشرق وسطیٰ میں حقیقی عرب بہار آ جائیگی اسوقت تک بقول علامہ اقبال یہی کہا جا سکتا ہے کہ
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے!
مصر نہ صرف بڑی مستعدی سے یہ ملازمت کر رہا ہے بلکہ اسکے حکمرانوں کو اپنے مغربی مہربانوں سے اس تعلق پر فخر بھی ہے مصر کے مرد آہن فتح السیسی ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی دوستی کا ذکر بڑے فخر سے کرتے تھے
تھا جو نا خوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر!
بحیرہ روم کے کنارے پر آباد غزہ کی پٹی پچیس میل طویل اور7.5 میل چوڑی ہے اسرائیل اور مصر کے محاصرے کیوجہ سے بیس لاکھ لوگوں کا یہ شہر ایک فوجی کیمپ یا قید خانہ بن گیا ہے اسکی بجلی‘ پانی‘ گیس اور انٹرنیٹ کے نظام بھی ان دو غاصب ملکوں کے قبضے میں ہیںنیو یارک ٹائمز کے رپورٹر نے لکھا ہے The Gaza enclave was already suffering under the weight of an in definite blockade by Israel and Egypt even before the recent conflict یعنی غزہ کا محصور علاقہ اس جنگ سے پہلے ہی اسرائیل اور مصرکے غیر معینہ محاصرے کے بوجھ تلے کراہ رہا تھااس گیارہ روزہ جنگ نے غزہ کے مکینوں کی سوختہ سامانی میں کتنا اضافہ کیا ہے اور النقبہ کا ذکر فلسطین سے لیکر یورپ اور امریکہ تک کیوں ہو رہا ہے اسکا بیان اگلے کالم میں کیا جائیگا !!